برطانیہ کا پہلا انڈین نژاد ہندو وزیر اعظم
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 11 / نومبر / 2022
ان دنوں پاکستانی سیاست میں ایک سابق کرکٹر نے ہلچل مچا رکھی ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ جب تک نومبر کا مقدس مہینہ گزر نہیں جاتا یہ سیاسی چوکوں کے چھکے چھڑاتا رہے گا۔
ایک صحافی یا کالم نگار کو لکھتے یا بولتے وقت اپنی ترجیحات ہی نہیں عوامی دلچسپی کے موضوعات کو بھی سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ چوبیس اکتوبر کو دیوالی کے موقع پر جس طرح ایک انڈین اوریجن کا پریکٹسنگ ہندو بیالیس سالہ رشی سونک انگلینڈ کا وزیر اعظم منتخب ہوگیا یہ واقعہ ایسا تاریخ ساز لمحہ تھا جس نے دیوالی کی روشنیوں کو دوبالا کر دیا۔ جس پر درویش کا فوری کالم لکھنا بنتا تھا لیکن ہمارے لاڈلے نے ایسے الجھایا ہوا ہےکہ دیگر کچھ سوجھنے ہی نہیں دے رہا۔ مندروں میں ماتھا ٹیکنے والے ایک ہندو رشی سونک کا وزیراعظم برطانیہ منتخب ہونا تاریخ ساز لمحہ کس طرح ہے؟ اس پر بعد میں آتے ہیں پہلے یہ کہ رشی سونک ہے کون؟ اور وہ کیا حالات ہیں جن میں ولایتی کشتی کا پتوار یا پاسبان ایک دیسی، پنجابی، انڈیا نژاد ہندو کو بنایا گیا ہے۔
اس میں جہاں برطانوی جمہوریت کی عظمت جھلکتی ہے، وہیں اکیسویں صدی کے انسان کی بلند ہوتی شعوری سطح کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سیاست میں کامیابی کے ساتھ ساتھ ناکامی بھی ہوتی ہے، پاپولریٹی سدا بہار شاہ بلوط یا بڑ کے درخت جیسی چیز نہیں۔ یہ تو ڈھلتی چھاؤں ہے جس میں اصل اہمیت ان مختصر قیمتی لمحات میں آپ کی یاد رہ جانے والی کارکردگی کو حاصل ہوتی ہے اسی کا نام ہسٹری ہے۔ 12مئی 1980 کو ساؤتھ ایمپٹن میں پیدا ہونے والے ہونہار بروا رشی سونک کا ہندو کھتری خاندان کسی زمانے میں ہمارے لاہور کے قریب گوجرانوالہ شہر کا باسی تھا ۔ یہ 1935 کی کہانی ہے جب ان کے دادا رام داس سونک برٹش انڈیا سے ہجرت کرکے افریقی ملک کینیا کے شہر نیروبی جا بسے۔ ایک ہندو کھتری کے لئے حساب کتاب کی مہارت کے ساتھ کلرک بننا کوئی برائی نہ تھی بلکہ درویش تو رام داس سونک کی سمجھ داری کو رام رام اور نمستے کے ساتھ سلام عرض کرتا ہے۔ شاید اس معصوم کی چھٹی حس نے محض 12 برس بعد اس خطے میں اٹھنے والی خونی لہر یا مذہب کے نام پر پھیلائی گئی منافرت و جنونیت کا ادراک کرلیا تھا۔ عین ممکن ہے اگر وہ بروقت ہجرت نہ کر جاتا تو لاہور اور گوجرانوالہ کے بیچ دہلی کی ٹرین پکڑتے کسی مذہبی جنونی کے ہاتھوں قتل کردیا جاتا اور اس کی بے نام و نشان کٹی پھٹی لاش ان ہزاروں لاشوں کا حصہ ہوتی، جن کی ٹرین کے ڈبے پر لکھا ہوتا کہ ’’گاندھی اور نہرو کے لئے تحفے‘‘۔
