احتجاج جاری رہے گا، مجھے مارنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی: عمران خان

  • جمعہ 04 / نومبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ تین لوگوں نے وزیرآباد یا گجرات میں مارنے کی منصوبہ بندی کی تھی، ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ سڑکوں پر نکلوں گا۔ وہ گزشتہ روز قاتلانہ حملہ میں زخمی ہوگئے تھے۔

شوکت خانم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے 4 گولیاں لگی ہیں۔ لانگ مارچ میں روانہ ہونے سے ایک دن پہلے پتا چلا تھا کہ انہوں نے وزیرآباد یا گجرات میں مجھے مارنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لوگ ووٹ اس لیے دیتے ہیں کہ لوگ ان سے تنگ تھے اور اس کے بعد وہی اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کرتی ہے کہ اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ ان کو واپس لے آتی ہے اور یہی سازش ہوتی ہے۔

ایک بیرونی اور ایک اندرونی سازش ہوتی ہے اور کہتے ہیں ہم نیوٹرل ہوگئے ہیں، نیوٹرل کا کوئی بھی مطلب لیں۔ انہیں پتا تھا سازش ہو رہی تھی لیکن راستہ نہیں روکا۔ اس ملک میں اسٹیبلشمنٹ کو عادت پڑگئی تھی کہ جہاں وہ دھکیلیں گے لوگ وہاں چلے جائیں گے۔ جب وہ تبدیلی لے کر آتے ہیں مٹھائیاں بٹتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو یہ عادت تھی، ان کو ایک دھچکا پڑا کہ پاکستانی قوم نے فیصلہ کیا 30 سال سے جو چوری کر رہے ہیں ان کے ساتھ نہیں جانا چاہتے۔

