ارشد شریف کی ہلاکت قتل لگ رہا ہے: وزیر داخلہ
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کا واقعہ بظاہر قتل لگ رہا ہے اور اس بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کینیا سے واپس آنے والی ٹیم سے بریفنگ لی ہے اور یہ واقعہ بادی النظر میں قتل لگتا ہے۔ اس معاملے میں بہت سے چیزیں اکٹھی کر لی ہیں اور ابھی ان کے بارے میں بتانا قبل از وقت ہے۔ اس کیس میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر یہ قتل کا معاملہ ہوا تو کینیا میں موجود دو بھائیوں کا اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق ہے۔ وہ اس میں بری الذمہ نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات میں ایسی باتیں بھی سامنے آئی ہیں کہ وہاں کی پولیس کا ایسی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے اور کس کے کہنے پر ایسی ٹارگٹڈ کارروائیاں کرتی ہے۔ کینیا پولیس سے مزید تحقیق کا کہا ہے لیکن وہ تعاون نہیں کر رہی۔ ان کی جانب سے غلط شناخت کی کہانی میں حقیقت نہیں لگ رہی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عوام کی آمد و رفت کے ذریعے کھلے رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں ورنہ اس کے نتائج ہوں گے۔ گزشتہ تین روز سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فتنہ، فسادی احتجاج ہو رہا ہے اور کروڑوں افراد اپنے ضروری کاموں کے لیے سفر نہیں کر پا رہے۔ عوام کے آمد و رفت کے ذریعے کھلے رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور دونوں صوبوں کی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ میں دونوں صوبائی حکومتوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں ورنہ اس کے نتائج ہوں گے۔ وفاقی حکومت دونوں صوبائی حکومتوں کو مراسلے لکھ رہی ہے کہ اپنی اپنی حدود میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز ے راستوں کو کھلوائیں اور مٹھی بھر شر پسند افراد کو وہاں سے ہٹائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عوام نے اس کا احتجاج مسترد کر دیا ہے اور عوام کو پہنچنے والی تکلیف پر میں بطور وفاقی وزیر داخلہ عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ میں شرپسند افراد کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس رپورٹس اکٹھی ہو رہی ہیں اور اس پر کارروائی ہو گی۔