ایران میں افغان پناہ گزینوں کی حالت زار
- تحریر قیوم راجہ
- جمعہ 18 / نومبر / 2022
سیدہ تحمینہ مظفری ایران کے روحانی دارالخلافہ مشہد میں 1982 کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین نے افغانستان پر سوویت یونین کے حملہ کے بعد ایران ہجرت کی تھی۔ تحمینہ نے ایران میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ شاعری اور تاریخ و ثقافت کی اجاگری ان کا شوق اور انسانی حقوق پر کام ان کا انسانی وصف ہے۔
افغان مہاجرین کی اکثریت پاکستان اور ایران میں ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں افغان مہاجرین صرف کام ہی نہیں بلکہ کاروبار بھی کرتے ہیں جبکہ ایران میں افغان پناہ گزینوں پر ایران پرعائد 43 سالوں سے ظالمانہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا بھی اثر پڑا ہے، جس کی وجہ سے ایران میں مردوں کی نسبت خواتین پر زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایران میں افغان خواتین کی تعلیم صحت اور زندگی کی عام ضروریات کے حوالے سے سیدہ تحمینہ مظفری نے ہوش سنبھالتے ہی کام شروع کر دیا تھا۔
میں جب جون 2019 میں تین ماہ کے لیے فردوسی یونیورسٹی مشہد میں ایک تحقیقی مقصد کے لیے گیا تو سیدہ تحمینہ مظفری نے مجھے افغان مہاجر خواتین کے متعدد کیمپوں کا دورہ کروایا۔ کیمپ کی خواتین نے مجھے بتایا کہ کس طرح تحمینہ کی کاوشوں سے ان کی زندگی کی بے شمار مشکلات حل ہوئیں ۔ ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ کیونکہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے غیر ملکی اداروں سے تعاون حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ پیسے بھیجنے اور منگوانے کا آن لائن سسٹم بھی بند ہے جس کی وجہ سے امداد کا زیادہ تر انحصار ایران کے مقامی اور وہاں ّباد مہاجرین پر ہی ہے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے تحمینہ مظفری جیسے انسانی حقوق کے نمائندے سب سے زیادہ جس چیز میں بے بس نظر آتے ہیں وہ افغان مہاجرین کے شہری حقوق ہیں۔ یورپ میں دنیا کے کسی بھی خطے سے کسی بھی رنگ نسل و مزہب سے تعلق رکھنے والا ہر فرد پانچ سال بعد شہریت حاصل کر لیتا ہے جبکہ افغان مہاجرین پاکستان میں ہوں یا ایران میں وہ اور ان کے کسی بھی مسلمان ملک میں پیدا ہونے والے بچے بھی ہمیشہ غیر ملکی رہتے ہیں۔ تحمینہ مظفری خود بھی ایران میں پیدا ہونے کے باوجود ایرانی شہریت سے محروم ہیں۔ اب وہ اپنے خاوند کے پاس آسٹریا چلی گئی ہیں جہاں یقیناً انہیں کچھ عرصہ بعد شہریت مل جائے گی۔ لیکن ایک اسلامی ملک میں انہیں یہ حق نہ ملنا انتہائی افسوس ناک امر ہے۔
تحمینہ مظفری آسٹریا جا کر ایران میں اپنے ہم وطنوں کو بھولی نہیں ہیں۔ وہ وہاں سے میرے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کام اب بہتر انداز میں کر سکیں گی۔
روس اور یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں تمام یورپی ممالک نے یوکرین کے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ ان کے تمام انسانی حقوق کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ یوکرین کے تمام مہاجرین کو یورپی یونین کے قانون کے مطابق مقررہ وقت پر شہریت بھی مل جائے گی۔ اب سوال ہے کہ اگر مغرب ایسا کر سکتا ہے تو اللہ اور رسول کو ماننے والے اسلامی ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔
عرب ممالک کے پاس صرف دولت ہی نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر زمینیں بھی ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دلوں کو بھی وسیع کریں اور باقی دنیا کی طرح انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں غیر ملکی مزدوروں اور سیاسی پناہ گزینوں کو شہری حقوق دیں۔