عمران خان کی منافقانہ سیاست؟

پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں شاید یہ پہلا واقع ہو گا کہ دو لیفٹیننٹ جنرل اکٹھے بیٹھ کر، قومی پریس کے سامنے  ایک سیاسی رہنما کے جھوٹ کا پردہ چاک کر رہے ہوں گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے  ساتھ بیٹھ کر ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وہ اپنے ادارے کے بارے میں جھوٹی باتوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے آئے ہیں۔  یہ بالکل انہونا واقع ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس میں شرکت کی ہو اور وہ براہ راست میڈیا نمائندگان سے مخاطب ہوں ور اپنے سالارِ اعلیٰ اور اپنے ادارے کے بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی باتوں کا جواب دیں ایسا شاید پہلے کبھی نہیں ہوا۔مذکورہ پریس کانفرنس لاریب غیر معمولی تھی اس میں پاکستان کی سب سے معتبر اور باخبر ریاستی ایجنسی کے سربراہ نے عمران خان کے بارے میں ایسی ایسی باتوں کی تصدیق کی جو پہلے شک و شبہے کی تہہ میں دبی ہوئی تھیں۔

عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے حوالے سے تشکیل کردہ بیانیے کی بنیاد سائفر تھا جسے بنیاد بنا کر عمران خان نے اپنا  بیانیہ تشکیل دیا اور تحریک شروع کر دی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ نے اس حوالے سے عمران خان کو مکمل طور پر جھوٹا قرار دے کر ان کے بیانیے کی ہوا نکال دی  پھر چھپ کر ملاقاتوں کے حوالے سے بات کر کے عمران خان کے منافقانہ بیانیے اور فتنہ و فساد کی سیاست کا پردہ چاک کیا۔ ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے عمران خان کے تشکیل کردہ بیانیے اور اس میں ریاستی ادارے کو ملوث کرنے کے سازشی بیانیے کے تار پود بکھیرے۔آرمی چیف سے غیر آئینی اقدامات  اور انہیں غیر معینہ توسیع کی پیشکش کا ذکر کر کے عمران خان کے منا فقانہ رویے اور بیانیے کی مذمت کی، سب سے اہم بات کہ احتجاج اور مارچ کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے بڑے واضح انداز میں کسی کو بھی فتنہ و فساد برپا کرنے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی اجازت نہ دینے کا کہہ کر بڑا واضح پیغام دیا کہ فوج بطور ادارہ نیوٹرل رہے گی اور آئین و قانون کے مطابق حکومت کے بلانے پر اپنے فرائض انجام دینے کی پابند ہو گی،مذکورہ پریس کانفرنس بڑی واضح اور حتمی تھی۔

عمران خان کے لانگ مارچ کی بلی بالآخر تھیلے سے باہر آ گئی ہے انہوں نے عجلت میں اعلان کیا، بڑی صاف شفاف، امن کی باتیں کیں، شرافت سے لانگ مارچ کرنے اور عدالت کے احکامات کے مطابق جلسہ کرنے کا عندیہ دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ انہیں یقین ہے کہ حکومت ان کے مطالبے پر انتخابات کرانے والی نہیں ہے وہ اس سے پہلے بیک ڈور مذاکرات ہوئے اور ان کے ناکام ہونے کے بارے میں بھی ہمیں آگاہ کر چکے ہیں،پھر سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ لانگ مارچ کس مطالبے کی خاطر کر رہے ہیں انہیں پہلے سے ہی پتہ ہے کہ حکومت ماننے والی نہیں ہے پھر بھی مکمل تیاری کے ساتھ لانگ مارچ کا اعلان چہ معنی دارد؟

گزشتہ روز لاہور میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ق) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا اس اجلاس کی کارروائی کی اندرونی کہانی جو چھن چھن کر سامنے آئی ہے اس کے مطابق عمران خان حاضرین کو لانگ مارچ کے پروگرام بارے بتا نہیں سکے۔ ان کے سوالات کے جواب نہیں دے سکے،بلکہ حکومت پنجاب سے ناراضگی کا اظہار کرتے رہے کہ ان پر پنجاب میں ہی مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔  جبکہ حکومت ابھی تک رانا ثناء اللہ کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ بہرحال عمران خان پارلیمنیٹرین کو لانگ مارچ کی تفصیلات کے حوالے سے مطمئن نہیں کر سکے۔

