ہٹلر اور مجیب الرحمان کے انقلاب سے پاکستان کے حقیقی آزادی مارچ تک
- تحریر سرور غزالی
- جمعہ 04 / نومبر / 2022
پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ میں سیاست کے میدان میں اگر کوئی کامیاب ترین سیاسی رہنما گزرا ہے تو وہ بلا شبہ شیخ مجیب الرحمٰن ہی ہے۔ عوام کو اس قدر پراثر طریقے سے حرکت میں لانا ان کی ہی قدرت تھی۔
وہ اپنی سحرانگیز شخصیت اور اپنی تقاریر کے جادوئی الفاظ سے عوام کے ہرطبقے کو متاثر کرنے کے ماہر تھے۔ انہیں عوام کے سمجھدار طبقے سے لے کر عام کم پڑھے لکھے اور علم سے بے بہرہ طبقے کی سوچ پر یکساں طور سے اپنی سوچ اور دلائل مسلط کرنے میں بے پناہ مہارت حاصل تھی۔ اگر آپ ان کی تقاریر کا متن، الفاظ کا چناؤ اور ان کے لہجے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھیں ان کا تجزیہ کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ کھلم کھلم بغاوت، خونی انقلاب، کو عدم مساوات، ناانصافی اور حق تلفی کا واحد حل بتاتے کبھی نہیں تھکتے تھے۔ وہ عوام کو اپنے بیانیہ سے اس حد تک مسحور کرنے کی قدرت رکھتے تھے کہ عوام کی سوچ مفلوج کرکے اپنی سوچ ان پر تھوپ دیا کر دیا کرتے تھے۔ وہ اپنی تحریر و تقریر میں خون کی بات بڑے شوق سے کیا کرتے تھے مگر خون کی ندی بہانے کی بات نہیں کرتے۔ بلکہ وہ لہو کی گرماہٹ اس کی حرمت اور عزت کی بات کرتے تھے۔ وہ پسینے کی جگہ خون کی بات کرتے مگر عوام کا عام سمجھ بوجھ والا طبقہ اس سے ان کا خون بہنے اور بہانے کا مطالبہ ہی لیا کرتا تھا۔ لہذا جب عوامی نافرمانی کی تحریک چلی تو خون کا بہادینا یا بہنے دینا اس کا ایک اہم جز مانا گیا۔
یہ بھی بدقسمتی سے سچی حقیقت ہے کہ انقلاب لہو کی گرماہٹ کا مطالبہ کرتا ہے مگر خون کے بہنے سے ہی جلا پاتا ہے۔ عوام کی اکثریت یا ایک بہت بڑے حصے کو، خاص کر نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ہر معاشرے میں حتی کہ ایسے معاشرے میں بھی جہاں عوام کو تمام سہولیات میسر ہوں وہاں بھی نوجوان اور عملی زندگی کے لیے کوشاں نوجوانوں کو انقلاب، ہلچل اور تحریکی تبدیلی کا نعرہ بہت اچھا لگتا ہے۔ مگر قانون کی حکمرانی اور بالادستی نہ ہو، مقننہ کی معاشرے پر گرفت نہ ہو تو حالات بے قابو ضرور ہوجاتے ہیں۔ اور انقلاب خونی انقلاب میں بدل جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشی بدحالی سخت سے سخت قوانین کو بھی انقلاب کے سامنے بے دست وپا کر دیتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اپنے اسی خونی انقلاب کو کامیاب بنانے کے باوجود اپنے ہی لہو میں نہا کر شہید ہوگئے۔ جبکہ ایک دوسرے سیاست داں ذوالفقار علی بھٹو باوجود اس کے کہ وہ اپنی سحر انگیز شخصیت اور تقریر سے عوام کو متحرک کرنے کے ہنر سے آشنا تھے مگر ان کا بیانیہ خونی انقلابی نہیں تھا تو انہیں جیل میں بند رکھنے کے باوجود کوئی لہر ان کی حمایت میں نہیں اٹھی۔ یہ اور بات ہے کہ ملک کے ایک حصے میں برپا خونی انقلاب کے باوجود طویل فاصلے پر واقع دوسرے حصے میں ایسے کسی بیانیہ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی۔ لیکن پھر انقلاب بھی برپا نہ ہوا۔
اب ایسا لگ رہا ہے کہ عوام کو اپنے جادوئی اور طلسماتی سحر انگیزی سے رجھا کر ایک بڑےانقلاب، حقیقی آزادی کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ لیکن اسے بھی خون ریزی یا تبدیلی کسی ایک کے چناؤ سے جوڑا جارہا ہے۔ کیا ایک بار پھر انقلاب کا خونی کھیل دستک دینے لگا ہے؟ ہٹلر نے بھی اپنے مبہم بیانیہ سے عوام کی بدحالی اور بے روزگاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو متحرک ضرور کیا تھا اور اس کے ذریعہ اقتدار کا حصول ممکن بنالیا تھا۔ باوجود اس کے کہ اس کی پارٹی اقلیت میں تھی لیکن اس نے عوامی انقلاب نہیں برپا کیا تھا بلکہ اس نے طاقتور طبقے کے سہارے عنان حکومت سنبھال لی تھی۔ اس کو طوالت اور بقا دینے کے لیے اسے طاقت اور جارحیت کا سہارا لینا پڑا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے عوام پر محدود مگر مضبوط اور طاقتور طبقے پر گرفت ہی اس کے اقتدار کو طوالت اور انقلاب کا لبادہ پہنانے کا سبب بنی۔ اور بالآخر ناپائیدار ثابت ہوئی۔ ہٹلر کے دور کو جرمن قوم کا صرف ایک محدود طبقہ ہی انقلاب سے تعبیر کرتا ہے جبکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی بربریت اور ملکی شکست و ریخت سے ساری دنیا باخبر ہے۔
دنیا کے کسی بھی بڑے طویل المدت پائیدار انقلاب کو کسی نظریے سے جوڑا جانا ضروری ہوتا ہے۔ اور اسے طاقت کے استعمال سے ممکنہ حد تک دور رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے اسے کبھی شعلہ جوالہ تو کبھی پانی کے بہاؤ جیسی نرمی سے درست رخ بھی دینا ضروری ہوتا ہے۔ انقلاب یقیناً ظلم و جبر کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ معاشی ناہمواری اور ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔ لیکن کسی گہری سوچ یا نظریے کے بغیر انقلاب برپا کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی بلکہ ابتدائی ہلچل بعد میں معاشرے میں موجود کسی دوسری طاقتور قوت کو توانا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اور اصل انقلابی نعرہ ادھورا رہ جاتا ہے۔
ہمارے خطے میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ چلائی گئی تحریک کسی اور ہی سمت چل پڑتی ہے اور انقلابی نعرے کے پیچھے کوئی دوسری سوچ اپنا کام کر گزرتی ہے۔