بچوں کا عالمی دن اور پاکستان

بچوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے متعدد بار اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جس ملک میں بڑوں کو حقوق نہیں مل سکے وہاں بچوں کے حقوق کا تحفظ کیوں کر ممکن ہے۔راقم کا جواب یہی ہوتا ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ پر تسلسل کے ساتھ بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بڑوں کے برعکس بچے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نہیں آ تے۔

 ہمارے ہاں بچوں کے علاوہ قریبا ًتمام کیمونٹیز اور پیشوں سے متعلقہ گروہ اپنے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلتے رہتے ہیں۔گزشتہ کئی سالوں سے ہماری خواتین بھی خواتین ڈے کے موقع پراپنے حقوق منوانے کے لیے عورت مارچ کرنے لگی ہیں۔مہذب دنیا اور جمہوری ممالک میں سیاسی جماعتیں بالخصوص حزب اختلاف بچوں سمیت ہر پیشہ وارنہ گروہ کے مسائل حکومت وقت کے نوٹس میں لانے کے علاوہ عامتہ الناس کے خلاف جانے والے فیصلوں پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ کراتی ہیں لیکن ہمارے سیاسی رہنماصرف اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جماعتوں کو سڑکوں پر نکالتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے منشور میں بری طرح نظر انداز ہونے والا طبقہ بچے ہیں کیوں کہ بچوں کے پاس سیاسی جماعتوں کو دینے کے لیے ووٹ کا حق نہیں ہوتا۔

20نومبر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے طور پر منایا جاتا ہے۔رواں برس بچوں کے حقوق کا عالمی دن  ہر بچے کے لیے ’مساوات اور شمولیت‘  کی تھیم کے تحت منایا جا رہا ہے۔ پاکستان ان اولین 20ملکوں میں سے تھا جس نے 1990 میں اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی توثیق کی تھی لیکن بدقسمتی سے ملک میں اب تک بچوں کے حقوق کے تحفظ کی مجموعی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔صحت اورتعلیم سمیت بچوں کے دیگر حقوق کے حوالے سے پاکستان میلینیم ڈویلپمنٹ گولز2015کے زیادہ تر ترقیاتی اہداف پورے کرنے میں بھی ناکام رہا۔ اب پاکستان کومیلنیم ڈویلپمنٹ گولز2030کے تحت2030تک بچوں کے حقوق کے حقوق کے حوالے سے کئی ایک اہداف مکمل کرنے ہیں جن میں بچوں پر تشدد کے مکمل خاتمے جیسا مشکل ترین ہدف بھی شامل ہے۔

 بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ  بچوں کو40سے زائد سماجی، معاشی اور ثقافتی حقوق فراہم کرتا ہے جن میں ایک حق  مناسب معلومات کی فراہمی کا بھی ہے۔ اسی طرح کنونشن میں لڑکے اور لڑکی کی18سال سے کم عمر کی شادی کو بھی ان کے تعلیمی اور سماجی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا گیا ہے۔اگرچہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں 18سے کم بچوں کی شادی قانونی طور پر جرم قرار دی جا چکی ہے تاہم پاکستان سمیت دنیا کے چند ایک ممالک میں بچوں اور بچیوں کی شادی کے عمر کے حوالے سے الگ الگ پیمانے بھی ہیں۔پاکستان میں سندھ میں بچوں اور بچیو ں دونوں کے لیے 18 سال سے کم عمر شادی قانونی طور پر جرم ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے صوبے میں لڑکے کے لیے شادی کی عمر18 سال جب کہ لڑکی کے لیے16سال مقرر کی گئی ہے۔

بچوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ناکافی اقدامات کے باعث بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں محنت و مشقت (چائلڈ لیبر)کرنے پر مجبور ہے۔ملک میں مجموعی طور پر 2کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔یہ بچے کسی بھی وقت مزدور بن کر چائلڈلیبر فورس کا باقاعدہ حصہ بن سکتے ہیں۔پاکستان میں ڈومیسٹک چائلڈ لیبر کے علاوہ چوڑیاں بنانے، سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد جبری مشقت کرنے پر مجبور ہے جو بین الااقوامی سطح پر چائلڈ لیبر کی بدترین اقسام میں شمار ہوتی ہیں۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہ اب بھی بہت سے غریب لوگ زمین داروں یا امیر کسانوں سے لیے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے پھنس کر اپنے بچوں کو بھی بانڈڈ لیبر کا شکار بنارہے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے بھی جبری مشقت کا شکار ہیں جو اپنی اور اپنے والدین کی روزی روٹی کے لیے گلی محلوں اور سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔صحت کے حوالے سے بھی بچوں کے حقوق کی صورت حال گھمبیر نظر آتی ہے۔پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد(دنیا میں سب سے زیادہ) بچے غذائی کمی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے وزن اور قد عالمی معیار سے کافی کم ہیں۔ یونیسیف کے مطابق سٹنڈگروتھ (اپنی عمر سے کم وزن اور قد والے)بچوں کی ایک تہائی تعدادصرف پاکستان میں پائی جاتی ہے۔

 بچوں پر جسمانی تشدد اور ناروا سلوک کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ پاکستان ان 50ممالک میں شامل ہے جہاں پر بچوں پر ہونے والے جسمانی تشدد کو نظر انداز کرنے کے علاوہ اس کی حوصلہ افزائی کی روش بھی موجود ہے۔ ایک طرف گھروں میں والدین بچوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے ہلکی پھلکی ڈنٹ ڈپٹ اور مار پیٹ کو ناگزیر خیال کرتے ہیں تو دوسری طرف ہمارے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد بچوں کوکلاس رومز میں نظم و ضبط کی پابندی اور بہتر تعلیمی نتائج کے لیے کسی نہ کسی قسم کی سزاکوضروری خیال کرتے ہیں۔ اگرچہ پنجاب سمیت ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت کا قانون پاس ہو چکا ہے لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ پنجاب سمیت چاروں صوبوں کے تعلیمی اداروں میں ابھی بھی بچوں کو جسمانی وذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اسکولوں سے بھاگنے والے بچوں کی ایک بڑی تعدادنے جسمانی تشدد سے ہی بھاگ کر اسکول چھوڑے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ مدارس سمیت تعلیمی اداروں میں بچوں سے زیادتی اور ہراسمنٹ کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

 اس بات میں  دو رائے نہیں کہ سرچ فار جسٹس اور چائلڈ رائٹس موومنٹ پنجاب سمیت بچوں کے حقوق کیلئے سرگرم فلاحی تنظیموں کی شبانہ روز کوششوں سے پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں بچوں کے حقوق کے ضمن میں موثر قانون سازی ہوئی ہے جن میں نیشنل کمیشن فار چائلڈ رائٹ کے قیام اور بچوں کے جنسی استحصال بارے منظور ہونے والے قوانین زیادہ اہم ہیں لیکن بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بہت سے سنگ میل طے کرنے ابھی باقی ہیں۔غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں سے ہی حال ہی میں پنجاب حکومت نے چائلڈ لیبر سروے رپورٹ لانچ کی ہے۔اس سے پہلے ہمارے پاس چائلڈ لیبر کے حوالے سے کوئی مستند اعدادوشمار ہی نہیں تھے۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک بچوں کے مسائل کے حوالے سے مختص کئے جانے والے بجٹ سے جڑا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس حوالے سے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پا رہا۔