جمہوریت کو جھوٹ اور تشدد سے خطرہ ہے: صدر بائیڈن

  • جمعرات 03 / نومبر / 2022

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ جمہوریت کو سابق صدر کے جھوٹ اور اس تشدد سے خطرہ ہے جسے انہوں نے ہوا دی ہے۔

صدر بائیڈن نے واشنگٹن ڈی سی میں بدھ کی شب ایک انتخابی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخاب چوری کیے جانے کے جھوٹے دعوؤں نے گزشتہ دو برسوں کے دوران سیاسی تشدد کو ایندھن فراہم کرنے اور ووٹروں کو خوف زدہ کرنے میں خطرناک حد تک اضافہ کیا ہے۔ صدر بائیڈن نے یہ بیان ایسے موقع پر دیا ہے جب ملک میں وسط مدتی انتخابات میں چند روز ہی باتی رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  امریکہ بھر میں امیدوار ، گورنر کے لیے، کانگریس کے لیے، اٹارنی جنرل کے لیے، سیکریٹری آف اسٹیٹ کے لیے، ہر سطح کے عہدے کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں اور اگر وہ (ٹرمپ) ان انتخابات کے نتائج قبول نہیں کرتےتو یہ امریکہ میں بدنظمی اور افراتفری کا راستہ ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ یہ غیر قانونی ہے اور یہ غیر امریکی ہے۔

صدر بائیڈن نے سیاسی تشدد اور امریکہ کے سخت مقابلے والے مگر پرامن اور درست انتخابات کی طویل روایت پر ابھرتے ہوئے خدشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ری پبلکنز , ووٹروں کے حقوق دبانے اور انتخابی نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے جس میں وہ 2020 میں ناکام ہو گئے تھے۔

صدر بائیڈن کی یہ تقریر اس واقعے کے کئی روز بعد سامنے آئی ہے جب سین فرانسسکو میں ایک شخص نے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے گھر میں ان کے شوہر پال پیلوسی کو یرغمال بنانے کے بعد شدید زخمی کر دیا تھا۔ پال پیلوسی پر حملے نے کانگریس اور انتخابی کارکنوں کو خوف زدہ کر دیا ہے۔

بائیڈن کے بقول ملک میں سیاسی تشدد کو نظرانداز یا اس پر خاموش رہنے والوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ خاموشی اس جرم میں شراکت ہے