ارشد شریف کو کس نے قتل کیا؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد اٹھنے والے سوالات

مرحوم صحافی ارشد شریف کی لاش کے پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز اس وقت حیران ہو گئے جب ان کو ارشد شریف کے جسم کے اندر سے دھات کا ٹکڑا ملا جس کو جب صاف کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ گولی ہے جو ارشد شریف کو ماری گئی تھی۔ یاد رہے کہ کینیا میں وہاں کے ڈاکٹروں نے پہلے سے ارشد شریف مرحوم کی پوسٹ مارٹم کر کے اس کے جسم سے ”ساری“ گولیاں نکالی تھیں۔

 ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ کینیا میں پوسٹ مارٹم کس طرح کیے جاتے ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ اس گولی کی فرانزک رپورٹ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ارشد شریف کو لگنے والی گولیاں کون سے اسلحے سے چلائی گئی تھیں۔ اگر گولی ہائی ولاسٹی گن کی ہوئی تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ گولیاں دور سے چلائی گئی تھیں جیسا کہ وہاں کی پولیس دعویٰ کرتی ہے، اور اگر گولی کہیں دور سے سنائپر سے چلائی گئی تھی تو اس کا بھی پتہ لگ جائے گا، کیونکہ سنائپر گن میں مخصوص گولیاں استعمال کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ بغیر کسی تغیر کے دور تک موثر انداز میں پہنچ جاتی ہے۔

اگر ملی ہوئی گولی سنائپر گن سے چلائی گئی ہے تو پھر پولیس کی بیان کردہ کہانی مکمل ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ پولیس کی کہانی میں پہلے سے بہت سے جھول ہیں۔ ایک جیسے ایک رنگ کی اغوا شدہ کاریں یا اغوا شدہ بچے کی مشکوک گاڑی، جس کو روکنے کے لئے اس کا پیچھا کر کے بچے کو بچانے کی بجائے اس پر فائرنگ کرنا پولیس کے بنیادی ٹریننگ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کیونکہ اغوا یا یرغمال بنانے کی صورت میں پولیس کا بنیادی فرض اغوا شدہ یا یرغمالی بندے کو بحفاظت واگزار کرانا ہوتا ہے، اندھا دھن فائرنگ کرنا نہیں، جبکہ پولیس کے کسی بیان میں گاڑی سے پولیس پر فائرنگ ہونے کی کوئی خبر بھی نہیں ہے، پھر کیسے ایک غیر مسلح مشکوک کار پر جس میں ایک اغوا شدہ بچہ سوار ہو پولیس فائرنگ کر سکتی ہے؟ پھر بقایا کار سواروں کو بچا کر غلطی سے ایسی صحیح گولیاں مارنا واقعی قابل داد ہے۔ لگتا ہے کینیا کی پولیس کو غلطی سے صحیح گولیاں مارنا اور باقی مسافروں کو بچانا سب آتا ہے، نہیں آتا تو کہانی بنانا نہیں آتا۔

 پوسٹ مارٹم کے مطابق ارشد شریف کے سر کے علاوہ اس کے کاندھے کے قریب جو گولی کا زخم ہے وہ بھی کوئی اور کہانی سناتی ہے۔ گولی پیچھے سے لگ کر آگے سے نکلی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں زخم کا بڑا نشان بن گیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ گولی بہت قریب سے چلائی گئی ہے، کیونکہ دور سے چلائی گئی گولی نکلتے ہوئے اتنا بڑا گھاؤ بنا کر نہیں نکلتی، اس لیے کہ اس کی طاقت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ کاندھے کے زخم کے کنارے ہلکے کالے رنگ کے ہو گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولی تقریباً چار فٹ کے فاصلے سے چلائی گئی تھی۔ کیونکہ کالے نشان بارود کے جلنے کی وجہ سے اس کے جسم پر پڑ گئے ہیں اور بارود کے جلنے کے نشان تب زخم کے قریب پڑتے ہیں اگر گولی بہت قریب سے چلائی جائے۔ اس گولی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ گاڑی کے اندر سے ماری گئی ہے، کیونکہ پولیس کی چلائی گئی گولی سے اس کے جسم پر کبھی بھی بارود سے جلنے کے کالے نشانات نہیں پڑ سکتے تھے۔

تصویر میں دیکھی جا سکتی ہے کہ ارشد شریف کی کھوپڑی کا اوپری حصہ اڑ گیا ہے۔ جس سے ایک بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اسے گولی اوپر سے یعنی سنائپر نے نہیں ماری کیونکہ اوپر سے گولی مارنے کی صورت میں گولی کھوپڑی کے اوپر لگ کر نیچے نکلتی اور اس صورت میں کھوپڑی اوپر سے اڑی ہوئی نہ ہوتی کیونکہ گولی نکلنے کا راستہ اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا۔ گولی جہاں لگتی ہے وہاں زخم کا نشان چھوٹا اور جہاں سے نکلتی ہے، خصوصاً قریب یا طاقتور گن سے چلائی گئی گولی، نکلتے ہوئے بڑا گھاؤ چھوڑ جاتی ہے۔

