صدر پاکستان کی اوورسیز پاکستانیوں کی عزت افزائی

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دل میں پاکستان دھڑکتا ہے اور وہاں رہنے کے باوجود اپنے وطن عزیز کی بہتری اور تعمیر وترقی کا نہ صرف جذبہ رکھتے ہیں بلکہ کوشاں رہتے ہیں پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے، انہیں ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔

 لیکن کبھی بھی سرکاری یا نیم سرکاری سطح پر عملی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی عزت افزائی نہیں کی گئی۔ اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پرائیڈ آف پاکستان کے اعزاز سے نوازتے ہوئے صدر پاکستان ڈاکٹر محمد عارف علوی نے میڈل آف ایکسیلنسی عطا کیا۔  ان کی کوششوں او رخدمات کا عملی اعتراف کیا۔ صدر پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی ان پاکستانیوں کو دیا گیا جنہوں نے بیرون ملک رہ کر پاکستان کے لیے اور وہاں مقیم پاکستانیوں کے لیے گراں قد رخدمات سرانجام دی ہیں۔ بیرسٹر داؤد غزنوی کی قیادت میں ویلفیئر سوسائٹی فار اوورسیز پاکستانیز نے اسلام آباد کے ہوٹل میں بہت شاندار تقریب منعقد کی۔  اوورسیز پاکستانیز میڈل آف ایکسیلینسی یا تمغہ حسن کارکردگی کا حقدار دنیا بھر سے 33 شخصیات کو قرار دیا گیا جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے۔ اعزازات کی تقریب سے داؤد غزنوی، شاہ خاور، سپریم کورٹ کے وکیل عارف چوہدری، اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب اور دیگرنے خطاب کیا اوراعزازات حاصل کرنے والوں کو مبارکبادپیش کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوو وٹ کا حق دینے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے دلنشیں انداز میں بہت شاندار خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا مطالبہ کیاہے او رجب موجودہ حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وٹ کے حق سے محروم کرنے کا بل بھیجا تو انہوں نے دستخط سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا دنیا کے بہت سے ممالک میں ووٹ ڈالنے کے لیے ای مشین کامیابی سے استعمال ہو رہی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ یہ خدشات بالکل غلط ہیں کہ ووٹ کا اس مشین سے غلط استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا روزانہ پوری دنیا میں تین کھرب ڈالر کا لین دین الیکٹرانک ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن غلطی نہیں ہوتی۔ انہوں نے پاکستانی بیورو کریسی پر  تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ا س گاڑی میں صرف بریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پروٹوکول کے انداز کو پسند نہیں کرتے اور کہا کہ حضرت عمرؓکا کیا پروٹوکول تھا۔

 انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تھی تو آتے ہی اصلاحات شروع کی گئیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سرمایہ کاری اور رقوم بھیجنے میں آسان ذرائع متعارف کرائے گئے جس کی بدولت ملکی معیشت مضبوط ہوئی۔انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کہا کہ جن ممالک میں وہ مقیم ہیں وہاں کے قوانین کا احترام کریں۔ پاکستانی فلاحی تنظیموں کووہاں کے قوانین کے تحت فنڈ ریزنگ کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا یہ بہت حساس معاملہ ہوتا ہے اس لیے اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں قانون اور حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے سربراہ پر دہشت گردی کا مقدمہ بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا جب  ان پر دہشت گردی کا مقدمہ بنا تو یہ بہت حیرت کی بات تھی۔ ملکی قوانین اور ان پر عمل درآمد کا بھی کوئی طریقہ ہوتاہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ڈبل سواری پر پابندی لگتی ہے تو پولیس والوں کی عید ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیم یافتہ افراد کو اپنے علم اورتجربہ سے پاکستان کو فائدہ پہنچانا چاہیئے۔

 بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل اور احساسات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ1973  میں امریکہ تعلیم کے لیے گئے تھے اور 1988  میں دوبارہ گئے تھے۔ اس لیے وہ ان تمام امور سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں اپنے قیام کے حوالے سے اظہا رخیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت تھی اس وقت کیلی فورنیا کو آباد  کرنے کے لیے خصوصی زرعی شعبہ کے لیے افرادی قوت کی ضرورت تھی تب پنجاب سے بہت سے لوگوں کو کیلی فورنیا میں آباد کیا گیا۔ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اسلامی دنیا کا سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرنٹنگ پریس اسلامی خلافت میں 1726  کو لگایا گیا جبکہ یورپ میں دو سال پہلے یہ کتابیں شائع کررہا تھا۔ صدر مملکت نے بہت کھلے اور حقیقت پسندانہ انداز میں خطاب کیا۔ جسے سب نے سراہا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صدر پاکستان بیرون ملک وطن عزیز کے لیے خدمات سرانجام دینے والوں کو اعزازت دے رہے تھے۔

تمغہ حسن کارکردگی حاصل کرنے والوں کے اعزاز میں اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کی جانب سے ظہرانہ دیا گیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پرائیڈ آف پاکستان اعزاز ملنے پر مبارکباد دی۔ اس تقریب میں سابق وفاقی سیکرٹری سلیم رانجھا، سابق مشیر وفاقی ٹیکس محتسب محمد صدیق، ڈاکٹر کامران شمس، ڈاکٹر کمال ناصر، عارف انیس اور اعزازات حاصل کرنے والے شریک تھے۔ پاکستان کی ایک اہم یونیورسٹی لمزکی جانب سے بھی ایک مقامی ریسٹورنٹ میں میڈل حاصل کرنے والوں کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔  لمز کی ڈائریکٹر نزہت کامران نے اعزاز حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی۔  لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد احمد نے بیرون ملک پاکستانیوں اور وہاں اپنے ہم وطنوں کے لئے خدمات سرانجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا بیرون ملک پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دینے والوں کی اس عزت افزائی قابل تعریف ہے اور اس سے ان میں وطن عزیز کے لیے کام کا مزید جذبہ پیدا ہو گا۔