وزیراعظم پہلے سرکاری دورے پر چین روانہ ہوگئے، سی پیک کی بحالی کے لئے بات چیت ہوگی

  • منگل 01 / نومبر / 2022

وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر چین روانہ ہوگئے ہیں جہاں انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی بحالی کے حوالے سے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف آج دو روزہ سرکاری دورہ پر چین روانہ ہوگئے ہیں۔ رواں سال اپریل میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شہباز شریف کا یہ چین کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ وہ چینی ہم منصب لی کی چیانگ کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے روانہ ہونے سے پہلے ایک  ٹوئٹ پیغام میں کہا کہ وہ دنیا کے وہ پہلے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخی 20ویں قومی کانگریس کے بعد مدعو کیا گیا ہے۔ ایک جانب جہاں عالمی دنیا کئی مسائل اور چیلنجز کا شکار ہے وہیں پاکستان اور چین کے تعلقات ہر گزرتے وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے دوران وہ چینی رہنماؤں سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تجدید سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ سماجی اقتصادی ترقی کا نیا دور ہے جو دونوں ملکوں کے شہریوں کی زندگیوں بہتر کرنے میں مدد دے گا۔ ہمیں چینی اقتصادی پالیسی سے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ وزیر اعظم شہباز شریف چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور اپنے ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ وزیراعظم کے چین کے پہلے سرکاری دورے میں دوطرفہ ایجنڈے کے تحت معاہدے طے کیے جائیں گے اور 27 اکتوبر کو ہونے والے سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے گیارہواں اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

شہباز شریف نے اُمید ظاہر کی کہ دورے کے دوران چین کے ساتھ تجارت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے پاک  چین تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے استعمال کے ساتھ چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی امید ظاہر کی ہے۔

چین کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ میں شائع مقالے میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، چین کے لیے کارخانوں اور صنعتی اور سپلائی چین نیٹ ورک کے وسیع طرز عمل کے تحت کام کرسکتا ہے۔ دونوں ممالک زراعت اور کھیتی باڑی کو فروغ، پانی کے مؤثر استعمال، ہائبرڈ بیجوں اورپیداوای فصلوں کی ترقی کے لیے دوطرفہ تعاون کو تیز کر سکتے ہیں۔ چین کے ساتھ تعاون سے دونوں ممالک میں غذائی تحفظ سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے اہمیت اختیار کرلی ہے۔