سیاست سے فوج کا کردار مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں: عمران خان

  • جمعرات 10 / نومبر / 2022

سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سیاست سے فوج کا کردار مکمل طور پر ختم کرنا مکمن نہیں، ان کی طاقت کا تعمیری استعمال ملک کو ادارہ جاتی بحران سے نکال سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار عمران خان نے اپنی رہائش گاہ پر روزنامہ ڈان کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔  ڈان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’یہ جان کر پُرسکون ہوں کہ میں زندہ ہوں‘۔

اگرچہ ان کے بہت سے حامی اب انہیں ایک نئے جمہوریت پسند سیاستدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو فوج اور سویلین حکومت کے درمیان تعلقات کے اصولوں کو دوبارہ وضع کرنا چاہتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ انہیں ادارے کی طاقت اور اثر و رسوخ پر یقین ہے اور ان کا خیال ہے کہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مثبت عمل دخل سے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے دورِ حکومت کے 3 برس کے دوران ان کے فوج کے ساتھ تعلقات میں تلخی آ گئی۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچا تھا کہ فوج ایک طاقتور اور منظم ادارہ ہے اس لیے جب میں ملک میں قانون کی حکمرانی لانے کی کوشش کروں گا تو وہ ایک اہم کردار ادا کریں گے۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے مافیاز اور اشرافیہ کے احتساب اور کرپشن کے خاتمے جیسی باتوں کو دہرایا جنہیں ان کی 2018 کی انتخابی مہم میں کلیدی حیثیت حاصل رہی۔

انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ان کے کنٹرول میں نہیں تھا، نیب کو فوج کنٹرول کرتی تھی۔ میں کچھ نہ کر سکا۔ وہ کہتے تھے کہ ’ہاں کچھ کیسز ہیں، ہم ان پر کام کر رہے ہیں‘، لیکن ہوتا کچھ نہیں تھا۔ میں نے یہ جانا کہ درحقیقت اسٹیبلشمنٹ نیب کو کنٹرول کرتی ہے اور جیسا چاہتی ہے اسے چلاتی ہے، اس کا مقصد سیاستدانوں کی کرپشن کی فائلیں رکھ کر انہیں کنٹرول کرنا ہے۔ وہ کبھی کسی کو دبوچ لیتے ہیں لیکن پھر وہ ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔

فوج اور ان کے درمیان تعلقات بگڑنے کے آغاز سے متعلق سوال پر عمران خان نے بتایا کہ ان کی حکومت کی جانب سے ان لوگوں کو سزا دینے میں ناکامی اس کا پہلا اشارہ تھی جن پر وہ کرپشن کا الزام عائد کرتے آئے تھے، دوسرا معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب تھا۔ عمران خان نے بتایا کہ ’آرمی چیف چاہتے تھے کہ میں علیم خان کو وزیراعلیٰ پنجاب کا عہدہ دوں اور میں ایسا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ان کے خلاف نہ صرف نیب کے مقدمات تھے بلکہ انہوں نے حکومت کی کروڑوں روپے مالیت کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں فروخت کردیا تھا‘۔

ناجائز اقدامات میں ملوث ہونے کے شبے کے باوجود علیم خان کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ یہ سمجھا کہ یہ محض الزامات ہیں اور علیم خان بھی ان الزامات پر اپنا دفاع کرتے تھے لیکن جب میں نے ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین سے علیم خان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے نقشہ دکھایا کہ علیم خان نے کس طرح سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ میری حکومت کے دوسرے سال کے اختتام اور تیسرے سال کے آغاز کے قریب ہوا‘۔

عمران خان نے واضح کیا کہ علیم خان کے وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کے مطالبے تک جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کے تعلقات ہموار انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ’وہ ایک منظم ادارہ ہے، ہم ان کی مدد لے سکتے تھے، ہم خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک ہی پیج پر تھے۔ یہ بس گزشتہ 6 ماہ کی بات ہے جب ان کا ان بدمعاشوں کے ساتھ سودا ہوگیا جنہیں سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔

احتساب کے معاملات پر فوج کے اثر و رسوخ کے بارے میں اپنے مؤقف پر زور دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’میرے اقتدار میں آنے سے قبل ہی فوج ان لوگوں کے پیچھے تھی، ان میں سے 95 فیصد کیسز میری حکومت سے پہلے کے ہیں، نواز شریف کے ایون فیلڈ کیس میں اگر فوج جے آئی ٹی کے لیے 2 بریگیڈیئر فراہم نہ کرتی تو ان کو سزا نہ ہوتی‘۔

