برطانیہ کا پہلا بھارتی نژاد وزیراعظم

بالآخر گوروں کے دیس نے پہلا رنگدار وزیراعظم چن لیا۔ رشی سوناک برطانیہ کے پہلے بھارت نژاد وزیراعظم منتخب ہو گئے اور وہ بھی بلا مقابلہ۔ 

لز ٹرس برطانیہ کی مختصر ترین مدت کی وزیراعظم ثابت ہوئیں ۔ انہوں نے استعفی دیا تو  پھر سے کنزرویٹو پارٹی میں لیڈرشپ کے لئے گھمسان کا رن شروع ہو گیا۔ پچھلی دوڑ میں رشی سوناک دو چار ہاتھ لب بام  تک  پہنچ گئے تھے مگر اب کی بار وہ سب سے فیورٹ امیدوار بن کر سامنے آئے۔ سابق وزیراعظم بورس جانسن نے مقابلے کا عندیہ دیا مگر پھر جلد ہی ارادہ بدلنے میں عافیت جانی۔

رشی سوناک کے انتخاب کا موقع علامتی طور پر بھارت نژاد برطانوی  کمیونٹی کے لئے دوہری خوشی کا سبب بنا۔ ایک تو پہلی بار ماضی کے کولونیل حکمرانوں پر ان کی سابق رعایا میں سے ایک ان پر حکمران ٹھہرا۔ دوسرے یہ کہ یہ خوشی عین دیوالی کے ساتھ حاصل ہوئی۔  تاریخ کا ایک نیا دھارا جاری ہو گیا۔ روایتی طور پر گوروں کا دیس سمجھے جانے والے ملک پر پہلا ایشیائی، پہلا ہندو، پہلا رنگدار وزیراعظم ایک جمہوری عمل سے منتخب ہوا اور یوں ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی۔

جو ہوا جلد یا بدیر یہ ہونا ہی تھا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ برطانیہ کے سماج، سیاست اور معیشت میں بہت دیر سے کئی تبدیلیاں دھیرے دھیرے رونما ہو رہی تھیں۔ اپنی نوآبادیوں سے ہاتھ دھونے کے بعد انگریز اپنی جغرافیائی حدود میں تو سمٹ آئے مگر جہاں بانی کا شوق قائم رہا۔ درجنوں ممالک میں آج بھی علامتی اور رسمی طور پر ملکہ برطانیہ کی سرپرستی موجود ہے۔ اس نظام کو ایک اداراتی شکل میں قائم رکھنے کے لئے کامن ویلتھ کا ادارہ قائم ہے۔ برطانوی امدادی ادارہ جو پہلے ڈی آئی ایف آئی ڈی

یو کے ایڈ کہلاتا تھا اب

کہلاتا ہے کے تحت ان سابق نوآبادیوں میں اثر و رسوخ جمائے رکھنے کے لئے تردد کرتا ہے۔ 

تمام سابق نوآبادیوں میں انگریزی دانی کے لئے برٹش کونسل کی صورت میں زبان کا رابطہ مضبوط کرنے کا عمل بھی قائم و دائم ہے۔ بھلا ہو پچھلے ستر اسی سال سے قائم عالمی اداروں کے جال کا جسے ورلڈ آرڈر کا نام دیا جاتا ہے، ان اداروں میں انگریزی سب سے بنیادی اور استعمال ہونے والی زبان ہے۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ کی زبان بھی انگریزی ہے مگر یوں کہ ان کے لہجے اور انداز نے ایک نئی طرح اختیار کی؛ امریکن انگریزی۔ برطانوی انگریزی کوئینز انگلش کہلائی۔ اصل خمیر کیونکہ برطانوی انگریزی سے ہی اٹھا اس لئے امریکنوں کی طرح زبان کا رشتہ بھی کزن کزن کا سا رہا۔ 

انگریزی کی عالمی رابطہ زبان کی حیثیت کل کی نوآبادیوں اور آج کے آزاد ملکوں کے خوب کام آئی۔ انگریزی اب بھی پاکستان ، بھارت، بلکہ زیادہ تر نوآبادیاتی ممالک میں برطانوی قبضے کی زندگی علامت ہے۔ بلکہ زیادہ تر صورتوں میں علامت سے بڑھ کر ایک سماجی حقیقت ہے۔حکومتوں کا سارا سرکاری کام کاج ، لکھت پڑھت، عدالتی و آئینی کام کاج، سرکار دربار کی تقاریر اور مکالموں اور تعلیم کے لئے انگریزی ہی اصل معیار ہے۔ 

