نئے فوجی سربراہ کو درپیش چیلنجز اور سیاسی توقعات
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعہ 18 / نومبر / 2022
ایک عرصے سے پاکستان کے نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اور تعیناتی کا وقت قریب آنے کے ساتھ ساتھ اس میں تیزی آتی جار ہی ہے۔
عمران خان کے لانگ مارچ کے متعلق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس لانگ مارچ کا بڑا مقصد نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی میں عمران خان کی رائے کو اہمیت دیئے جانے کی کوشش کارفرما ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں اس حوالے سے نواز شریف سے مشاورت بھی کر لی ہے۔ یہ توقع کی جار ہی ہے کہ اب کسی بھی وقت وزیر اعظم کو نئے فوجی سربراہ کے حوالے سے ناموں کی فہرست ارسال کر دی جائے گی جس میں سے نئے سربراہ کا انتخاب وزیر اعظم کی صوابدید ہے۔ کہنے کو یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے لیکن یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وزیر اعظم کے لئے اس فیصلے میں کن کن حلقوں کی مشاورت اہم ہی نہیں ناگزیر ہے۔
عمران خان کی طرف سے اپنی پسند کی شخصیت کے حق میں دباؤ پیدا کرنے کی بھر پور کوشش اب حالات کو دیکھتے ہوئے دم توڑتے نظر آتی ہے کہ اب عمران خان کے بقول اب یہ ان کا موضوع نہیں رہا۔ نئے فوجی سربراہ کے طور ایک سے زیادہ نام سامنے آ رہے ہیں اور ان میں سے ایک شخصیت کے بارے میں زیادہ امکان ظاہر ہو رہا ہے۔ یہ بھی سمجھا جار ہا ہے کہ نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی سے ملک میں جاری سیاسی کھینچاتانی اور کشمکش کی صورتحال یکسو ہونے کی جانب مائل ہو جائے گی۔ اب تک کے سیاسی وعدے، یقین دہانیاں ، عزم کا اظہار ایک طرف لیکن یہ حقیقت ہے کہ نئے فوجی سربراہ موجودہ یقین دہانیوں کے پابند نہیں ہوں گے۔ ان کی اپنی حکمت عملی ہو گی، اپنی پلاننگ ہو گی اور اپنا نقطہ نظر ہوگا جس کے مطابق ملک کے سیاسی منظر نامے کی صورتحال بھی ایک رخ اختیار کرتے ہوئے کھل کر سامنے آ جائے گی۔
پاکستان کے علاقائی منظر نامے پہ نظر ڈالیں تو ایک طرف افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد طالبان حکومت پاکستان کی حمایت رکھنے کے باوجود مختلف امور کے حوالے سے خود پاکستان کے لئے کسی مسائل رکھتی ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اپنی موجودگی موضوط کرتی نظر آ رہی ہے اور ساتھ ہی سیکورٹی فورسز پہ ٹی ٹی پی کے حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی مسلح تحریک دہشت گردی کے واقعات کے طورپر نمایاں ہے۔ بلوچستان کے سنگین مسئلے کے عسکری اور سیاسی امور میں عسکری سطح کا کلی اختیار مسئلے کو سیاسی سطح پہ حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ کے طورپر محسوس کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان اور چین کے اشتراک کا سی پیک منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ دیگر امور کے علاوہ سی پیک منصوبہ پاکستان کے فرسودی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے بھی نہایت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ امریکہ اور ہندوستان کھل کر پاکستان میں جاری اس منصوبے کی مخالفت میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے سی پیک کو ہدف بنانے کا موضوع بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ چین کی اقصادی سرگرمیوں کے خلاف سمندری علاقے میں چار ملکوں، امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور ہندوستان پر مشتمل بحری جنگی اتحاد کی سرگرمیوں کی صورتحال میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ چین اپنی دہلیز پہ سی پیک کے منصوبے میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