عمران خان نیب کی عدم فعالیت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے کو فوج کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ دراصل نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر آرمی چیف کے ساتھ ان کے اختلافات تھے۔ اس حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ’دیکھیں مجھے فوج کی اندرونی سیاست کا علم نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ فوج کے ساتھ ہمارا تعلق اچھا چل رہا تھا، مجھے بعد میں پتا چلا کہ اگلے آرمی چیف کے بارے میں بڑا مسئلہ چل رہا ہے۔ میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ نومبر میں اگلا آرمی چیف کون بنے گا، اگر میرٹ پر ہو تو مجھے کیوں پروا ہوگی؟ بس اسے ایک بہترین انسان ہونا چاہیے، یہ معاملہ شریفوں اور زرداریوں کے لیے اہم ہوسکتا ہے لیکن میرے لیے نہیں‘۔

جنرل فیض حمید کو ان کا انتخاب سمجھے جانے کے تاثر کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’جنرل فیض واحد جنرل ہیں جنہیں میں جانتا تھا کیونکہ وہ میرے ساتھ سربراہ آئی ایس آئی کے طور پر کام کر رہے تھے۔ میں کسی اور کو نہیں جانتا تھا، میں نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہا کہ میں آپ کی تجاویز لوں گا کیونکہ میں دیگر امیدواروں کو نہیں جانتا۔ لیکن اس وقت میری پریشانی افغانستان تھی، مجھے خدشہ تھا کہ یہ خانہ جنگی کی نذر ہوجائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں نے محسوس کیا کہ امریکی ہم پر الزام عائد کریں گے اور ہم پر پابندیاں عائد کی جائیں گی، اشرف غنی نے مجھے بتایا کہ وہاں 3 لاکھ افغان فوجی ہیں اور ان کی تعداد بڑھے گی۔ صرف اشرف غنی ہی نہیں، آئی ایس آئی بھی ہمیں بتا رہی تھی کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوگی۔ میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض موسم سرما میں اس وقت تک عہدے پر رہیں جب تک افغانستان میں اقتدار کی منتقلی نہیں ہو جاتی۔

2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے یا نااہل ہونے اور چند میڈیا گروپس کی جانب سے بھرپور حمایت کے باوجود عمران خان اس مؤقف پر قائم ہیں کہ 2018 میں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ عمران خان کے مطابق 2018 میں وہ فوج کے پسندیدہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مقبولیت کی وجہ سے جیتے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ فوج نے 2018 کے الیکشن میں میرا ساتھ نہیں دیا تھا، مجھے یقین ہے کہ ہم جائز اور منصفانہ طریقے سے جیتے تھے۔ میں گزشتہ 6 ماہ میں اقتدار سے باہر ہوں، اس دوران میں نے 37 ضمنی انتخابات میں سے 29 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ حالانکہ اس وقت الیکشن کمیشن بھی ان کی حمایت کر رہا ہے، اس کے باوجود ہم نے 37 میں سے 29 ضمنی انتخابات جیت لیے۔

انتخابات اور دھاندلی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) متعارف کرانے کی کوششوں کی بھی فوج نے مخالفت کی۔ ’2 برس تک میں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) حاصل کرنے کی کوشش کی، آپ کے پاس ای وی ایم ہو تو دھاندلی کا امکان ختم ہوجاتا ہے کیونکہ ساری دھاندلی پولنگ ختم ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ مگر دونوں بڑی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی کیونکہ زیادہ تر حلقوں میں انہیں جعلی ووٹ ہی ملتے ہیں‘۔

گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت پر بھی دھاندلی کے الزامات سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم نے 3 ہزار ووٹوں کے مارجن سے 17 سیٹیں کھو دی تھیں، اگر اسٹیبلشمنٹ ہماری مدد کرنا چاہتی تو ہم آسانی سے یہ سیٹیں حاصل کر سکتے تھے۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ کمزور اکثریت پر مبنی حکومت ان کا سب سے بڑا چیلنج تھی۔ اگر انہیں دوبارہ کمزور حکومت ملی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس اختیار نہیں تھا، اس بار اگر مجھے واضح اکثریت نہ ملی تو میں اقتدار قبول نہیں کروں گا۔ کیونکہ اگر آپ کے پاس اکثریت نہیں ہے تو آپ کوئی کام نہیں کر سکتے۔ اگر کمزور اکثریت کے ساتھ آپ کی اتحادی حکومت ہو اور آپ کو آپ کے اپنے ہی لوگ بلیک میل کرتے رہیں تو حکومت کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

ایسی صورتحال میں فوج کا کردار زیادہ اہم ہو جاتا ہے کیونکہ ہمیں ان کی مدد کی ضرورت تھی اور ہم اسی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہے تھے۔ مرضی کی ہدایت پر عملدرآمد کی صورت میں فوج کا اثر و رسوخ برقرار رہنے پر مطمئن ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’ان کے کردار کو مکمل طور پر ختم کردینا خام خیالی ہوگا، وہ کئی برسوں سے اقتدار میں ہیں لیکن ایک توازن کی ضرورت ہے۔ یہ سوچنا کہ فوج کو سیاست سے باہر کر دیا جائے ناممکن ہے، ان کی طاقت کا تعمیری استعمال اس ملک کو ادارہ جاتی بحران سے نکال سکتا ہے‘۔