لاہور، پنڈی، سیالکوٹ اور ملتان جیسے ہنستے بستے ملٹی کلچرل ملٹی ریلیجس بارونق شہروں کو جنونیت نے جس طرح آگ اور خون میں نہلا دیا، ہندو پراپرٹی پر قبضہ کرنے کی وحشی ذہنیت نے جس طرح صدیوں کے مالکوں، مکینوں اور باسیوں کو پل بھر میں محرم سے مجرم بنا دیا، کوئی بچ کر جانے نہ پائے کے مقدس نعرے نے زندہ انسانوں کو نفرت کی آگ میں جلا دیا۔ گوجرانوالہ اس سے کہیں الگ تھلگ یا جدا تو نہیں تھا۔ بلاشبہ ردعمل دوسری جانب بھی ہوا لیکن اے کاش موت کے اصل سوداگروں کا بھیانک چہرہ کوئی ایمانداری کے ساتھ بے نقاب کرے۔ رشی سونک دنیا کا خوش قسمت انسان ہے جس کے دادا رام داس سونک نے شاید نفرت کی بروقت بوسونگھتے ہوئے انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا، پر عمل کیا ورنہ رشی سونک نے برطانیہ عظمیٰ کا وزیر اعظم کیا بننا تھا اس کا شاید وجود ہی دنیا میں نہ ہوتا۔
افریقہ میں ہندوؤں کا قیام خاصی تعداد میں رہا ہے۔ گاندھی جی بھی ایک مدت تک جنوبی افریقہ میں قیام پذیر رہے۔ شاید وہیں ان کی مسلم دوستی اور آزادی کی امنگ پروان چڑھی۔ رشی سونک کے والد محترم یشوہر سونک بھی سمجھ دار انسان تھے جو 1960 میں افریقہ سے ہجرت کرتے ہوئے اسی انگلستان میں جابسے جس سے چھٹکارا یا آزادی حاصل کرنے کے لئے ان کی قوم نے اتنی بڑی تحریک چلائی تھی۔ رشی کی دادی سہاگ رانی اگرچہ دہلی کی تھیں لیکن زیادہ زندگی ان کی افریقہ میں ہی گزری۔ رشی کی ماں اوشا سونک نے اپنے کنبے کے حالات بہتر بنانے میں فارماسوٹک کا کام کرتے ہوئے اپنے ڈاکٹر خاوند اور رشی کے والد یشوہر کا ہاتھ بٹایا اور خود رشی نے بھی محنت کرنے میں کبھی عار محسوس نہیں کی۔ دوران تعلیم گرمی کی چھٹیوں میں اپنے شہر ساؤتھ ایمپٹن کے کری ہاؤس میں بطور ویٹر کام کرنے کو اپنی توہین نہیں جانا اور آج وہ اپنی بیگم اکشتا مورتی کے ساتھ کنگ چارلس سے زیادہ دولت کا مالک ہے۔
رشی کی تعلیم ونچسٹر کالج میں ہوئی پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے لنکن کالج سے فلسفہ سیاست اور معیشت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے امریکا کی سٹانفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ وہیں ان کی ملاقات انڈیا کے ارب پتی بزنس مین نارائن مورتی کی بیٹی اکشتا مورتی سے ہوئی۔ یہ دوستی و محبت جلد شادی میں بدل گئی، اب یہ دو بچیوں کے والدین ہیں۔ رشی کے پڑھنے لکھنے کا ذوق بچپن سے ہی دکھائی دیتا ہے کیونکہ اپنے سکول میگزین کے وہ ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ آج کی برطانوی سیاست میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بریگزٹ کی حمایت یا مخالفت میں چل رہی ہے۔ کیونکہ دونوں اپروچیں برٹش سوسائٹی کے اندر ہی پائی جاتی ہیں جس پر الگ سے کالم لکھنا پڑے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ لیبر کے بالمقابل کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت 2010 میں جو بھی تھی 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم میں کامیابی کے باوجود ایسا دھچکہ لگا ہے کہ پھر کوئی بھی وزیر اعظم ٹک کر حکمرانی نہیں کرسکا۔
