یورپین یونین میں تنہائی

یورپین یونین کے دو اہم ملک جرمنی اور فرانس کے سربراہوں نے حالیہ ملاقات کو کامیاب قرار دیا ہے۔ ان کی اسی وضاحت نے مزید شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے۔

جرمنی اور یورپین یونین کے دو بڑے اور اہم ممالک کے مابین سردمہری کی وجہ ان کا کئی ایک معاملات پر متفق نہ ہونا ہے۔ اس بات کو مزید کھنگالنے سے پہلے اس ہفتے رونما ہونے والے  چند ایک واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔

جرمنی میں ہی چین کی ایک سرکاری کمپنی کوسکو  کے معاہدے کو لےکر کافی جھگڑا چل رہا ہے۔ جرمنی پہلے ہی روس کے ساتھ کیے گئے بے شمار معاہدے جو پچھلے وقتوں میں، جب کہ روس کی جارحیت سرے عام نہیں ہوئی تھی، دونوں ملکوں میں طے پائے تھے۔ ان معاہدوں کو کافی بدگمانیوں کا سامناہے اور اس پر الزام تراشی اور اظہار تاسف کا سلسلہ جاری ہے۔

روس کے ساتھ کیے گئے معاہدے منسوخ اور معطل کرنے کا زور شور سے چرچا اور بحث کے بوجھل ماحول میں چین کی سرکاری کمپنی کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ جس میں چینی کمپنی کو سینتالیس فیصد کے شیئر دیے جائیں اور پھر چینی جنرل مینجر اپنی من مانی کرسکے، یہ بات جرمنی کے سیاست دانوں کو کافی کھٹک رہی ہے۔ اور اس پر خوب لے دے ہونے کے بعد جرمنی میں یہ حل نکالا گیا ہے کہ چینی کمپنی کے حصے کم کرکے اس سے معاہدہ تو طے کیاجائے مگر تمام اہم عہدوں پر چینی کمپنی کے اہل کاروں کو متعین کرنے سے گریز کیا جائے۔

اس کے باوجود جرمنی اپنی اس تنہا چین جرمن دوستی کی وجہ سے باقی یورپین یونین کے ممالک کی نظروں میں آگیا ہے۔ اور فرانس اس بات سے خاصا ناخوش ہے۔ بات یہیں تک نہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ مصیبت میں خدا یاد آتا ہے تو جرمنی کو اس مصیبت کے وقت  خود اپنا ہی اپنا نظر آرہا ہے۔ ایسے میں جبکہ روس اور یوکرائن کے مابین جنگ میں جرمنی بڑھ بڑھ کر بولی بھی لگا رہاہے اور دوسری طرف گیس اور توانائی کی کمی کا رونا بھی رو رہا ہے۔ توانائی کے حصول کے لیے مشرق وسطی کی طرف سے مایوسی کے بعد امریکہ کی جانب پرامید نظروں سے دیکھ رہا ہے۔

ماحولیاتی بگاڑ پر منطبق طریقے سے حاصل شدہ گیس، یعنی فریکنگ گیس کے حصول کو بھی قبول کرنے سے گریزاں نہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کا امریکہ سے  فضائی تحفظ مہیا کرنے والے اسلحے کی ترسیل کے ایک اور معاہدے نے بھی جرمنی کو یورپین یونین میں تنہا کردیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے مابین طے پانے والے نئے معاہدے، انڈوپسیفک جوائنٹ سے بھی فرانس بہت بدظن ہے جس کے نتیجے میں فرانس کو آسٹریلیا کے آبدوز کے معاہدے سے پھر جانے پر خاصی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یوکرائن روس جنگ کے تناظر میں کیے گئے فیصلے اور اپنائی گئی پالیسی جرمنی کو یورپین یونین میں تیزی سے تنہا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ آج یورپین یونین کے ایک اور رکن ہنگری کے وزیر اعظم اوربان نے روسی پابندی کے خلاف بہت زہر اگلا ہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ یورپین یونین، پرانے سویت یونین کی طرح جلد ہی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔

یہ بات درست نہ بھی تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ روسی جارحیت اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ توانائی کے بحران نے یورپ کو مختلف حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اور اس مختلف پالیسی کے نتیجے میں یورپین یونین کے ممالک کے مابین دراڑیں پڑ رہی ہیں۔