تحریک انصاف نے وزیر آباد حملے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی

  • سوموار 14 / نومبر / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز نے آج سپریم کورٹ میں وزیر آباد سانحہ کی تحقیقات کے لئے درخواست دائر کی ہے۔

لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی پر جو تشدد ہوا اور انہیں جو ٹیپ بھیجی گئی اس معاملے کو سنا جائے۔ اسی طرح ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات اور میرے اوپر وزیرآباد میں جو قاتلانہ حملہ ہوا، اس کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ میرے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا اور میں بطور سابق وزیراعظم ایف آئی آر کا اندراج نہیں کرواسکتا۔ پولیس نے میری ایف آئی آر رجسٹر نہیں کی جبکہ پنجاب میں ہماری حکومت ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سندھ نے عمران خان پر قاتلانہ حملہ، اعظم سواتی پر تشدد اور صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں درخواست دائر کی۔ سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے لاہور کی سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دی ہے اور جج صاحبان کو بتایا ہے کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

منڈی بہاؤالدین میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا ملک کا قانون سابق وزیر اعظم کو خود پر قاتلانہ حملہ کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق ایف آئی آر داخل درج کرنے کا حق دیتا ہے یا نہیں اور اگر وہ کہتے ہیں کہ تین لوگ میرے مجرم ہیں تو ان مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے یا نہیں۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اور سینیٹرز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔  در خواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں چیف جسٹس سے سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور تین نامزد افراد کے خلاف مقدمے درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس درخواست میں عمران خان حملہ، ارشد شریف قتل اور اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے مطالبے کیے گئے ہیں۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق ایس ایچ او (تھانیدار) دی گئی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا پابند ہے۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ درخواست پر ایف آئی آر درج نہ کرنا بنیادی حقوق اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا اعلی عہدوں پر فائز عوامی عہدیدار اور ملٹری لباس میں سینیئر افسران قانون سے بالاتر ہیں؟ اعظم سواتی کی مبینہ اڈیو سے متعلق درخواست میں یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اعظم سواتی کی ویڈیو بنانا اور اہلیہ کو بھیجنا انسانی وقار اور قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس واقعے کے بعد ’ارکان پارلیمان اپنے اپ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