ہمارے تیسرے نجات دہندہ کا نیا یوٹرن

پاکستانی صحافت سے درویش کو یہ شکایت ہے کہ یہ بالعموم نان ایشوز میں الجھی رہتی ہے۔ آج سے نہیں 1940بلکہ اس سے بھی پہلے جب اس مقدس نام کو اتنا تقدس حاصل نہیں ہو اتھا۔

اگر بیباکی سے غیر جذباتی تجزیہ کیا جائے تو ثابت ہو گا کہ تب بھی ہمارے اصل ایشوز وہ نہیں تھے جن میں مفادات کے بیوپاریوں نے اس خطہ ارضی کے باسیوں کو الجھایا ہوا تھا۔ اگر اس دور کے اخبارات نکال لئے جائیں اور ان کا تقابل آج کے اخبارات سے ہی نہیں جدید میڈیا کے مباحث سے کریں تو ثابت ہوگا کہ ہماری ذہنیت اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود وہیں کہیں کھڑی ہے۔ اسی کا خمیازہ ہم اپنی ذہنی شعوری، سیاسی، مذہبی ، ریاستی اور سماجی ہی نہیں معاشی پسماندگی کی صورت بھی چکا رہے ہیں۔ اور اگر ’طالبان خاں‘ جیسے تعلی باز کی نام نہاد شعبدہ بازی پر مبنی جعلی تبدیلی کے نمائشی نعروں میں خوش و مگن رہے تو انشااللہ اگلی ایک صدی کے بعد بھی یہیں کہیں کھڑے حقیقی آزادی کے نعرے لگا رہے ہوں گے۔

ناقدین کو فوراً سوال اٹھانا چاہئے کہ بھائی اگر تمہیں اصل ایشوز کا ادراک ہے تو تم کیوں نان ایشوز کی ڈرٹی گیم کا حصہ بنتے ہو تم اپنے ان حقیقی ایشوز کو کیوں نہیں اجاگر کرتے ہو تاکہ جنونیت کا دھیان ادھر سے ادھر منتقل ہوسکے ؟ جواب عرض ہے کہ جب کسی شخص کو من پسند کوکین یا کسی بھی ایسے نشہ آور مشروب کی لت لگ جائے تو گھر والوں کے لئے اسے چھڑانا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ وہی جانتے ہیں۔ جبکہ اسے اس نوع کی پڑیاں یا مشروبات پیش کرنے والے یار دوست ہمہ وقت دائیں بائیں حاضر و میسر ہوں ۔ فرد واحد کا اگر یہ حال ہے تو سوچئے کہ اگر قوم کا حاوی و موثر طاقتور طبقہ اس نوع کی لت میں مبتلا ہو تو اسے اس سے ہٹانا کتنا مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس کاوش میں کسی بھی مصلح حکیم صاحب پر حملہ بھی ہوسکتا ہے اس لیے ذراسنبھل کر حکمت و تدبر سے بات کرنی پڑتی ہے۔ اور بہت سی باتوں پر خاموشی بہتر ہوتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ سوسائٹی کے حاوی و موثر طبقات نے اس حوالے سے ایسی قدغنیں لگا رکھی ہیں کہ زندگی سے پیار کرنے والا کوئی بھی شخص بجلی کی ان ننگی تاروں کو چھونےسے پہلے بیس مرتبہ سوچے گا۔ لہٰذا درویش اکثر و بیشتر یہ التجا کرتے پایا جاتا ہے کہ اے خداوندان سماج ایک مورکھ سادھو کو بھی حریت فکر اور آزادی اظہار کا بنیادی انسانی حق بخش دو۔ تبدیلی کے ایک جعلی دعویدار نے اس کے حقیقی علمبرداروں کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ اس نوع کی آواز سنتے ہی عام آدمی ضرور سوچے گا کہ شاید یہ بھی اسی نوع کا چورن بیچنے والا کوئی نیا بہروپیا ہے ۔

پارٹیشن سے قبل جب قیام پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو ٹھیک اسی نوع کا جذباتی بخار ایک وائرس کی طرح پھیلا ہوا تھا پنجاب میں لیگ کی نہیں یونینیسٹ پارٹی کی حکومت تھی جس کے سربراہ کو وزیراعظم بولا جاتا تھا۔ جس طرح آج تبدیلی کے انقلابی دعویدار اپنے سیاسی مخالفین کو مطعون کرنے کیلئے بدزبانی میں کوئی کسر اٹھائے نہیں رکھتے ہیں، جس کو سب سے بڑا ڈاکو گردانتے ہوئے ان کا گلا خشک نہیں ہو رہا ہوتا، مفاداتی گیم میں اگر وہ ان کے گروہ کی مطابقت میں آ جائے تو پھر اس ڈاکو کو باپو بنانے میں یہ لوگ دیر نہیں لگاتے۔ آج اس وتیرے کو یوٹرن اور تب قیادت کی حکمت عملی یا سٹریٹیجی قرار دیا جاتا تھا۔ بہت سے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہ کیا اچھوتی تبدیلی تھی کہ خضرحیات کے خلاف گلے پھاڑ پھاڑ کر بدزبانی کرنے والوں نے عین اسی موقع پر پینترا بدلتے ہوئے نیا راگ الاپ دیا ’’تازہ خبر آئی اے، خضرساڈا بھائی اے‘‘۔

