مذہبی جنونی کا حملہ اور اصل حقائق؟

ہمارے لاڈلے کھلاڑی اور پی ٹی آئی چیئرمین پر لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں جو قاتلانہ حملہ ہوا ، وہ قابل افسوس ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے کہ ایک کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ پنجاب میں قائم پی ٹی آئی کی اپنی حکومت شواہد مٹا سکتی ہے۔

ایک سے زیادہ شوٹرز کی موجودگی، جوابی فائرنگ، نشانہ بننے والوں کی مجموعی تعداد اور زخموں سے متعلق حقائق کی تفصیلات جواب طلب ہیں۔ یہ بھی کہ حملے کے بعد تحقیقات کا مروّجہ طریقۂ کار نہ اپنانا بھی ایک نوع کی بددیانتی ہے۔ حملے کے بعد ملک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی زہر آلود تقاریر سے شہریوں کی جان و مال کو خطرات ہیں۔ پنجاب اور کے پی حکومتوں کی سرپرستی میں شرپسند املاک پر حملے کر رہے ہیں۔ عالمی میڈیا میں اس کی کوریج ہو رہی ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما کا اصرار ہے کہ مجھے قتل کرنے کی سوچی سمجھی گہری سازش کی گئی، میرے قتل کی کوشش کرنے والے وہ نہیں ہیں جن کی نشاندہی مضحکہ خیز ایف آئی آر میں کی گئی ہے۔ ہم اس ایف آئی آر کو چیلنج کریں گے۔ مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ گوجرانوالہ یا گجرات میں حملہ ہو گا اور مجھے قتل کرنے کی کوشش ہو گی، میں نے تو پہلے ہی اس سلسلے میں ویڈیو ریکارڈ کروا دی تھی کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔

اس سلسلے میں وہ پیہم وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ ثناء اللہ کے ساتھ آئی ایس آئی کے میجر جنرل کا نام پوری تکرار کے ساتھ لیتے چلے آ رہے ہیں۔ درویش کو پی ٹی آئی چیئرمین سے پوری ہمدردی ہے لیکن ان کے لئے دو چار نہیں تیس چالیس سوالات ہیں، بالکل اسی نوعیت کے جس طرح سی این این کی خاتون صحافی بیکی اینڈرسن نے چند ایک پوچھے ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال کہ آپ جو شدید نوعیت کے الزامات عائد کر رہے ہیں آپ کے پاس ان حوالوں سے کیا شواہد موجود ہیں مگر وہ اس کا براہِ راست جواب دینے کی بجائے دوڑ دوڑ کر ’’پس منظر‘‘ کی طرف جاتے ہیں۔ اسی طرح ترک چینل کی اینڈریا سانکے نے بھی ان الزامات کے ثبوت مانگے تو جواب ندارد ۔ باہر کے لوگ تو اس ہستی کو اتنا نہیں جانتے جتنا ہم اندر کے لوگ جانتے ہیں، یہ کہ اپنے مخالفین پر گھٹیا اور گھناؤنے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں عوام کی نظروں میں برا دکھانا موصوف کی جبلت میں ہے۔

نواز شریف ہی کی مثال لے لی جائے۔ اتنے بلند کردار اور صاف شفاف قومی رہنما کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتے ہوئے ہمارے سابق کھلاڑی نے اخیر کر دی لیکن اس طوفان بدتمیزی کے باوجود اس کی ساڑھے تین سالہ حکمرانی میں کوئی ایک الزام کسی بھی عدالت میں ثابت نہیں ہو سکا۔ اپنے دیگر سیاسی مخالفین کے خلاف کرپشن کی داستانیں گھڑتے ہوئے کون کون سے مقدمات نہیں بنائے گئے۔ عدالتی مہربانوں کی مہربانیاں الگ سے رہیں لیکن وقت نے ان تمام الزامات کو جھوٹا و بیہودہ ثابت کیا۔ آج اگر بہت سے کرم فرما، ہمارے اس تیسرے نجات دہندہ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کو ڈرامہ کہتے ہوئے اس کی اپنی گھڑی ہوئی کارستانی قرار دے رہے ہیں اور یہ استدلال کرتے ہیں کہ لانگ مارچ میں لاکھوں کی توقع رکھنے والے کو جب چار پانچ ہزار سے زیادہ لوگ میسر نہ ہو سکے تو فیس سیونگ کیلئے اس نے یہ سب کچھ خود کروایا ہے۔ تو یہ دریش اسے درست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسے پوری طرح تسلیم ہے کہ ہمارے ہر دلعزیز کھلاڑی پر بلاشبہ قاتلانہ حملہ ہوا ہے جو کہ ایک مذہبی جنونی نے یہ سمجھتے ہوئے کیا ہے کہ وہ اس کے خیال میں مذہبی تعلیمات کے خلاف جا رہا تھا۔

