لانگ مارچ اور پاکستانی سیاست

بنیادی سوال یہ ہی ہے کہ کیا عمران خان کا لانگ مارچ مطلوبہ نتائج دے سکے گا؟ اسی طرح کیا یہ لانگ مارچ  ٹکراؤ، انتشار، بدامنی اور پرتشدد عمل محفوظ رہے گا۔

اگر لانگ مارچ کے نام پر محاذآرائی، کشیدگی یا پرتشدد سیاست جنم لیتی ہے تو یقینی طور پر یہ جمہوریت اور ریاستی مفاد کے برعکس ہوگا۔ معاملات کو طے کرنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش پس پردہ بیٹھ کر ہوئی لیکن یہ کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ لانگ مارچ نہیں ہوگا مگر عمران خان نے 28اکتوبر کو لاہور لبرٹی مارکیٹ سے لانگ مارچ کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔ یہ لانگ مارچ 4نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا اور بنیادی مطالبہ نئے انتخابات کا اعلان اور نگران حکومت کی تشکیل ہے۔

عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ میں جو بھی تاخیر ہوئی ہے، اس کی ایک ہی بڑی وجہ تھی کہ پس پردہ بات چیت کا نتیجہ نہیں نکل سکا ۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مذاکرات کا عمل کچھ لو اور کچھ دو پر ختم ہوگا مگر ایسا نہیں ہوسکا اور اس کی وجہ مختلف سطح پر موجود فریقین کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی اور ٹکراؤ کا ماحول ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فریقین میں سب کے لیے قابل قبول مفاہمت کا راستہ سامنے نہیں آسکا ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان لانگ مارچ کرپائیں گے یا اپنے اہداف حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ہی سب سے بڑا سوال ہے۔ کیونکہ اسی برس 25مئی کے لانگ مارچ میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے اور نہ ہی بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکال سکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب جو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے، وہ تحریک انصاف اور عمران خان کی مستقبل کی سیاست کا بھی تعین کرے گا کہ عمران خان کہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے عوامی جلسے کیے ہیں۔ جولائی اور اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں حکمران اتحاد کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن کیا عمران خان کا لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ انہیں فائدہ پہنچا سکے گا؟

عمران خان کو 25مئی کے لانگ مارچ کے مقابلے میں حالات زیادہ سازگار لگ رہے ہیں کیونکہ اس بار پنجاب میں ان کی اپنی حکومت ہے۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ خیبرپختونخواہ اورپنجاب حکومت کی مدد سے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد کی طرف لاسکتے ہیں اور ان کو 25مئی کی طرح حکومتی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ عمران خان 28اکتوبر کو لاہور سے نکلیں گے اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ 4نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ یعنی وہ جلدی میں نہیں ہیں بلکہ اس لانگ مارچ کا ایک بڑا سیاسی ٹمپو بنا کر اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں ۔ یہ تجویز بھی ہے کہ جو لوگ اسلام آباد نہیں پہنچیں گے وہ 4نومبر کو اپنے اپنے شہروں میں  دھرنا دیں گے۔

اس میں خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو شامل کیا گیا ہے کہ وہاں بڑے دھرنوں کا انتظام کیا جائے گا لیکن حالات نے جو کروٹ لی ہے، کیا عمران خان اپنی خواہشات کے مطابق عمل کرپائیں گے۔ وفاقی حکومت کی حکمت عملی واضح ہوچکی ہے۔ عمران خان کو کوئی رعایت ملنے کا امکان نہیں ہے۔ لوگوں میں واقعی یہ کنفیوژن موجود ہے کہ اگر لانگ مارچ ٹھس ہوگیا تو عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہوگا۔ ان کے مخالفین اس لانگ مارچ کی ناکامی کو عمران خان کی ناکامی سے تعبیر کریں گے۔

اسٹیبلشمنٹ کا موڈ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس لانگ مارچ کا آخری کارڈ ہے اور اس میں ناکامی دراصل عمران خان کی ناکامی ہے۔ حالات پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے سازگار نہیں رہے۔ ملک کی معیشت کی حالت اچھی نہیں ہے۔  ایسے حالات میں جلاؤ گھیراؤ کی سیاست پاکستان کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک میں طاقتور طبقوں کے درمیان اختلافات سرخ لکیر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس سے آگے نقصان ہی نقصان ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے قتل پر اپنی اپنی مرضی کے تبصرے کرنا یا اسے کسی پر ڈالنے کی شعوری کوشش کرنا، کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اور نہ ہی سیاستدانوں کے مفاد میں ہے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی مقبولیت کی دعوے دار سیاسی قیادت کو اپنی اپنی جماعتوں میں جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیے۔ اس وقت کسی بھی سیاسی پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اپنے اندر آمریت کا نظام رکھتی ہوں تو وہ ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے کیا کردار ادا کریں گی۔ اسٹیبلشمنٹ کو مدد کے لیے بلانا کسی طرح بھی جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہے۔