جنوبی کوریا میں ہجوم کے باعث کچلنے سے 151 افراد ہلاک، 355 لاپتہ
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے ایک مشہور علاقے میں ہیلووین کے موقعے پر بہت بڑا ہجوم جمع ہو جانے کے باعث کچلے جانے سے 151 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر مرنے والوں کی تعداد 59 بتائی گئی تھی جو اب بڑھ کر 151 ہو گئی ہے جبکہ مرنے والوں میں 19 غیرملکی بھی شامل ہیں۔ کچلے جانے سے کم از کم 82 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سیئول کی شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں 355 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ سیئول کے ایٹاون ضلعے کی ویڈیوز میں سڑکوں پر لاشیں، سی پی آر انجام دینے والے ہنگامی کارکن اور امدادی کارکن دوسروں کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کچلے جانے کے واقعے کی وجہ کیا بنی۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے جنوبی کوریا میں پیش آنے والے اس سانحے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
اس علاقے میں مبینہ طور پر ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے وبا کے بعد گھروں سے باہر بغیر ماسک ہیلووین تقریب کا جشن منایا۔ شام کے اوائل میں پوسٹ کیے گئے سوشل میڈیا پیغامات میں کچھ لوگوں کو یہ تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ایٹاون کے علاقے میں اتنا ہجوم تھا کہ انہیں یہ غیر محفوظ محسوس ہوا۔
تصاویر اور ویڈیوز میں ہنگامی مدد فراہم کرنے والے اہلکار اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے جو سڑکوں پر بے ہوش لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایک ویڈیو میں متعدد امدادی کارکن ایک تنگ سڑک پر لوگوں پر سی پی آر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری ویڈیو میں، امدادی کارکن لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بظاہر ہجوم کے بڑھنے کے بعد مرنے والوں کی لاشوں کا ڈھیر لگ رہا ہے۔
عینی شاہدین نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل کے معروف علاقے ایٹاون میں انتہائی افراتفری کے مناظر کو بیان کیا ہے۔ یہ علاقہ اپنی نائٹ لائف کے لیے مشہور ہے لیکن اس کی تنگ گلیوں میں اس قدر بھیڑ جمع ہو گئی تھی کہ دم گھٹنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی موت ہو گئی۔
ایک صحافی رافیل راشد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دسیوں ہزار لوگ تھے، اب تک میں نے کبھی اتنے زیادہ لوگ نہیں دیکھے۔ اتنے لوگ تھے کہ ہم فرش پر کچلے چلے جا رہے تھے۔‘ ہزاروں نوجوان ہیلووین کے ملبوسات میں ایٹاون میں موجود تھے۔ وہ اس بات پر خوش تھے کہ جنوبی کوریا میں کووڈ کی دو سال کی پابندیوں کے بعد بالآخر وہ پارٹی کر سکتے ہیں۔
ٹوئٹر پر کچھ ویڈیو کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچاؤ کرنے والے پھنسے ہوئے لوگوں کو بھیڑ میں سے زور سے کھینچ رہے ہیں۔