ہم ایسے ملکوں کی بیوروکریسی ، اعلی تعلیم اور روزمرہ کے معمولات میں انگریزی ہی اشرافیہ کا شرف ہے۔ ملک میں نجی تعلیمی ادارے جی جان سے ہماری اشرافیہ کے بچوں کا شین قاف، تلفظ اور لہجہ پختہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اللہ بھلا کرے اس کار خیر میں اس قدر منافع اور ذہنی آسودگی گندھی ہوئی ہے کہ دور دراز دیہات اور شہروں کے تنگ و تاریک محلوں میں بھی انگریزی میڈیم اسکول میں بچہ نہ پڑھے تو ماں باپ کو اپنا فریضہ ادھورا لگتا ہے۔ اس پر مستزاد ہمارے اشرافیہ کے تعلیمی اداروں میں بورڈ کے امتحانات کی بجائے برٹش سسٹم یعنی او اور اے لیول کے امتحانات ہوتے ہیں۔ سالانہ اربوں روپے اور کروڑوں پونڈز زرمبادلہ سے خرچ ہوتے ہیں تب کہیں جا کر عالمی اشرافیائی زبان انگریزی کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے۔

برطانیہ کے ساتھ اسی طرح کا تعلق بھارت اور دیگر ممالک کا بھی ہے۔ بھارت کا برطانیہ اور انگریزی سے یہ تعلق مزید مستحکم ہے کہ کولونیل دور میں ہندو ان کے قدرتی اتحادی تھے ۔ ملک کا سائز اور آبادی کولونیل آقاؤں کے لیے بھرپور کام آئی۔ یہاں سے جہاز بھر بھر کر جبری مشقت کے لئے لوگوں کو اپنی نوآبادیوں میں بسایا گیا۔ افریقہ کے بیشتر ممالک ، جزائر پیسیفک اور ویسٹ انڈیز میں گزشتہ دو اڑھائی سو سال سے آباد بھارت نژاد شہریوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے جن کا کبھی زیادہ اور کبھی واجبی تعلق بھارتی زبان، مذہب اور کلچر سے آج بھی قائم ہے۔ بہت سے ممالک میں بھارت نژاد آبادی قابل ذکر عددی وزن رکھتی ہے۔ فجی، ماریشس ، افریقہ کے کئی ممالک سمیت اب یورپ ، ایشیا، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، کینیڈا اور امریکہ میں بھارتی نژاد بڑی تعداد میں ہیں اور ملکی معیشت، معاشرت اور سیاست میں ان کا کردار بیشتر صورتوں میں نمایاں ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سوا تین کروڑ بھارتی ہیں۔امریکہ میں 45 لاکھ ، متحدہ عرب امارت میں 34 لاکھ ، ملایشیا میں 34 لاکھ، سعودی عرب میں 26 لاکھ۔ امریکہ کی نائب صدر کمیلا ہارس کی والدہ بھارت سے امریکہ آئی۔برطانیہ کی کل آبادی کا 2.3 فی صد بھارتی نژاد ہے یعنی سولہ لاکھ کے لگ بھگ۔ برطانیہ میں بھارتی نژاد آبادی کی خاص بات یہ ہے کہ  43 فیصد وہیں پیدا ہوئے۔ 38 فیصد لوگ 1981 سے قبل تک وہاں بس چکے تھے ۔ یوں بھارتی نژاد برطانوی معیشت، معاشرت اور سیاست میں دھیرے دھیرے اپنا نمایاں مقام بنا چکے ہیں۔ پاکستان نژاد کمیونٹی بھی برطانیہ میں نمایاں ہے۔ لندن کے موجودہ مئیر محمد صادق ، کئی ممبران کابینہ سمیت بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور مقامی حکومتوں کے ممبران پاکستان نژاد ہیں۔ گلوبلائزیشن اور برطانیہ کے ساتھ سابقہ نوآبادیاتی نے پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کو وہاں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

