آرمی افسران کو عہدے پر برقرار رکھنے کا اختیار وزیر اعظم کو دینے کیلئے قانون سازی

  • بدھ 16 / نومبر / 2022

حکومت، پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) 1952 میں اہم ترمیم پر غورکررہی ہے۔ نئی ترمیم سے وزیر اعظم کو ایک ایک سادہ نوٹی فکیشن کے ذریعے فوجی افسروں کی  تعیناتی اور تقرر کا اختیارحاصل ہوجائے گا۔

متعدد قانونی تبدیلیوں سے متعلق سمری کابینہ کی قانون سازی کے معاملات سے متعلق کمیٹی (سی سی ایل سی) کے سامنے پیش کیے جانے کے لیے تیار ہے جس کی وزارت دفاع نے گزشتہ ماہ منظوری دی تھی۔ بعد ازاں مسودے کو مجوزہ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 176 کی ذیلی شق (2 اے) کی شق اے کے موجودہ متن میں ’ری اپائنٹمنٹ‘ کے بعد لفظ ’ری ٹینشن‘ ڈالا جائے گا، اسی طرح سے لفظ ’ریلیز‘ کے بعد ’ریزائن‘ بھی شامل کیا جائے گا۔

موجودہ قانون کے مطابق وفاقی حکومت ایکٹ کی دفعات کو نافذ کرنے کے مقصد کے لیے ایسے قواعد بنا سکتی ہے جس سے ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات کی عمومی نوعیت متاثر نہ ہو، ایسے قوانین چیف آف آرمی اسٹاف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سمیت ایکٹ کے تابع افراد کا تقرر، دوبارہ تقرر، توسیع، ریٹائرمنٹ، ریلیز، برطرفی کے اختیارات فراہم کرتے ہیں۔

موجودہ سیاسی ماحول میں سامنے آنے والی اس پیش رفت کو اہم سمجھا جا رہا ہے جو کہ فوج میں متوقع کمان کی تبدیلی کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کرسکتی ہے۔ ڈان نے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے علاوہ وفاقی کابینہ کے کئی دیگر اراکین سے معاملے پر ردعمل جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن ان میں سے کسی رہنما نے بھی ردعمل نہیں دیا۔

فوج سے متعلق مقدمات کا تجربہ رکھنے والے سینئر وکیل نے ڈان کو بتایا کہ اس ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ آرمی چیف یا کسی بھی سینئر افسر کو جو کہ جلد ریٹائر ہونے والا ہے، اسے آئندہ احکامات تک اپنے فرائض جاری رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے مطابق حکومت آرمی چیف کے دوبارہ تقرر یا مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرتی ہے جس کے تحت وزارت دفاع کے ذریعے سمری جاری کی جاتی ہے جس کی وزیر اعظم سے منظوری کے بعد صدر مملکت کی جانب سے حتمی منظوری دی جاتی ہے۔

پاکستان آرمی ایکٹ میں مجوزہ تبدیلی کے بعد وزیر اعظم محض ایک سادہ نوٹی فکیشن کے ذریعے آرمی چیف کو ’برقرار‘ رکھ سکیں گے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 6 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد 29 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں جس میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہونے سے چند روز قبل ریٹائر ہونے والے ہیں جبکہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اگلے آرمی چیف بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