کنٹینر کے قریب فائرنگ، عمران خان سمیت متعدد لیڈر زخمی
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں چیئرمین عمران خان کے کنٹینر کے قریب نامعلوم شخص نے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
گوجوانوالہ میں عمران خان کا کنٹینر جوں ہی وزیر آباد پہنچا تو نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کی زد میں آ کر متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ صحافی حامد میر کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ عمران خان کی ٹانگ میں گولی لگی ہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
کنٹینر سے اعلانات کیے جا رہے ہیں عمران خان خیریت سے ہیں اور انہیں گاڑی میں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ نامعلوم شخص کنٹینر کے نیچے تھا جس نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی ۔ فائرنگ سے 8 افراد زخمی اور ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ اس کی شناخت معظم گوندل کے نام سے ہوئی ہے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی گئی جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
عمران خان کا مارچ ایک سڑک سے گزر رہا تھا کہ گلی سے ایک شخص نکلا اور کنٹینر کے قریب آکر فائرنگ کردی۔ موقع پر موجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملزم کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرکے اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے عمران خان کو کنٹینر کے اندر فوراً محفوظ جگہ پر منتقل کیا۔ کنٹینر سے بھی اعلان کیا گیا کہ عمران خان کی ٹانگ میں گولی لگی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے عمران خان کو کنٹینر سے نکال کر فورا بلٹ پروف گاڑی میں نامعلوم مقام پر طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا ہے۔
فواد چوہدری نے بتایا ہے کہ سینیٹر فیصل جاوید،عمرڈار،احمد چھٹہ کوبھی گولیاں لگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلاموقع نہیں جب لیڈر کو مار دیا جاتا ہے۔ فائرنگ کرنے والے نے عمران خان کا نشانہ لیا تھا، ہم سب نے ان کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی جان بچائی۔
وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
عمران خان لانگ مارچ کے ساتویں روز لاہور سے وزیرِ آباد پہنچے تھے اور انہوں نے تین مقامات پر خطاب کرنا تھا، لیکن اُن کے خطاب سے قبل ہی کنٹینر پر فائرنگ کی گئی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے ایک شخص کو موقع سے اسلحے سمیت حراست میں بھی لیا ہے۔
اسلام آباد میں احتجاج کے لیے انتظامیہ نے تحریکِ انصاف سے 39 نکاتی بیانِ حلفی طلب کر لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی یہ یقین دہانی کرائے کہ احتجاج کے دوران کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا قانون شکنی نہیں ہوگی۔ انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے طلب کیے گئے بیانِ حلفی پر عمران خان کے دستخط لازمی قرار دیے ہیں۔