عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر حملے کے ایک روز بعد تفتیش کار مزید 2 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں لیکن اس سانحہ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عمران خان ذمہ داران میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے علاوہ ایک اعلیٰ فوجی افسر کا نام شامل کروانا چاہتے ہیں۔
یہ صورتحال وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے کیونکہ عمران خان کی جانب سے ایف آئی آر میں فوجی افسر کو نامزد کرنے پر اصرار کیا جارہا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے اجلاس کے دوران بھی اٹھایا گیا جس میں آئی جی پی فیصل شاہکار کے علاوہ دیگر اعلیٰ سرکاری افسران اور صوبائی وزیر قانون نے بھی شرکت کی۔
ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اجلاس میں مقدمے کے اندراج کے تمام قانونی پہلوؤں سے متعلق سنگین مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ مقدمے کے اندراج میں مزید تاخیر شواہد کو محفوظ بنانے اور وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر مسلح حملے میں ملوث ملزمان کو سزا دینے کی تمام کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
خیال رہے کہ اس واقعے میں ایک شخص کی موت بھی واقع ہو گئی تھی جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 14 افراد زخمی ہوئے۔ معاملے کی سیاسی جہتوں کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی اس مقدمے میں سینیئر فوجی افسر کو نامزد کرنے کے خلاف ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس معاملے پر کئی ملاقاتیں کی ہیں جن میں پرویز الٰہی نے انہیں فوجی افسر کا نام شامل نہ کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی۔
تھانے میں درخواست دائر کرنے کا معاملہ پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ پولیس سربراہ نے حکومت کو آگاہ کیا کہ تفتیش شروع کرنے کے لیے ایف آئی آر پہلی باضابطہ دستاویز ہوتی ہے لیکن موقع پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے مبینہ حملہ آور سمیت 3 مشتبہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے باوجود بدقسمتی سے تفتیشی عمل تاحال تعطل کا شکار ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں آئی جی پی نے شرکا کو بتایا کہ پولیس کو عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کے حوالے سے پنجاب پولیس کا مؤقف تھا کہ مقدمہ درج کرنے سے پہلے جے آئی ٹی کی تشکیل قبل از وقت ہو گی۔
اجلاس بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوگیا جب شرکا کو بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت مزید ملاقاتوں میں اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے اجلاسوں میں حتمی فیصلہ لینے کے بعد درخواست کی کاپی وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایک سوال کے جواب میں عہدیدار نے کہا کہ 2 دیگر ملزمان وقاص اور ساجد بٹ کو پولیس نے گزشتہ روز گرفتار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے پستول اور گولیاں مرکزی ملزم نوید بشیر کو 20 ہزار روپے میں فروخت کی تھیں۔ مزید تفتیش کے لیے نوید بشیر کو محکمہ انسداد دہشتگردی گوجرانوالہ (سی ٹی ڈی) کے افسران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے درجن بھر سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل وقوعہ کی فوٹیج کا جائزہ لینے کے دوران متعدد غلطیاں سامنے آئیں۔ سب سے بڑی غلطی سیکیورٹی اقدامات میں خامی تھی جسے اس واقعے کی تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ترجیح پر رکھا جانا چاہیے۔ سربراہ پنجاب پولیس نے ذیلی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ صوبائی حکومت کے سامنے اٹھایا جہاں انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی نجی سیکیورٹی ٹیم نے پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کی خلاف ورزی کی۔
سیکیورٹی ایڈوائزری میں گجرات پولیس نے عمران خان کے چیف سیکیورٹی آفیسر (سی ایس او) کو عوامی اجتماع میں ان کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر بلٹ پروف روسٹرم استعمال کرنے کی سختی سے تاکید کی تھی۔ گوجرانوالہ پولیس نے چیف سیکیورٹی آفیسر کو پیشکش کی تھی کہ وہ عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے لانگ مارچ کے دوران ان کے زیرِاستعمال کنٹینر پر بلٹ پروف روسٹرم فراہم کر سکتے ہیں۔
اس معاملے کو پولیس نے کابینہ کے کچھ ذیلی اجلاسوں میں بھی اجاگر کیا تھا۔ چیف سیکیورٹی آفیسر کو ایڈوائزری موصول ہوئی تھی اور انہوں نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ بلٹ پروف روسٹرم کنٹینر پر نصب کیا جائے گا۔ تاہم جب سیکیورٹی ایڈوائزری کی خلاف ورزی کی گئی تو پولیس نے عمران خان کے سیکیورٹی افسران کو مشورہ دیا کہ وہ کنٹینر پر موجود پولیس کو ان کی سیکیورٹی کے لیے رسائی دیں۔
اس کے باوجود سیکورٹی عملے نے مسلح پولیس کو کنٹینر میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جہاں عمران خان کنٹینر پر آنے والے ہر شخص سے خود بات چیت کے لیے با آسانی دستیاب تھے۔ سیکیورٹی کی اس سنگین خلاف ورزی پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے اظہارِ ناراضگی کیا تھا۔
وزیر آباد میں کنٹینر پر مسلح حملے میں ملوث دیگر حملہ آوروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پولیس افسر نے کہا کہ ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ تحقیقات کا آغاز ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کئی دیگر قانونی خامیوں کی بھی نشاندہی کی جو عدالت میں تفتیش کاروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تو انہیں سب سے پہلے قریبی سرکاری ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانون ابتدائی طبی علاج کے لیے متاثرہ شخص کو نجی طبی مراکز لے جانے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ غلط یا ادھوری طبی قانونی رپورٹیں قانونی کارروائی میں وقفہ یا تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں۔ عمران خان کو وزیر آباد سے شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھا جوکہ سرکاری طور پر قابل قبول میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
اطلاعات ہیں کہ پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتال ’جناح ہسپتال لاہور‘ سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے شوکت خانم بھیجی تھی۔
پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری سید حسن مرتضیٰ نے وزیر آباد فائرنگ اور واقعے میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے زخمی ہونے کی ایف آئی آر کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی ابھی تک گجرات ڈویژن میں عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرا سکے۔
وزیرآباد میں ہونے والے اس واقعے میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی آر میں ہر ایک گھنٹے کی تاخیر متاثرہ فریقین کے مقدمے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے جمعے کے روز ہسپتال سے ایک ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا کہ میرے خلاف ہونے والی اس قتل کی سازش میں تین افراد، وزیرِاعظم شہباز شریف، وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ اور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے سربراہ میجر جنرل فیصل شامل ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کروا رہی ہے تاہم ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی۔ ’آپ کو پتا ہی ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے۔
یاد رہے کہ صوبہ پنجاب میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے تاہم پنجاب کے وزیرِاعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کا تعلق اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق سے ہے۔ ق لیگ کی قیادت نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر اب تک کیوں نہیں ہو پائی۔ ق لیگ کے سینیئر رہنما اور سابق صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت نے شوکت خانم ہسپتال کے باہر اس حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ’سب ہو جائے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا، ذرا صبر کریں۔‘
قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج میں ایک گھنٹے کی تاخیر بھی متاثرہ فریق کے لیے عدالتی کارروائی کے دوران انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ وکیل اور قانونی ماہر اسد جمال نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجداری نوعیت کے واقعات میں فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ عدالت میں ملزم کا وکیل اس بات سے فائدہ اٹھاتا ہے اور عام طور پر اگر ایف آئی آر درج کروانے میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ کی تاخیر ہو تو ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