سماجی و نفسیاتی بیماریاں اور ان کا حل!
- تحریر قیوم راجہ
- منگل 15 / نومبر / 2022
رات کے دو بجے ہیں اور موبائل میرے ہاتھ میں ہے ۔ میری اہلیہ کے بغیر اگر کوئی انجان دیکھ لے تو شاید یہی سوچے گا کہ میں بھی بچوں کی طرح کوئی کھیل کھیل رہا ہوں لیکن ایسا کچھ نہیں۔ اہلیہ کو معلوم ہے کہ میں اس موبائل سے تحقیقی کام لیتا ہوں جس کی وجہ سے امن رہتا ہے۔
گھر میں امن ہے تو سمجھو ساری دنیا میں امن ہے۔ گھر میں امن نہ ہو تو پھر ساری دنیا میں بدامن نظر آتی ہے۔ اس وقت میں گوگل کی مدد سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آج تعلیم ہے، تہذیب کیوں نہیں؟ دولت ہے دیانت کیوں نہیں؟ قانون ہے انصاف کیوں نہیں؟ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وہ چار بڑی سماجی بیماریوں بد عنوانی، بد دیانتی، بد نظمی اور بد اخلاقی سے تنگ آ چکے ہیں لیکن مجھے یقین نہیں آتا۔ کیونکہ جو معاشرہ حقیقی معنوں میں ان سماجی بیماریوں کا شعور رکھتا ہو وہ ان بیماریوں کے علاج کا بھی سوچتا ہے مگر معاشرہ الٹا اصلاح کاروں کا مزاق اڑاتا ہے ۔ انہیں غیر حقیقت پسند اور جنونی کہتا ہے۔
آج سے چالیس سال قبل بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جب ہم تحریک آزادی کشمیر میں شامل ہوئے تو ہم نے ایک ایسی قومیت کا نعرہ لگایا جو فرقہ پرستی، علاقہ پرستی اور قبیلہ پرستی سے پاک ہو، جہاں فرد کی صلاحیتوں کے مطابق اسے معاشرے کی خدمت اور تحریک کی قیادت کا موقع ملے مگر چھدمی قوم پرستوں نے قومیت کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔ اب قوم پرستی انا پرستی اور نا اتفاقی کا ہم معنی لفظ بن گیا ہے۔
بد عنوانی، بد دیانتی، بد نظمی اور بد تہذیبی و بد اخلاقی کے اسباب کا میں نے اپنے پاس موجود اسلامی اور غیر اسلامی لٹریچر کی مدد سے جائزہ لینے کی کوشش کی تو البیرونی ، الغزالی اور ابن خلدون کے ساتھ ساتھ قدیم یونانی تاریخ کے عالمی مفکرین سقراط، افلاطون اور ارسطو کا نقطہ نظر بھی سامنے آیا۔ ان تینوں مغربی مفکرین نے سٹی، سٹیٹ اور فرد و معاشرے کے بارے جو موقف پیش کیا اس کے مطابق بد عنوانی اور بدیانتی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول انسان کے اندر جہاں جبلت و ہوس ہے وہاں عقل و شعور بھی اسی کی میراث ہے لیکن اس میراث کو ہر کوئی سنبھال نہیں پایا۔ جب جبلت انسانی قدروں سے آزاد ہو جائے اور ہوس عقل پر حاوی ہو جائے تو انسان خود غرض اور بے انصاف بن جاتا ہے بلکہ اسے اپنی ان زیادتیوں کا احساس تک نہیں رہتا جس کی وجہ سے توازن برقرار نہیں رہتا۔
اس کا حل عقل کے پاس ہے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ کسی بھی انسان نے اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ ایک دن موت آئے گی اور ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔ ارسطو کے مطابق موت انسان کا خاتمہ نہیں بلکہ اصلی و حقیقی گھر کی طرف واپسی ہے۔ اس لیے جو انسان انسان انسانیت کی خدمت کر کے اپنے اصلی گھر کی ملکیت کا سوچتا ہے وہی قابل اعتماد، قابل احترام اور کامیاب ہے۔ اسلام کے مطابق نفس انسان کا دشمن ہے جو انسان کو گمراہ کر کے حقوق اللہ اور حقوق العباد سے غافل کر دیتا یے۔ روائیتی مسلمان اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ حج کر کے سارے گناہ معاف کروا لیں گے۔ اول تو کسی کو معلوم نہیں کہ حج کا موقع بھی ملے گا یا نہیں۔ دوسرا حقوقِ العباد میں زیادتی کی معافی کا اختیار اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو دے رکھا ہے جبکہ شرک کا مطلب دنیا میں کسی بھی چیز کو وہ اہمیت دینا ہے جو اسے خدائی اصولوں سے دور کر کے ظالم، جابر اور بے انصاف بنا دے۔
اسلام میں ریاست اور حکومت جڑواں بھائی ہیں جن کی ترقی و اصلاح باہمی تعاون و تعلق پر منحصر ہے۔ مسلمان مفکر الفارابی کے مطابق اس تعلق میں عدم توازن تب پیدا ہوتا ہے جب سیاست میں نا اہل ، بد عنوان ، بد دیانت ، بد کردار، بد تہزیب اور بد اخلاق گرو داخل ہو جائے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب فلسفی باشعور لوگ سیاسی، ریاستی اور حکومتی معاملات میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔ مغربی مفکرین بھی الفارابی کے موقف سے متاثر ہو کر کہتے ہیں:
"Alfarabi relates the political upheavel to the divorce of the philosopher from government."
ریاست مدینہ کی ایک امتیازی خوبی قیادت و اہلیت کا اعلی معیار قائم کرکے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تاکہ عوام کو عدل و انصاف ملے۔ بعض مغربی ماہرین سماجیات غربت و افلاس اور بے روزگاری کو جرائم کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن وہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو بھول گئے ہیں۔ ایک اور مفکر ابن خلدون کا دعوی ہے کہ ماحول کا انسان کی نشو و نما میں اہم کردار ہے۔ ابن خلدون کے مطابق موروثیت سماجی بیماریوں کی جڑ ہے بلکہ وہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ کسی ایک گرو کا زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنا آزادی و انصاف کے لیے خطرہ ہے۔ جب کوئی گرو زیادہ عرصہ اقتدار میں رہتا ہے تو اس کی نسلیں آرام پسند ہو جاتی ہیں۔ پھر ایک دن کوئی طاقتور ملک یا گرو ا کر آرام سے ان کی ریاست پر قابض ہو جاتا ہے۔
ہمارا بھی آج یہی حال و المیہ ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ موروثیت کے شکار اسلامی ممالک اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں ہیں۔ انہیں اپنے موروثی نظام کے تحفظ کے لیے سامراجی قوتیں بلیک میل کر رہی ہیں۔ ہم میں سے جو آزادی کی جد و جہد کر رہے ہیں ان پر بھی ایک آرام پسند، عیاش پرست اور نمائشی قیادت مسلط کر دی گئی ہے۔ یہ لوگ صرف اسلام کے نزدیک ہی نہیں بلکہ سقراط اور ارسطو کے مطابق بھی نفس کے غلام ہیں۔ ان کے اندر یہ احساس ختم ہو گیا ہے کہ انہوں نے ایک دن مرنا ہے اور ان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ نفس کی غلامی حقیقت میں ایک نفسیاتی بیماری ہے جو انسان کو سائیکوٹک بنا دیتی ہے۔ وہ خود کو اس دنیا کا مالک و وارث تصور کرنا شروع کر دیتا ہے جو ایک غیر حقیقی بات ہے۔
الفرابی، الغزالی اور ارسطو کے مطابق انسان کو اس کی اصلیت اور اور زمہ داری کا احساس دلانے کے لیے فلسفی کو خلوت سے نکل کر میدان میں آنے کی ضرورت ہے لیکن وہ فلسفی ہم لائیں کہاں سے؟