بیرون ملک سفر کے دوران غیر ملکی نقد کرنسی لے جانے کی حد نصف کردی گئی

  • بدھ 09 / نومبر / 2022

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرون ملک سفر کے دوران غیر ملکی نقد کرنسی لے جانے کی موجودہ حد کو نصف کر دیا ہے۔

 اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کے لیے فی سفر 5 ہزار ڈالر (یا دیگر غیر ملکی کرنسیوں میں اس کے مساوی رقم) اور سالانہ 30 ہزار ڈالر ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی۔

یہ دونوں حدیں 18 سال سے کم عمر (نابالغ) افراد کے لیے نصف ہوں گی، یعنی فی سفر ڈھائی ہزار ڈالر اور سالانہ 15 ہزار ڈالر لے جانے کی اجازت ہوگی۔ تاہم افغانستان کا سفر کرنے والے افراد کے لیے نقد غیر ملکی کرنسی لے جانے کی حد فی سفر ایک ہزار ڈالر اور سالانہ 6 ہزار ڈالر پر برقرار رہے گی۔

اس اعلان کے بعد اب ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر بھی یہی سالانہ حد (30 ہزار ڈالر) لاگو ہوگی۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ فی سفر نقد رقم لے جانے کی حد فوری طور پر لاگو ہوگی جبکہ سالانہ بنیادوں پر عائد کی جانے والی حدیں یکم جنوری 2023 سے لاگو ہوں گی۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز ان ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جو متعلقہ فرد کے پروفائل کے ساتھ منسلک نہیں ہیں یا پھر وہ کاروباری مقاصد کے لیے کیے جارہے ہیں، اس لیے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر 30 ہزار ڈالر کی سالانہ حد مقرر کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو مشورہ دیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بین الاقوامی لین دین کے لیے ڈیبٹ کارڈز اور کریڈٹ کارڈز کا استعمال کارڈ ہولڈرز کے پروفائل کے مطابق ہو اور صرف ان کی ذاتی ضروریات کے لیے استعمال ہو۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ شہریوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس مقررہ کردہ سالانہ حد کی کسی صورت خلاف ورزی نہ ہو، تاہم بینکوں پر بھی ان حدود کی نگرانی لازمی کرنے کی ضرورت ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے قیاس آرائیوں اور گرے مارکیٹ کو روکنے کے لیے غیر قانونی فارن ایکسچینج آپریٹرز کے خلاف ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے غیر قانونی زرمبادلہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور ملک میں غیر قانونی زرمبادلہ کے کاروبار کے خلاف کارروائی کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کی مشترکہ ٹیمیں اب غیر قانونی فارن ایکسچینج آپریٹرز کی شناخت کریں گی اور ان پر جرمانہ عائد کریں گی۔