امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات
امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے پیر کو پہلی رو برو ملاقات کی۔
بائیڈن کے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے تقریباً دو سال بعد ہونے والی یہ ملاقات ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جب دونوں سپر پاورز کے درمیان اقتصادی اور بین الاقوامی سکیورٹی کے معاملات پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اور وہ عالمی اثر و رسوخ کے لیے مسابقت کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا کے ایک لگژری ریزورٹ ہوٹل میں دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کیا۔ جہاں وہ بڑی معیشتوں کے گروپ جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ گفتگو کے آغاز میں صدر بائیڈن نے کہا کہ ان کی اور شی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ ان کی اقوام اپنے اختلافات کو سنبھال سکتی ہیں اور باہمی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں رہنما تعلقات کو بلند سطح پر لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بائیڈن کے ساتھ کھل کر اور گہرائی سے تبادلہ خیال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں رہنما اپنے اپنے ملکوں میں اندورنی طور پر مضبوط سیاسی موقف کے ساتھ اس ملاقات میں آئے۔ صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے گزشتہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا اور اب اس کے پاس اگلے ماہ جارجیا میں دوبارہ ہونے والے الیکشن میں اپنی کامیابی کو مزید تقویت دینے کا موقع ہے۔ دوسری طرف چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قومی کانگریس نے صدر شی کو گزشتہ ماہ تیسری ریکارڈ پانچ سالہ مدت کےلیے رہنما منتخب کر لیا۔
ملاقات سے قبل صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول حاصل کرنے سے ان کی چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت میں مزید تقویت ملے گی۔ چینی ہم منصب سے پہلی رو برو ملاقات کے حوالے سے بائیڈن نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ مزید مضبوط ہو رہے ہیں البتہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکہ کے صدر نے کمبوڈیا کے دارالحکومت میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان اور ایسٹ ایشیا سمٹ کے رہنماؤں کے ساتھ سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔
امریکہ اور چین کے صدور کی یہ ملاقات جو بائیڈن کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہے۔ بیجنگ اور واشنگٹن ڈی سی بڑے مسائل پر متفق نہیں ہیں۔ ان مسائل میں تائیوان، بحیرہ جنوبی چین میں نیویگیشن کی آزادی، تجارتی طریقۂ کار اور سیمی کنڈکٹرز پر امریکی برآمدی کنٹرول کے قوانین کے بعد ایڈوانس ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش شامل ہیں۔
رواں سال اکتوبر میں امریکہ نے سیمی کنڈکٹرز پر امریکی برآمدی کنٹرول کا پروگرام شروع کیا تھا جو کہ چین کی کمپیوٹر صنعتی صلاحیت کو محدود کر دے گا۔ تاہم بائیڈن نے کہا کہ وہ اور چین کے صدر ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے درمیان بہت کم غلط فہمی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہمیں ابھی یہ معلوم کرنا ہے کہ سرخ لکیریں کہاں ہیں اور اگلے دو برس میں ہم میں سے ہر ایک کے لیے سب سے اہم چیزیں کیا ہیں۔