جسے شک ہے وہ اس کی وڈیوز ایک مرتبہ پھر سن لے کہ وہ کس دلیل کے ساتھ اسے گمراہ گردان رہا ہے، اذان اور ڈیک کی بات کرتا ہے۔ ختم نبوتؐ کا عقیدت بھرا بیانیہ سامنے لاتا ہے اور یہ کہ بقول اس کے یہ شخص اس مقدس عقیدے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا اور خود کو ایک بڑی ہستی کی حیثیت سے پیش کر رہا تھا۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ایسی مذہبی جنونیت کی مذمت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی انسان کے عقیدے کی پرکھ یا پڑتال کا حق کسی جنونی، قانونی یا پیشوا ہستی کو نہیں دیا جا سکتا۔ مذہب یا عقیدہ بندے اور خدا کا معاملہ ہے، اس میں اگر کوئی کلرجی ، گرجی یا مذہبی ٹانگ اڑاتا ہے تو ایسی ٹانگوں کا سدباب ریاست کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ ہمارے ملک کے تمام شہری بلاامتیاز مذہب و عقیدہ قابل احترام ہیں اور ان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ ضمیر کی آزادی کے ساتھ جو بھی مذہبی نظریہ یا عقیدہ رکھتے ہیں اس پر عمل پیرا ہوں البتہ ہماری سیاسی و مذہبی قیادت کی ذمہ داری ضرور بنتی ہے کہ وہ امور مملکت یا سیاست میں مذہبی ٹچ یا تڑکہ لگانے سے باز آ جائیں۔ ہمارے سابق کھلاڑی نے اس سلسلے میں حد سے زیادہ بداحتیاطی کا مظاہرہ پیہم جاری رکھا ہے۔ اپنی پاپولیریٹی بڑھانے کیلئے اس شخص نے موقع بے موقع مذہبی جنونیت بڑھانے والی تقاریر اور باتیں اس بہتات سے کی ہیں جن کا منفی رزلٹ اس کے سامنے آنا ہی تھا۔ سو بری طرح آیا ہے۔ خوش قسمتی سے اس جنونی کی پلاننگ اس کی ذہنیت جیسی گھٹیا تھی جس سے پی ٹی آئی کے پاپولر لیڈر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ایک بے گناہ کارکن کی جان بے وجہ چلی گئی جو یقیناً قابل افسوس بات ہے۔

اس کے ساتھ یہ تمامتر رویہ بھی قابلِ افسوس ہے کہ اس ناکام حملے کو کیش کروانے کیلئے جو مضحکہ خیز حرکات کی گئی ہیں، ایک ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے دس دس مزید جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے ملزم موقع واردات پر پکڑا گیا اور اس کی گھٹیا ذہنیت کا غماز بیان بھی فوری طور پر قوم کے سامنے آشکار ہو گیا۔ مگر جو لوگ قبیح فعل کا بڑا فائدہ اٹھانے اور اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے ایسی خواہشات کی تکمیل چاہتے تھے، انہیں اس سے صدمہ پہنچا۔ وہ جو کہانیاں بن رہے تھے ملزم کے واضح بیان سے انہیں دھچکا لگا، اس لئے پولیس والوں کو ننگی گالیاں دیتے ہوئے معطلی کے آرڈر تک جاری کروا دیے گئے۔ جھوٹوں اور ڈراموں کی ایسی ایسی گٹھڑیاں گھڑی اور کھولی جا رہی ہیں کہ الامان و الحفیظ!

مولانا صاحب کا یہ بیان اس کی کیا خوب ترجمانی کرتا ہے کہ ایکٹنگ میں شاہ رخ خاں اور سلمان خاں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ کبھی کہا دو گولیاں، پھر تین اور پھر چار۔ پہلے ایک ٹانگ پھر دوسری اور پھر بازو پر بھی پلستر اور پٹیاں۔ کنٹینر پر جو ایک گولی کا نشان ہے ظاہر ہے اس لوہے کے چند ٹکڑے ضرور چند افراد کو لگے لیکن خون کی تھیلیاں اس بہتات سے پھینکیں کہ بیان کرتے ہوئے بھی شرم آئے۔ ہیرو صاحب کو وزیرآباد سے شوکت خانم تک کوئی ہسپتال یا ابتدائی طبی امداد کا سنٹر نہ مل سکا۔ البتہ یہاں پہنچ کر بیہوش ہو گئے۔ کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہی بات کہ پوری تحقیقات کروائی جائیں تاکہ تمام جھوٹوں کی قلعی قوم کے سامنے کھل سکے۔