اس تمامتر دردمندی کا شان نزول ہمارے تیسرے نجات دہندہ کا تازہ دانائی پر مبنی یوٹرن ہے جو امریکی سازش کی نفی کے بیانیے پر مبنی ہے۔ 7مارچ سے شروع ہونے والا یہ پروپیگنڈہ مقدس وحی کی طرح چھایا ہوا تھا کہ پی ٹی آئی کے نوجوان اپنی گاڑیوں میں امریکی غلامی نامنظور کے بڑے بڑے سٹکرز لگائے لڑ رہے ہوتے تھے۔ امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعروں سے گلے پھاڑے جا رہے تھے آرمی چیف اور چیف جسٹس کو دہائیاں دی جا رہی تھیں۔ ابھی اس طوفان کو 9مہینے پورے نہیں ہوئے تو نئی بھیگی بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ جنگ والوں نے اپنے کارٹون میں کیا خوب لکھا ہے ’’میرے یوتھیو! جس طرح پرویز الٰہی ڈاکو تھا اب تمہارا چاچو ہے جیسے شیخ رشید چپڑاسی تھا اب تمہارا ماموں بن گیا ہے، ایسے ہی امریکی سازش کو بھول کر اب امریکہ کو ااپنا بڑا ابو سمجھنا ہے‘‘۔

اعلان فرمایا جا رہا ہے کہ سائفر بیانیہ ماضی کا حصہ ہے جو اب پیچھے رہ گیا ہے اب ہم امریکا سے دوستی کے خواہش مند ہیں۔ اگر ہمارا اور امریکا کا تعلق غلام اور آقا والا رہا ہے تو اس میں امریکا کا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ تو ہماری اپنی پاکستانی حکومتوں کا قصور تھا یعنی ان پاکستانی حکومتوں میں پی ٹی آئی کی حکومت بھی شامل ہے جن میں سے ایک قصور تو واضح ہے۔ عین یوکرین پر حملے کے وقت حالت جنگ میں مجھے روس کا دورہ نہیں کرنا چاہئے تھا یہ دورہ ہمارے لئے باعث شرم و ندامت تھا۔ اب اگر دوبارہ وزیر اعظم بنا تو امریکا سے اچھے تعلقات رکھنا چاہوں گا۔

درویش جیسے بہت سے لوگ روز اول سے اس سازشی بیانیے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے چلے آ رہے تھے اور اس نوع کے سوالات اٹھاتے رہے کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ میں وزیر اعظم ہوتے ہوئے بے اختیار تھا فیصلہ سازی کی حیثیت طاقتوروں کے پاس تھی۔ دوسرے لفظوں میں محض کٹھ پتلی تھا تو امریکی کیا اتنے بیوقوف ہیں کہ وہ طاقتوروں کی بجائے ایک کٹھ پتلی کی حکومت گرانے کیلئے سازشی بیانیے یا سکیمیں تشکیل دیں گے؟ بہرحال اب اسی سانس میں اپنے طاقتوروں کے حوالے سے وضاحتیں شروع ہو چکی ہیں۔ پارٹی ذمہ داران کو باقاعدہ خطوط لکھے جا رہے ہیں کہ سابقہ یا نئے آنے والے کسی بھی اباجی کے حوالے سے کوئی منفی جملہ نہیں کہنا ہے۔ الف  سے شروع ہونے والے اللہ کی طرح باقی دونوں ’ایز‘ کی حرمت کا بھی پورا خیال رکھنا ہے۔ انتخابی تاریخ کا بھی ایک طرح سے یقین ہو چکا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اگلے دس مہینے ہم نے سڑکوں پر رہنا ہے۔ مطلب انتخابات کے بروقت انعقاد کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو زندہ رکھنا ہے۔

آرمی چیف کی تعیناتی میں بھی اگر سینئر موسٹ آ رہا ہے تو اعتراض کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے تو پھر مزید ایشو کیا رہ جاتا ہے، سوائے فارن فنڈنگ کیس یا توشہ خانے کی کرپشن کے۔ دبئی میں جس خریدار نے اندر کی ساری کھچڑی یا کہانی کھول کر رکھ دی ہے اور یہ بتا دیا ہے کہ گھڑی ، انگوٹھی ، پن، کف لنکس کی قیمت ایک ارب 70کروڑ تھی لیکن مانگے گئے تھے پچاس لاکھ ڈالر جبکہ میں نے بیس لاکھ ڈالر میں سودا کر لیا۔ اس کو کہتے ہیں چونا لگانا یا یہ کہ چوری دا مال ڈانگاں دے گز۔