 میرے اندازے کے مطابق اس کے سر میں لگنے والی گولی بھی نیچے سے اوپر کی طرف چلائی گئی ہے جو کان کے قریب لگ کر اوپر کھوپڑی کو اڑاتے ہوئے نکل گئی ہے۔

گولی لگنے کے بعد ارشد شریف کو کسی قریبی ہسپتال لے جانے یا گاڑی کو روک کر مدد لینے کی بجائے اسے فارم ہاؤس پہنچایا گیا جب کہ وہ پولیس کو کسی کیس میں مطلوب مفرور بھی نہیں تھا بلکہ قانونی ویزے پر کینیا میں مقیم ایک جانا پہچانا چہرہ تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے ہسپتال لے جانے کی بجائے شدید زخمی حالت میں فارم ہاؤس کیوں پہنچایا گیا؟ کیا اس گاڑی میں اس کے ساتھ پولیس کو مطلوب کوئی مجرم بھی سفر کر رہا تھا جس کو ارشد شریف نہیں جانتا تھا، جس کو بچانے کے لئے ارشد شریف کی جان کی پرواہ تک نہیں کی گئی؟ کیا وہی مطلوب شخص ہی ارشد شریف کا قاتل ہے جس نے ارشد شریف کو گولیاں ماریں؟ اس تھیوری کو پریس میں آنے چھپنے والی وہ خبریں بھی سپورٹ کرتی ہیں جس میں بتایا گیا کہ پولیس کی چیک پوسٹ دیکھ کر ارشد شریف جس گاڑی میں سفر کر رہا تھا، اس گاڑی کو کچے راستے سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیوں پولیس سے بچنے کے لئے کار کچے میں اتاری گئی؟ کیا اس پراسرار شخص کو بچانا اتنا ضروری تھا کہ سب کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا یا پولیس کی چیک پوسٹ اور فائرنگ کا ڈرامہ رچا کر اس کی آڑ میں ارشد شریف کو ٹھکانے لگانا مقصود تھا جبکہ اصل قاتل گاڑی میں موجود تھا۔

 اس کیس میں ایک امکان یہ بھی ہے کہ گاڑی کو چیک پوسٹ سے سڑک کے ذریعے اس لیے نہیں گزارنا چاہا گیا کہ اس گاڑی میں ارشد شریف کی لاش پڑی ہوئی تھی جس کو پہلے سے کہیں پر قتل کیا گیا تھا اور قاتل اب اس کی لاش کو فارم ہاؤس یا کسی مناسب جگہ پر ٹھکانے لگانا چاہتے تھے لیکن اچانک سامنے پولیس چیک پوسٹ دیکھ کر سب بوکھلا گئے۔ کیونکہ اگر تلاشی کے دوران پولیس گاڑی میں پڑی ہوئی ارشد شریف کیلاش دیکھتی تو پکڑنے کا خطرہ تھا، اس لیے گاڑی کچے میں اتاری گئی جس پر پولیس نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے باوجود لاش فارم ہاؤس پہنچائی گئی۔ جس کے بعد اسے ٹھکانے لگانے کی بجائے پولیس کو بھاری رقم دے کر قتل کو پولیس فائرنگ کا واقعہ بنا کر سامنے لایا گیا۔

سینیٹر انور بیگ کے مطابق ارشد شریف اس کے ساتھ وقوعہ کے وقت فون پر بات کر رہا تھا، کیونکہ مرنے کے بعد بھی ارشد شریف کے کان میں لگے ہوئے ائر بڈز کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کان میں لگے ہوئے ائر بڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ارشد شریف کو گولیاں اتنی اچانک ماری گئی ہیں کہ اسے کسی ردعمل کا موقع ہی نہیں ملا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ فائرنگ کی صورت حال جاننے کے لئے ائر بڈز کو ضرور کان سے نکالتا۔ اس نے ائر بڈز نکالے نہ گاڑی میں اس کے ساتھ کوئی ہاتھا پائی ہوئی ہے ورنہ پھر ائر بڈز اس کے کان میں ہونے کی بجائے گرے ہوئے ہوتے۔

تحقیقاتی ایجنسیاں اپنی تحقیقات میں جو بھی ثبوت اور شہادتیں اکٹھی کر کے کسی نتیجے پر پہنچتی ہیں، واقعاتی شہادتیں ثابت کرتی ہیں کہ ارشد شریف کی قتل حادثہ نہیں سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)