اعظم سواتی کا میڈیکل رپورٹ تبدیل کرنے کا دعویٰ

  • جمعرات 03 / نومبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ میری میڈیکل رپورٹ میں حراست کے دوران تشدد چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بنیادی حقوق پامال کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

واضح رہے کہ اعظم سواتی پر مبینہ تشدد کے خلاف اپوزیشن لیڈر سینیٹ سینیٹر شہزاد وسیم اور اعظم سواتی نے 17 اکتوبر کو چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ کر ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔ سپریم کورٹ کے ڈائریکٹرجنرل ہیومن رائٹس سیل نے 31 اکتوبر کو سینیٹر شہزاد وسیم اور اعظم سواتی کو طلب کرکے ان سے تشدد کے حوالے سے تفصیلات طلب کی تھیں۔

آج ‏سینیٹر اعظم سواتی نے سپریم کورٹ میں ڈی جی ایچ آر سے ملاقات کی۔ انہوں نے اپنا تحریری جواب، میڈیکل رپورٹس اور دیگر دستاویزات جمع کرائیں۔ تحریری جواب میں اعظم سواتی نے کہا کہ 3 نقاب پوش افراد مجھے گھر سے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں۔ ‏تشدد سے مجھے قے آئی اور کچھ دیر بے ہوش رہا۔ مجھے تھانہ سائبر کرائم منتقل کر دیا گیا۔

سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ایف آئی اے نے کہا اعظم سواتی دل کا مریض ہے، مزید تشدد برداشت نہیں کرسکتا۔ تین گھریلو ملازمین کو تشدد کرکے خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی۔ ایف آئی اے اہلکار میرے گھر کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی ساتھ لے گئے۔ ‏جس میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے گمراہ کن رپورٹ دی۔ میڈیکل رپورٹ میں حراست کے دوران تشدد چھپانے کی کوشش کی گئی، میرے بنیادی حقوق پامال کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اعظم خان سواتی کی ضمانت منسوخی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست ایف آئی اے کے تفتیشی افسر انیس الرحمٰن کی جانب سے دائر کی گئی، عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ راجا رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔ پیکا ایکٹ کے تحت جرائم کے کیسز اسپیشل کورٹس میں چلائے جاتے ہیں، عام عدالت اس طرح کی کیس میں ضمانت نہیں دے سکتی۔ اس کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اس پر عدالت کی مزید معاونت کریں اور اس کے ساتھ ہی کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ یاد رہے کہ اعظم سواتی نے فوج کے دو اعلیٰ افسران پر تشدد کا الزام عائد کیا تھا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