عمران خان پر حملے کے مقدمے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی

  • منگل 08 / نومبر / 2022

آئی جی پنجاب پولیس نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرکے رپورٹ عدالت عظمیٰ جمع کرادی۔

گزشتہ روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب پولیس کو 24 گھنٹوں میں سابق وزیراعظم پر حملے کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا اور رپورٹ طلب کی تھی۔

آج سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر اندراج کی رپورٹ جمع کرادی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قاتلانہ حملہ کے مقدمہ میں اقدام قتل کی دفعہ 302 کے ساتھ دہشت گردی کی دفعات 324 بھی شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ وزیر آباد کے سٹی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔

رپورٹ آئی جی پنجاب کی جانب سے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔

دوسری جانب عمران خان پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں پراسکیوشن نے مقدمے کی پیروی کے لیے 3 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ 3 رکنی پراسکیوشن کمیٹی جے آئی ٹی اور تفتیشی افسر کو شواہد جمع کرنے کے حوالے سے معاونت فراہم کرے گی۔

سابق وزیر اعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ فوجی افسر، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے اصرار پر پنجاب کی حکمراں اتحادی جماعتوں (پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق) کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔ وزیر آباد میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں ان تینوں کا نام شامل نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