دوسری طرف پاکستان کے لئے خالصتاً اپنا مسئلہ یعنی ہندوستان سے تعلقات کی صورتحال ایک مستقل مسئلے کے طورپر درپیش ہے۔ پاکستان انتظامیہ اور حکومتوں کی طرف سے ہندوستان کو بالخصوص متنازعہ ریاست کشمیر میں بڑی رعائتیں بلکہ فری ہینڈ دینے کے باوجود ہندوستان کو تعلقات بہتر بنائے جانے کی طرف راغب نہیں کیا جا سکا۔ گزشتہ بیس سال کے دوران کشمیر کے محاذ پہ اختیار کی گئی پسپائی کی حکمت عملی نے آج یہ دن دکھایا ہے کہ جب ہندوستان کھلے عام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پہ قبضے کرنے کے عزائم کے اعلانات کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے بالخصوص کشمیر کے حوالے سے پسپائی اور کمزوری کے کھلے مظاہرے سے عالمی سطح پہ ہندوستان کے اس موقف کو تقویت پہنچائی گئی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں جنگی خطرات کا موجب نہیں ہے اور یہ دونوں ملک اس مسئلے کو باہمی سطح پر حل کرنے پہ متفق ہیں۔ اندرو ن خانہ اس باہمی سطح کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کشمیر کی صورتحال سے بڑی حد تک لاتعلقی اختیار کرنے کے باوجود ہندوستان کو امن مذاکرات کے لئے رضامند نہیں کر سکا ہے اور امن مذاکرات کے لئے ہندوستان کی شرائط مزید سخت اور وسیع ہوتی جا رہی ہیں۔ یوں پاکستان کی سب سے پہلے پاکستان کی ناکام اور نامراد پالیسی نے ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کے مسئلے میں پیش رفت تو دور، خود پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے ہندوستان کے جارحانہ عزائم کا ہدف بنا دیا ہے۔
پاکستان کے تمام علاقائی اور داخلی امور کے حوالے سے صورتحال کی بہتری اور مثبت پیش رفت کے لئے سیاسی استحکام کی بنیادی شرط پہ سب کو ہی اتفاق ہے لیکن ملک میں سیاسی استحکام کے عارضی بندوبست کے پلان اے، پلان بی اور پلان سی کی عارضی بنیادوں کی حکمت عملی کی ناکامی کھل کر سامنے ہی نہیں آ چکی بلکہ عریاں ہوتے ہوئے ملک اور عوام کی بے چارگی کی صورتحال کا نوحہ پڑہتے نظر آتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے فوجی حلقوں کی طرف سے فوج کے سیاسی کردار نہ ہونے کی یقین دہانی اور عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملکی تقدیر کے تمام اہم فیصلوں میں فوج کی طرف اٹھتی نظروں سے یہ حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے کہ ملکی تقدیر کی حاکمیت فوج کے ہاتھوں میں ہی ہے۔
جن معاشی مفادات کو یقینی بنانے کے لئے دفاعی، خارجہ اور داخلی امور مضبوط آہنی ہاتھوں میں ہی رکھے گئے اور اس کے لئے مکمل سیاسی کنٹرول کا نظام بھی مضبوطی سے قائم، مسلط رکھا گیا، اس پالیسی اور حکمت عملی نے ملک کو اقتصادی طور پر تباہی کے دہانے پہ لاکھڑا کیا ہے۔ ملک کی سیاسی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ پاکستان کے اس داخلی اور علاقائی منظر نامے میں ملک کے نئے فوجی سربراہ کا کردار جہاں ایک طرف کئی چیلنجز رکھتا ہے وہاں ملک اور عوام کی اس اہم ترین عہدے پر فائز ہونے والی شخصیت سے بہت بڑی امیدیں، توقعات بھی وابستہ ہو چکی ہیں۔ ملک کے سلامتی اور بقا سے منسلک و مربوط ان امور کی صورتحال میں ملک اور عوام منتظر اور ملتمس ہیں کہ ’ بتا تیری رضا کیا ہے‘۔