ڈیوڈ کیمرون کی دوسری ٹرم کو ایک ہی سال ہوا تھا جب اسے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 2016 میں ٹریذامے وزیراعظم بنیں تو وہ 2019 کی انتخابی کامیابی کے باوجود ناردرن آئرلینڈ کی ڈیل کو پارلیمینٹ میں منظور کروانے سے قاصر رہیں ۔ دسمبر 2019 میں بورس جانسن وزیر اعظم منتخب ہوئے تو انہیں کورونا لڑ گیا۔ کچھ ایسی بداحتیاطی ہوئی کہ 2022 میں اپنی ہی پارٹی کے ممبران پارلیمینٹ کا اعتماد کھو بیٹھے۔ برٹش کوئین کی موت سے دو روز قبل لزٹرس وزیراعظم بنیں اور سخت مقابلے کے بعد بنیں مگر پینتالیس روز کی کمترین میعاد میں اپنے پارٹی ممبران پارلیمینٹ کا اعتماد کھو دیا۔ انہیں یوکرین جنگ کی پیدا کردہ مہنگائی، سٹاک مارکیٹ کا گرنا، بینیفٹس میں کمی، ہیلتھ سروسز کے مسائل اور ہڑتالیں لے بیٹھیں۔ دیکھا جائے تو رشی سونک اپنی کنزرویٹو پارٹی کا بلامقابلہ اعتماد لیتے ہوئے جن مشکل حالات میں وزیراعظم انگلینڈ بنائے گئے ہیں، یہ عہدہ ان کے لئے کئی حوالوں سے بڑا چیلنج ہے۔
درویش ان چیلنجز پر بحث کرنے کی بجائے یہ عرض گزار ہے کہ ایک انڈیا نژاد ہندو کا انگلینڈ جیسی جمہوریت کی ماں کا وزیراعظم بننا ازخود جمہوریت، انسانی مساوات اور آزادیوں پر ایمان و یقین رکھنے والوں کے لئے تاریخی طور پر قابل فخر موڑ ہے۔ کئی لوگ اس نوع کی بحث چھڑ دیتے ہیں کہ رشی اوباما کی طرح عوامی ووٹ سے منتخب نہیں ہوئے۔ ان لوگوں کو امریکی آئین اور برطانوی آئین میں صدارتی و پارلیمانی تفاوت سمجھنا چاہیے۔ یہ ذہن میں رہے کہ وہ رچمنڈ سے عوامی ووٹ حاصل کرتے ہوئے ممبر پارلیمینٹ منتخب ہوئے ہیں اور کنزرویٹو پارٹی کے منتخب ممبران پارلیمینٹ کے اعتماد سے ہی اس پروقار منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو جمہوریت کی عظمت، خوبصورتی اور حسن کو سمجھنا چاہیے۔ یہ نہ جانے کیوں ہنوز میجارٹی کمیونٹی اور مینارٹی کمیونٹی کے گرداب سے نکل نہیں پائے۔ سچی جمہوریت میں نہ تو میجارٹی کا مطلب اس کی مناپلی و آمریت ہوتا ہے اور نہ مینارٹی کے معنی غلامی یا مستقل غلامی کے ہوتے ہیں۔ عوامی آرا وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ اگر انڈیا میں محض دو ڈھائی فیصد سکھ کمیونٹی کا شخص برسوں وہاں کا وزیراعظم منتخب ہو کر اپنی قوم کا سرفخر سے بلند کرسکتا ہے، اگر ایک ہندو خاتون ریاست ہائے متحدہ امریکا کی وائس پریذیڈنٹ اور کل کو پریذیڈنٹ منتخب ہو سکتی ہے۔ تو ہمیں بھی اس نوع کی پھیلائی گئی نفرت انگیز تنگناؤں سے باہر نکل کر اپنے تصورات کو انسانیت کی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اس امتیازی سوچ کو ختم کرنا ہو گا کہ کوئی غیر مسلم پاکستان کا سربراہ مملکت و حکومت نہیں بن سکتا۔