عمران خان نے کہا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ریکارڈ جلسے ہوئے تو فیصلہ کیا، مجھے مارنے کا فیصلہ پہلے کیا۔ 4 لوگوں نے بند کمرے میں مجھے مارنے کا فیصلہ کیا اور میں نے ٹی وی پر جا کر لوگوں کو بتایا۔ ویڈیو بنائی اور 4 لوگوں کے نام دیے اور ویڈیو باہر رکھی ہوئی ہے۔ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو ریلیز کریں تاکہ دنیا اور قوم کو پتا ہو کہ کس نے یہ کیا کیونکہ یہاں جو قتل ہوتا ہے تو پتا نہیں چلتا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خبریں کہاں سے آتی ہیں، ایک تو حکومت میں ساڑھے تین سال رہا ہوں، میرے تعلقات ہیں۔ اداروں کے اندر لوگوں کو جانتا ہوں، ایجنسیوں کے اندر لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ سارے اداروں کے اندر بھاری اکثریت جو پاکستان کے ساتھ ہورہا ہے، اس پر متنفر ہیں۔ اور 6 مہینوں میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ جو کیا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، معیشت نیچے جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوسری سازش کی اور فیصلہ کیا کہ عمران خان کا سلمان تاثیر طرز کا قتل کرو۔ پہلے کہو اس نے مذہب کی توہین کی ہے یا توہین رسالت کی ہے۔ اس پر ٹیپس بھی بنائیں اور ریلیز بھی کیں اور مسلم لیگ (ن) کے لوگ اس کو پروجیکٹ کرنا شروع ہوئے۔ جو انہوں نے وزیرآباد میں کیا، ان کا منصوبہ یہ تھا کہ کہیں گے دینی انتہا پسند نے عمران خان کو قتل کردیا جس طرح سلمان تاثیر کا ہوا تھا کیونکہ اس نے مذہب کی توہین کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے یہ منصوبہ 24 ستمبر کو جلسے میں عوام کے سامنے رکھا تھا اور بالکل اسی اسکرپٹ پر ہوا ہے جو وزیرآباد میں ہوا۔ وزیرآباد حملے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا اور انہیں میری پچھلی غلطیوں کا پتا تھا لیکن میں نے ایک اور منصوبہ بنایا تھا اور ان کو پتا تھا کہ اسلام آباد میں اتنے عوام آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  تین لوگوں نے منصوبہ بنایا، یہ وہ تین لوگ نہیں جن 4 لوگوں کا میں نے پہلے نام بتایا تھا۔ یہ تین اور ہیں، مجھے کیسے پتا چلا۔ اندر سے لوگوں نے بتایا، وزیرآباد سے ایک دن پہلے۔ انہوں نے مجھے مارنے کا منصوبہ بنایا اور اسکرپٹ یہی تھا کہ عمران خان سے بڑا کوئی اسلام دشمن نہیں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ پر الزامات عائد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تین لوگوں نے بنایا، سب سے پہلے رانا ثنااللہ، کیونکہ رانا ثنااللہ قاتل ہے، رانا ثنااللہ اور شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں 70 لوگ قتل کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے اور خوف طاری کرنا چاہتے تھے کہ کہیں اسلام آباد میں عوام نہ آجائیں۔ رانا ثنااللہ نے لانگ مارچ سے بچنے کے لیے ماڈل ٹاؤن میں لوگوں کو قتل کروایا تھا۔ شہباز شریف پر ہیومن رائٹس واچ یا ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ ہے کہ 1997 سے 1999 تک وزیراعلیٰ تھا تو اس نے پولیس مقابلے میں کوئی 900 قتل کروائے تھے۔ عابد باکسر نے ٹی وی پر آکر بیان دیا تھا کہ یہ کیسے لوگوں کو مرواتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ میں یہ دو شامل ہوئے اور ساتھ یہ مل گئے۔ فیصل اس لیے مل گیا کہ ایک تو ڈرٹی ہیری، اوپر وعدہ کرکے آیا تھا فکر نہ کرو میں ان کو ٹھیک کرتا ہوں، میرے اوپر چھوڑو۔ اس پارٹی کو ٹھکانے لگا کر آتا ہوں۔ میں نے شروع دن سے  بتایا تھا کہ اس نے ظلم شروع کیا، سوشل میڈیا کے لوگوں، بچوں کو اٹھانا کہ تم نے یہ کیوں کیا۔ پھر پھینٹا لگا کر گھر بھیج دیا اور خوف پھیلایا ہوا جیسے ہم دشمن، بیرونی لوگ یا غدار ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اس دن میں جب کنٹینر پر تھا تو ایک دم گولیوں کا برسٹ آتا ہے، میری ٹانگ میں گولیاں لگ جاتی ہیں اور میں گرجاتا ہوں۔ جب میں گر رہا ہوتا ہوں تو دوسرا برسٹ آتا ہے۔ ایک بائیں طرف سے آگے سے آتا ہے، دو آدمی تھے اور جب گر رہا ہوتا ہوں تو میرے اوپر سے گولیاں جا رہی ہوتی ہیں اور میرے خیال میں نشانہ بناتے تو میں نے بچنا نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پکڑا گیا اور اس کو جنونی اور انتہاپسند کہا گیا۔ یہ انتہاپسند نہیں بلکہ اس کے پیچھے پورا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبےکو بے نقاب کریں گے، اس میں اور لوگ بھی ملوث ہیں اور یہ منصوبہ پہلے کا بنا ہوا ہے۔ جو اصل لوگ ہیں جنہوں نے وہاں سے گولیاں چلائی ہیں، میں بچ بھی جاتا ہوں تو پھر بھی مارنا ہے اور یہ آدمی ہمیں اور نقصان پہنچا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی سب ڈرتے ہیں کیونکہ یہ قانون سے اوپر ہیں۔ جب تک یہ تین لوگوں استعفیٰ نہیں دیں گے تو تفتیش کیسے ہوگی۔  آرمی چیف سے کہتا ہوں اس طرح کی کالی بھیڑیں فوج کو نقصان پہنچا رہی ہیں، یہ سمجھتے ہیں ہم انسان نہیں ہیں۔ بھیڑوں کو ادھر موڑ دو ادھر موڑ دو، ہم انسان ہیں۔ انسانوں کو جانوروں کی طرح نہ ٹھیک کریں، انسان کسی وقت کھڑا ہوجاتا ہے اور یہ قوم کھڑی ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کے سامنے دو راستے ہیں، یا پرامن انقلاب آئے گا یا خونی انقلاب آئے گا۔ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ شعور کا جن بوتل سے نکلا ہے، اب فیصلہ یہ کرلیں کہ ہم پرامن طریقے سے ملک میں تبدیلی لے کر آئیں گے جو شفاف انتخابات کے ذریعے آئے گا۔ یا پھر وہ ہوگا جو ایران میں ہوا تھا، تباہی ہوگی۔ پھر سری لنکا کی طرح لوگ سڑکوں میں آجائیں گے اور افراتفری ہوگی۔ اللہ نے مجھے بچایا ہے لیکن انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