عمران خان پر حملے کے خلاف پی ٹی آئی کا احتجاج: فیض آباد پر جھڑپیں
عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پی ٹی آئی نے جمعے کو ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ اسلام آباد کے نزدیک فیض آباد چوک پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔
فیض آباد کے مقام پر ہونے والے احتجاج میں پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے جب کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی جانب سے کہا گیا تھا کہ عمران خان شوکت خانم اسپتال میں پارٹی کی سینئر قیادت کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت مخالف لانگ مارچ جاری رکھنے اور جمعے کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان لاہور کے شوکت خانم اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ وہ جمعرات کو وزیر آباد میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مبینہ ملزم نوید کا پولیس کا دیا گیا دوسرا بیان سامنے آ گیا ہے۔ ویڈیو بیان میں ملزم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ عمران خان کے بچنے پر انہیں دکھ ہوا ہے کیوں کہ جو مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوا۔
تفتیشی افسران کے اس سوال پر عمران خان کو مارنے کا کیا مقصد تھا؟ اس پر مبینہ ملزم نے دعویٰ کیا کہ "عمران خان کہتے ہیں میں نبی ہوں جس طرح پیغمبر اسلام نے لوگوں میں نکل کر پیغام دیا، اس طرح میں آپ کو پیغام دے رہا ہوں۔" مبینہ ملزم نوید کے مطابق عمران کے کلپس اس کے موبائل میں موجود ہیں اور ان کے بیانات کے بعد ضمیر نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ عمران خان کی بات کو تسلیم کیا جائے۔