ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم

  • منگل 08 / نومبر / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ کرہ ارض کو محفوظ بنانے کے لیے درکار ہر کارروائی میں پاکستان تعاون کرے گا۔

کوپ 27 سمٹ کے موقع پر سعودی گرین انیشیٹو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں اس اہم سمٹ کے انعقاد کے لیے شہزادہ محممد بن سلمان اور مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کا اظہار تشکر کرتا ہوں۔ اس سمٹ کا انعقاد انسانی بقا اور علاقائی امور سمیت اس مستقبل کے لیے اہم ہے جو زیادہ سرسبز اور ’حیاتیاتی تنوع‘ سے بھرپور ہوگا، میں آپ کے بروقت اقدام اور قیادت کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے کلائمیٹ ایکشن ایجنڈا میں قدرت سے موافق حل ترجیحی بنیادوں پر شامل ہیں۔ میں آپ کی جانب سے قدرت سے موافق اقدامات کی تائید کرتا ہوں جن میں ’ایفوریسٹیشن‘ بھی شامل ہے جو ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنے کے ساتھ ساتھ قومی اور علاقائی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو روکنے اور کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

گرین انیشیٹو سمٹ کے مقاصد پاکستان کی قومی حیاتیاتی پالیسی سے ہم آہنگ ہیں۔ گرین پاکستان پروگرام 2030 تک ہمارے جنگلات، جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ، ان میں اضافے اور انتظام پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں سعودی گرین انیشیٹو کے لیے سعودی عرب کی تعریف کرنا چاہوں گا۔ اس حوالے سے پاکستان پہلے ہی معلومات کے تبادلے اور ماہرین کے ذریعے اپنا مکمل تعاون فراہم کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض شروعات ہے، پاکستان ایم جی آئی کے تمام رکن ممالک کو تعاون فراہم کرنے پر مکمل آمادگی کا اظہار کرتا ہے۔ کرہ ارض ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے مسائل کا حل طلب کررہا ہے۔ ایم جی آئی جیسے اقدامات اس جانب اہم قدم ہیں، پاکستان اس اقدام کے وسیع تر مقاصد کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان کا تعاون صرف اس اقدام تک محدود نہیں ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کرہ ارض کو محفوظ بنانے کے لیے درکار ہر کارروائی میں تعاون جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی 27ویں کانفرنس (کوپ 27) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دو روزہ دورے پر مصر میں موجود ہیں۔