اپریل2022 میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں اپنی حکومت کی رخصتی کے بعد سے عمران خان کی منفی سیاست کا رخ ریاست کی طرف ہو چکا ہے وہ اب تک اپنی سیاسی  شکست کو قبول نہیں کر سکے۔ وہ اپنے نفرت اور انکار کے بیانیے کو بلندیوں کی طرف بھی لے جا رہے ہیں اور اس کا رخ بھی متعین کر رہے ہیں سردست ان کی تمام منفی سرگرمیوں کا محور اور مرکز انتشار ہے اور بیانیہ ریاستی ادارے کے خلاف ہے  انہوں نے ارشد شریف کے قتل کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا اور ریاستی ادارے کو ملوث کرنے کی مذموم کوشش کی انہوں نے  لانگ مارچ کی آڑ میں ریاستی ادارے کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنے کی کاوشیں جاری رکھیں۔گویا وہ جھوٹ اور مکر کی سیاست کرتے رہے،عوام کے سامنے کچھ اور، پس پردہ ملاقاتوں میں کچھ اور کرتے اور کہتے پائے گئے ۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ میری بیک ڈور ملاقاتیں بھی ناکام ہو چکی ہیں اور حکومت بھی فوری الیکشن کرانے پر رضا مند نہیں،پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ لانگ مارچ کس مقصد کے لئے ہے؟ نوازشریف اس سوال کا جواب دے چکے ہیں کہ عمران خان کی منفی سیاست کا محور و مرکز اپنی مرضی کا چیف آف آرمی سٹاف  تعینات کرانا ہے۔ بادی النظر میں یہ بات درست بھی نظر آتی ہے لیکن یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مقصد ِ وحید نہیں۔بلکہ عمران خان کی منفی اور انکار کی سیاست کا مقصد ِ وحید حصولِ اقتدار ہے اور وہ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے کچھ بھی کرنے پر تلے ہوئے ہیں خواہ ملک  فتنہ  و فساد میں مبتلا ہو جائے یا عدم استحکام کا شکار ہو،  انہیں اس سے قطعاً کوئی غرض نہیں۔ وہ ہر حالت میں اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

 جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے تو  اگر واقعتا سنجیدہ ہوتے تو چار صوبوں پنجاب، کے پی کے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنی حکومتوں کو تحلیل کر کے مرکزی حکومت کو فوری انتخابات پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے مارچ کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ تو اپنے ہی انداز میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں نہ صرف لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے بلکہ جاری سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا۔ گویا عمران خان اپنے طے شدہ ایجنڈے کے عین مطابق ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہیں۔

ایک بات تواتر سے کہی، سنی اور لکھی جا رہی ہے کہ احتجاج ہر  کسی کا آئینی و قانونی حق ہے لیکن کوئی اس پر بات نہیں کرتا کہ اگر ملکی حالات غیر معمولی ہوں، خطرناک ہوں تو کیا ایسے میں احتجاج کا حق معطل نہیں ہونا  چاہیے؟ ہمیں معلوم ہے اور ہم دیکھ بھی ر ہے ہیں کہ پاکستان معاشی و سیاسی طور پر کمزور اور  فتنہ و فساد کا شکار ہے عالمی کساد بازاری نے جاری معاشی معاملات کو ناامیدی کی گہری دھند میں چھپا دیا ہے۔ مہنگائی اپنی تمام حدود کراس کر چکی ہے، قدر زر میں گراوٹ اور ذرائع آمدنی میں کمی کے باعث عامتہ الناس کی قوت خرید سکڑ چکی ہے۔پاکستان عالمی ساہو کاروں کے قرض کے بوجھ تل دب کر سسک رہا ہے،معاشی بحالی کی سبیل نظر نہیں آ رہی خوفناک سیلاب نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ اجناس کا بحران سر اٹھا رہا ہے، تین کروڑ30لاکھ سیلاب زدگان کی بحالی اور 30ارب ڈلر کے نے قصانات کا ازالہ کرنا آسان نہیں ہے۔

 ایسے میں عمران خان کے احتجاج کے حق کو سلب کر لینا کیا آئین پاکستان اور قومی مفادات کے عین مطابق نہیں ہو گا؟ کیا قومی سلامتی کے تقاضے ہم سے سوال نہیں کرتے کہ ملک پر بدحالی چھائی ہوئی ہے اور ہم احتجاج احتجاج کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ فوراً ختم نہیں کر دینا  چاہیے کیونکہ ایسا کرنا ملک و قوم کے مفادات کے عین مطابق ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)