42 سالہ رشی سوناک کے والدین افریقہ سے برطانیہ میں سیٹل ہوئے۔ رشی سوناک برطانیہ ہی میں پیدا ہوئے ۔ ایک مہنگے بورڈنگ اسکول میں پڑھے، بعد ازان آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور ماسٹرز امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی سے کیا۔ انوسٹمنٹ کو پیشہ اختیار کیا۔  گولڈ مین سیکس بنک سمیت دو اور فنڈز مینیجمینٹ اداروں کے ساتھ کام کیا۔ محنتی اور ہوشیار تھے، خوب دولت کمائی۔ شادی بھارت کے ایک امیر ترین خاندان میں ہوئی۔ دولت کے اعتبار سے وہ برطانیہ کے امراء میں سے ہیں ۔ماضی میں ان پر ان کی دولت اور کچھ ٹیکس معاملات کی وجہ سے انگلیاں بھی اٹھیں، تاہم سیاست میں ان کی شہرت قائم رہی۔

 کنزرویٹو پارٹی اپنے خمیر کی وجہ سے گوروں اور وہ بھی قدامت پسند اور متمول لوگوں کی چھاپ رکھتی ہے۔ گزشتہ حکومت میں رشی سوناک نے خزانے کے چانسلر کا مشکل عہدہ سنبھالا ۔ برطانیہ کو بریکزٹ کے بعد سے مالی اعتبار سے سکون کا سانس نہیں۔ بریکزٹ کے عمل کو مکمل ہونے تک تین چار وزیراعظم کام آچکے ۔ اب  معاشی حالات روس یوکرائن جنگ کے بعد مزید دگرگوں ہیں۔  عوام پریشان مگر کنزرویٹو پارٹی کے اندر کھینچا تانی جاری ہے۔ دوسری جانب سب سے بڑی لیبر پارٹی بھی قیادت کے بحران کا شکار ہے۔

رشی سوناک کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر ان کے انتخاب سے بھارت کے عالمی اثرورسوخ اور سافٹ پاور میں بہت نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کی سوفٹ پاور میں وقت کے ساتھ مزید اضافہ متوقع ہے۔ بھارت سے سالانہ ساڑھے چار لاکھ طلبا بیرون ملک اعلی تعلیم کے لئے جاتے ہیں۔  ان کی تعلیم کے اخراجات کا تخمینہ 28 ارب ڈالرز سالانہ ہے۔ زیادہ تر آئی ٹی اور دیگر سائنسی مضامین میں درک حاصل کرتے ہیں اور زیادہ تر میزبان ممالک ہی میں رہ جاتے ہیں۔ امریکہ کے آئی ٹی سیکٹر میں دس فیصد افرادی قوت بھارتی نژاد ہے ۔ آئی ایم ایف سمیت بیسیوں گلوبل کمپنیوں کے سربراہان بھی بھارت نژاد ہیں۔ میزبان معاشرے کے ساتھ میل ملاپ ، سماجی اور سیاسی جڑت اور کام سے کام کی شہرت اور رویے سے زیادہ تر میزبان ممالک ان سے مطمئن ہیں۔ تعصب سمیت مسائل بھی ہیں مگر مجموعی طور پر چین کے بعد بھارت انوسٹمنٹ، ٹیکنالوجی، بزنس اور مارکیٹ کے اعتبار سے ایک مظبوط مقام بنا چکا ہے۔  مڈل ایسٹ اور ایسٹ ایشیاء میں بھی اس کا نمایاں مقام ا سکی اہم عالمی طاقت کا مظہر ہے۔

 پاکستان میں اکثر احباب بھارت کی عالمی سوفٹ پاور  کو پاک بھارت دشمنی کی روایتی عینک سے دیکھنے کے عادی اور متمنی ہیں۔ لیکن گلوبل ورلڈ کے معیارات مفادات ، سافٹ اور ہارڈ پاور پر استوار ہیں۔ رشی سوناک کا انتخاب بھارت نژاد کمیونٹی کے دنیا میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ کل کی رعایا آج اپنے آقاؤں کی حکمرانی پر آمادہ ہے۔ کولونیل ماضی کا پہیہ اب الٹا چلنے کو ہے یا ابھی چند دہائیاں مزید درکار ہوں گی! آنے والا وقت بہت دلچسپ ہو سکتا ہے۔ اس منظر میں ہم کہاں ہوں گے، اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