اسحاق ڈار کی ناکام جادو گری اور کاٹھ کا وزیر اعظم
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 19 / نومبر / 2022
ملکی سیاسی لیڈروں کی پوری توجہ نئے آرمی چیف کی تقرری ، اس بارے میں تنازعات کھڑے کرنے یا عمران خان کے احتجاج اور اس کے ممکنہ اثرات پر مبذول ہے۔ لیکن عالمی سطح پر پاکستانی معیشت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ حیرت انگیز طور حکومت اور اپوزیشن یکساں طور سے معیشت کے موضوع پر کوئی ٹھوس بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ عمران خان ملکی معیشت کے ڈیفالٹ کرجانے کی ’نوید‘ یوں سناتے ہیں جیسے یہ انہیں اقتدار سے محروم کرنے کی سزا ہے۔ اور حکومتی نمائیندے ’الحمدللہ ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ‘کہہ کر بات ختم کردیتے ہیں۔
ڈیفالٹ انتہائی صورت حال جس تک پہنچنے کے لئے شاید ابھی کچھ مزید وقت درکار ہوگا لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوسکتا کہ جس نہج پر ملکی نظام چلایا جارہا ہے اور تحریک انصاف کی صورت میں اپوزیشن جیسے انتخابات تک مسلسل سیاسی انارکی پیدا کرنے کے اشارے دے رہی ہے، ملک کو جلد یا بدیر بالآخر اسی انجام تک پہنچنا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ ملکی معیشت کو تباہی کے اس گڑھے میں دھکیلنے کے ذمہ دار سارے سیاست دان ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے خود اپنی کسی کمزوری کا اعتراف نہیں کریں گے لیکن ملکی عوام کو شدید معاشی دباؤ اور اجناس کی ناقابل برداشت قلت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ملک میں پہلے ہی طبقاتی تقسیم نمایاں ہے لیکن ملکی معیشت کے دیوالیہ ہوجانے کے بعد غربت میں شدید اضافہ ہوگا اور بنیادی ضرورت کی چیزیں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی باہر ہوجائیں گی۔ یہ صورت حال ملک میں جمہوریت کے موجودہ نظام کے لئے بھی شدید خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اور ایک بار پھر سیاست دانوں کی نااہلی اور ملکی عوام کی ناداری کا عذر تراشتے ہوئے ایک نئی طرز کا مارشل لا ملک پر نافذ کیا جاسکتا ہے۔
کہنے کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ آج کے پاکستان میں یہ ممکن نہیں ہے۔ عالمی سفارتی و سیاسی صورت حال ملک میں کسی نئے فوجی ایڈونچر کی اجازت نہیں دیتی لیکن کہنے کو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کل کا سورج ایک نیا پیغام لے کر آئے گا اور پاکستانی عوام کی قسمت پلک جھپکتے تبدیل ہوجائے گی۔ البتہ ٹھوس معاشی حقائق میں اس قسم کی تعلی سے کوئی سہولت بہم نہیں ہوتی البتہ نئے نعرے ایجاد کرکے عوام کو ایک نئے سراب کا پیچھا کرنے پر ضرور آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا ناروا ہوگا کہ موجودہ معاشی مسائل کسی ایک وجہ یا کسی ایک حکومت کے پیدا کردہ ہیں۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ناقص حکمت عملی نے ملک کو موجودہ تباہی کے قریب پہنچایا ہے۔ درحقیقت ملکی معیشت کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ سیاسی نظام کے بارے میں تجربات کرنے کا طریقہ ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی حکومت نہ تو اطمینان سے کام کرسکتی ہے اور نہ ہی یک سوئی سے معاشی منصوبہ بندی کرکے ملک کو موجودہ بحران اور پریشان کن صورت حال سے نجات دلا سکتی ہے۔
