صدر مملکت سے اسحٰق ڈار کی ملاقات، آرمی چیف کے تقرر پر تبادلہ خیال

  • جمعہ 18 / نومبر / 2022

ملک کی مجموعی معاشی صورتحال اور اہم تقرری کے معاملے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے درمیان ایوان صدر میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔

ایوان صدر کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خزانہ نے ملاقات میں صدر پاکستان کو ملکی معاشی اور مالی صورتحال پر بریفنگ دی۔ صدر مملکت کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور متاثرین کی بحالی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے صدر کو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ تاہم وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران نئے آرمی چیف کی تقرری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور وزیر خزانہ نے صدر کو اہم تقرری پر اعتماد میں لیا۔ خیال رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو پوری ہو رہی ہے۔ فوجی ترجمان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے۔

صدر عارف علوی نے گزشتہ ہفتے اعتراف کیا تھا کہ قابل عمل حل تلاش کرکے سیاسی افراتفری کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی کھلاڑیوں سمیت طاقتور حلقوں کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف سے مشاورت کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف 9 نومبر کو لندن پہنچے تھے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شریف برادران کی لندن میں ہونے والی ایک اہم ترین ملاقات میں مبینہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو یا حالات و نتائج ہوں، وزیر اعظم کوئی بھی دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

 دریں اثنا اہم ترین تقرری اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر حکومت و اتحادی جماعتوں کی ابتدائی مشاورت مکمل ہوگئی ہے۔ ابتدائی مشاورت میں اتحادیوں نے وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلا دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ کی یکے بعد دیگرے مولانا فضل الرحمان اور سابق صدر آصف علی زرداری سے طویل ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ، عمران خان کے لانگ مارچ سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ میاں نواز شریف کی ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی۔ حکومتی اتحادیوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو مکمل حمایت کا یقین دلایا اور پیغام دیا کہ اہم تقرری سمیت دیگر  فیصلوں پر وزیراعظم آئینی اختیار کے مطابق اقدام کریں۔ ملکی داخلی استحکام، معاشی و سیاسی استحکام کے لئے مل کر آگے بڑھیں گے۔

ملاقاتوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانیے اور لانگ مارچ کو اہمیت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور تینوں بڑی اتحادی جماعتوں کا مستقبل قریب میں مل کر چلنے پر اتفاق کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے علاوہ میاں نواز شریف کا بھی اہم پیغام پہنچایا۔ طبیعت بہتر ہوتے ہی وزیراعظم میاں شہباز شریف جلد اتحادیوں کے ساتھ براہ راست بھی ملاقات کریں گے۔