اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 26.6 فیصد تک پہنچ گئی

  • منگل 01 / نومبر / 2022

پاکستان ادارہ شماریات  کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں صارف قیمت انڈیکس سے پیمائش کردہ مہنگائی سالانہ بنیاد پر 26.56 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

مہنگائی کی یہ شرح گزشتہ ماہ ریکارڈ کی گئی 23.18 فیصد افراط زر سے تین فیصد پوائنٹس زیادہ ہے جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ ریکارڈ کی گئی مہنگائی سے 9.2 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے معلوم ہوتا ہے کہ اکتوبر میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 4.71 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

پاکستان مسلسل ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی زد میں ہے جہاں اگست میں مہنگائی کی شرح 27.26 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو 49 سال کی بلند ترین سطح تھی۔ مواصلات کے علاوہ تقریباً تمام ذیلی اشاریوں کی قیمتوں میں دہرے ہندسوں کے اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھی۔

یہ اعداد و شمار وزارت خزانہ کے اکتوبر کے ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لُک کے دعوؤں کے متضاد ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بنیادی اشیا کی مقامی اوسط قیمتوں میں کمی کے باعث افراط زر میں کمی کا امکان ہے۔ معاشی اپڈیٹ اور آؤٹ لُک میں بتایا گیا کہ کسٹم ڈیوٹی ختم کرکے خراب ہونے والی اشیاء کو درآمد کرنے کے لیے بروقت کیے گئے فیصلوں سے افراط زر کے خطرات کو جزوی طور پر کم کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں سالانہ صارف قیمت انڈیکس افراط زر ستمبر میں گرتے ہوئے رجحان کو برقرار رکھے گا، امید ہے کہ صارف قیمت انڈیکس افراط زر 21 سے 22.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔

گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ رواں برس سیلاب نے زرعی شعبے کو تباہ کردیا ہے جہاں گنے اور چاول کے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ تقریباً 10 لاکھ مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر گائے اور بھیڑ شامل ہیں۔ ستمبر میں وفاقی حکومت نے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر چار ماہ تک سیلز ٹیکس اور وِدہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