نواز شریف اورزرداری تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کو لڑانا چاہتے ہیں: عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ مشرقی پاکستان اس لیے الگ ہوا کیوں کہ اکثریتی پارٹی کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اب یہی سلوک تحریک انساف کے ساتھ کیا جارہا ہے۔
منگل کو گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے ساتھ لڑانے کی سازش کر رہے ہیں۔ ناانصافی مشرقی پاکستان کی علیحدگی جیسے بڑے سانحات کو جنم دیتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی، لیکن ایک سیاست دان نے اُن کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے اس پارٹی کو فوج کے سامنے لا کھڑا کیا۔
سابق وزیرِ اعظم نے نواز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اُن کے خلاف لاہور میں کسی بھی حلقے سے الیکشن لڑ کے دیکھ لیں۔
اس دوران وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ میں صرف 500 افراد شریک ہیں۔ لہذٰا عوام نے اس فتنہ مارچ کو مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان ایک طرف کہتے ہیں کہ 'چوکیدار ' کی تنخواہ بند کر دو اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ خدا کے واسطے الیکشن کرا دو۔
تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے نئے شیڈول کے مطابق عمران خان کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ منگل کو گوجرانوالہ سے نکل کو گوندلاوالہ روڈ کے مقام پر قیام کرے گا۔ بدھ کو یہ قافلہ پنڈی بائی پاس سے نکل کر وزیرِ آباد جائے گا جس کے بعد جمعرات کو گجرات اور پھر جمعے کو لالہ موسیٰ ، ہفتے کو کھاریاں سے سرائے عالمگیر اور پھر اتوار کو جہلم پہنچے گا۔
چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جی ٹی روڈ پر عوام کے جوش و جذبےکے باعث ہم 12 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہی چل پا رہے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ ہمارے منتظر ہیں اسی کےمطابق منصوبہ بندی کریں۔ منگل کو گوجرانوالہ میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جو بھی ادارہ چاہے وہ عدالت ہو فوج ہو یا کوئی اور ادارہ ان کو عوام کے فیصلے تسلیم کرنا ہوں گے کیوں کہ فیصلے کا اختیار صرف عوام کے پاس ہے۔ حکومت نے تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لیے چار کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے جب کہ 30 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا مارشل لا لگانے کا بیان قابلِ مذمت ہے۔ ایک ٹوئٹ میں شیریں رحمان کا کہنا تھا کہ جو سیاست دان 26 برس سے سیاسی جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرے وہ یہ نہیں کہتا کہ مارشل لا لگانا ہے تو لگا دو۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں نہیں ہیں تو پھر کوئی نہ ہو۔۔