فوج نے طویل عرصہ تک سیاسی بازی گر کا کردار ادا کیا ہے۔ اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھے ہوئے طاقت ور جرنیل ہمیشہ یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ وہ ملکی مفاد کے علاوہ یہ بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون سی سیاسی قیادت ملک کے لئے بہتر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاسی منظر نامہ میں دکھائی دینے والی ساری سیاسی قوتیں کسی نہ کسی مرحلہ پر یا تو فوج کی نرسری میں تیار ہوئیں یا انہیں فوجی رہنمائی کو حتمی اور فیصلہ کن تسلیم کرتے ہوئے کام کرنا پڑا۔ اس طریقہ کار سے ملکی سیاسی عمل بھی کمزور ہؤا اور کسی بھی پارٹی نے براہ راست مسائل پر توجہ دینے کی بجائے اپنی ساری صلاحیت اس کوشش پر صرف کردی کہ فوجی لیڈروں کے ساتھ ’ایک پیج‘ کو سلامت رکھا جائے۔ ماضی قریب کے مختصر جائزے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ایک پیج کی حفاظت تو ہمیشہ سیاسی لیڈروں کا مقصود رہی ہے لیکن اس نام نہاد یک جہتی کے لئے شرائط ہمیشہ فوج کی طرف سے عائد کی گئیں اور جب بھی فیصلہ سازی میں اختلاف پیدا ہؤا تو اس کی قیمت سیاسی لیڈروں ہی کو ادا کرنا پڑی۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت جسے اب ’ہائیبرڈ’ تجربہ کے بعد ’پراکسی ‘ تجربہ کا نام دیا جارہا ہے، درپیش چیلنجز کا کوئی حال تلاش کرنے کی بجائے مسلسل اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ اس وقت نئے آرمی چیف کی تقرری ، بقا کی اس جنگ کا حصہ ہے لیکن نیا فوجی سربراہ آنے کے بعد اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی جد و جہد ہی کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح بن جائے گی۔ شہباز شریف کے زیر قیادت متعدد سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد حکومت سنبھالنے اور تحریک انصاف کی حکومت میں ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ لیکن یہ پورا سچ نہیں تھا۔ تحریک عدم اعتماد کی اصل وجہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کا یہ خوف تھا کہ عمران خان بطور وزیر اعظم کوئی ایسا آرمی چیف مقرر نہ کردیں جس کی قیادت میں مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے سیاسی سپیس ختم ہوجائے اور ملک پر ایک پارٹی کی حکومت مستحکم کردی جائے۔ اس اندیشہ کا تدارک کرنے کے بعد حالات کو مستحکم کرنے کا بہترین حل تویہی تھا کہ نئے انتخابات کرواکے اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار سونپ دیا جاتا اور سیاسی قوتیں باہم مشاورت سے ایسا ماحول پیدا کرتیں جس میں سیاست میں فوجی مداخلت کے تمام امکانات کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جاتا۔
دریں حالات دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کی کوئی بھی سیاسی قوت ایسا کوئی اقدام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ کیوں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بقائے باہمی کے کسی منصوبہ پر متفق ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ملک میں ایسی سیاسی فضا بنا دی گئی ہے کہ ایک کی کامیابی دوسرے کے حتمی زوال کا سبب ہو۔ حالانکہ پارلیمانی نظام کی حقیقی روح کے مطابق تو سب سیاسی عناصر اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ حکومت کرنے والی پارٹی ا پوزیشن کا احترام بھی کرتی ہے اور قانون سازی سے لے کر فیصلہ سازی تک میں اسے ساتھ لے کر چلنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان کا آئین بھی یہی تجویز کرتا ہے ۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف نے دور حکومت میں اپوزیشن کو نظر انداز کرنے اور بے جااور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے اس کے لیڈروں کو عاجز کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اور عدم اعتماد کی تحریک کے بعد جب واضح ہوگیا کہ عمران خان وزیراعظم نہیں رہ سکیں گے تو تحریک انصاف نے اسمبلی کا ایوان چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ موجودہ سیاسی روش کا سلسلہ نہ آرمی چیف کی تقرری کے بعد ختم ہوگا اور نہ ہی نئے انتخابات کے بعد سیاسی استحکام پیدا ہونے کا امکان دکھائی دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت پر خطرے کے بادل گہرے ہورہے ہیں۔ شہباز حکومت کی لاچاری کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم کو چھوٹے چھوٹے فیصلے کے لئے لندن سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ معاشی اصلاح کے لئے مشکل فیصلے کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن مفتاح اسماعیل نے جب سخت اقدامات کرتے ہوئے معیشت میں بہتری کے امکانات پیدا کئے تو لندن میں بیٹھے ہوئے ’اصل قائد‘ کو یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ اس مشکل معاشی صورت حال میں رہا سہا ووٹ بنک بھی ضائع ہوجائے گا لہذا اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنوا کر ’عوام دوست‘ حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسحاق ڈار کی ناقص حکمت عملی نے ایک طرف آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو خطرے میں ڈال دیا ہے تو دوسری طرف شرح مبادلہ کے بارے میں غیر واضح پالیسی کی وجہ سے بیرون ملک سے ترسیلات زر میں بیس فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ ترسیلات اس وقت پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ جو بھی وزیر خزانہ اس حوالے سے بے یقینی پیدا کرنے کا سبب بنتاہے، اسے معاشی مبادیات سے نابلد سمجھنا چاہئے۔ لیکن اسحاق ڈار کو معاشی ہی نہیں بلکہ سیاسی مسیحا سمجھ کر ملک پر مسلط کردیا گیا ہے۔ ان کے سامنے شہباز شریف کی رہی سہی اتھارٹی بھی ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
ترسیلات زر میں کمی کی واحد وجہ یہ ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان رقم بھجوانے والوں کو ہنڈی یا حوالہ کے ذریعے روپے پاکستان بھیجنے میں دس سے پندرہ فیصد فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے وہ بنکوں کی بجائے ان غیر قانونی ذرائع کو استعمال کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ خود کو عقل کل سمجھنے کے گمان میں مبتلا اسحاق ڈار فوری طور سے اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اس دوران ملک کوسیلاب کی تباہ کاری کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ مشکل تہ دار ہے۔ یعنی ایک تو بے آباد ہونے والے لوگوں کی آباد کاری اور تباہ ہونے والے انفرا اسٹرکچر کی بحالی کا کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ زیر آب آنے والے کثیر زرعی رقبہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے زرعی پیداوارکم ہوگی اور قومی پیداوار پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ یعنی ایک طرف درآمدی بل میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف برآمدی صلاحیتیں متاثر ہوں گی۔ یہی وجہ ہے ورلڈ بنک نے آئیندہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح دو فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
ورلڈ بنک کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمی اثرات کی وجہ سے پاکستان کو 2050 تک مسلسل قومی پیداوار میں کمی کا سامنا رہے گا ۔ اس تنزلی کا تخمینہ اٹھارہ سے بیس فیصد تک لگایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران سامنے آنے والی یہ رپورٹ پاکستانی معیشت کے حوالے سے ہوشربا خبر تھی لیکن ملکی مباحث میں گھڑی کی فروخت، آرمی چیف کی تقرری اور لانگ مارچ روالپنڈی کب پہنچے گا ، کی خبریں چھائی رہیں۔ ایوان اقتدار میں مقیم یا سڑکوں پر نعرے لگانے والے سیاسی لیڈر یکساں طور سے جب تک اس سنگینی کو سمجھ کر بحران سے نکلنے کا عزم نہیں کریں گے، اس وقت تک پاکستانی عوام کسی اچھی خبر کی امید نہیں کرسکتے۔
ایسے میں کیا فرق پڑتا ہے کہ وزیر اعظم کون ہے اور آرمی چیف کسے بنایا جائے گا؟ پاکستان چیونٹیوں بھرا کباب بن چکا ہے لیکن ہر سیاست دان اسے اپنے دسترخوان کی زینت بنانا چاہتا ہے۔