پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات: معاشی ایمرجنسی پلان کی ضرورت
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- ہفتہ 19 / نومبر / 2022
پاکستان میں بعض ماہرین ایک بار پھر اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے سے دو اقساط کے حصول میں تاحال ناکامی سے پاکستان ڈیفالٹ کر سکتا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ اب ٹل چکا ہے۔
پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ 75 فی صد سے بھی تجاوز کرکے پہلی بار اس قدر بلند ترین سطح پر جا پہنچا ہے۔ اس سے قبل مارچ میں یہ خطرہ محض سات فی صد پر نوٹ کیا جا رہا تھا۔ معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس خطرے کے بڑھ جانے کا مطلب ہے کہ ملک کے پاس درآمدی بلوں کی ادائیگیوں اور غیر ملکی قرضوں کو بروقت ادا کرنے کے لیے غیر ملکی ذخائر کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔
حکومت کی جانب سےجاری کردہ بانڈ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور نجی ادارے اس ریٹنگ ہی کی بنیاد پر بانڈز خریداری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ ریٹ (سی ڈی ایس) بڑھنے کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اس ملک پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آرہی ہے اور یہ ملک اپنے جاری کردہ بانڈز کی ادائیگی مقررہ وقت پر شاید نہ کر پائے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت پاکستان کے ایک ارب ڈالر مالیت کے پانچ سال کی مدت کے لیے جاری کردہ انٹرنیشنل سکوک بانڈ رواں سال دسمبر میں میچور ہورہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت پاکستان ان بانڈز کی میچورٹی پر ادائیگی کو یقینی بنائے گی لیکن اس کے باوجود سرمایہ کاروں کے خدشات برقرار نظر آتے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ ریٹ 75 فی صد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان نے 100 ڈالر کے بانڈ خریدنے والے سرمایہ کار کو 8 فی صد سود دے رہا تھا تو اب حکومت کو 25 ڈالر پر آٹھ فی صد سُود ادا کرنا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں ہر 100 ڈالر پر 32 ڈالر حکومت کو سُود کی مد میں ادا کرنا ہوں گے۔ انہوں نے موجودہ صورتِ حال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتِ حال اتنی خراب نظر آتی ہے کہ یہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر جا پہنچا ہے۔
اُن کے بقول حکومت موجودہ حالات میں نئے بانڈز جاری کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی جس سے وہ کسی حد تک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جمع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آنے والے بحران کو ٹالنے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس کوشش بھی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو اس سنگین صورتِ حال کا ادراک ہی نہیں اور وہ کسی اور دنیا میں بیٹھے ہیں۔
ڈاکٹر پاشا نے مزید کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی اس سطح پر گرا دی ہے کہ اب اسے سری لنکا، گھانا، مالی، ارجنٹائن، نائیجیریا اور دیگر ممالک کے ساتھ شامل کیا جا رہا ہے جو ڈیفالٹ کے قریب جاپہنچے ہیں یا ڈیفالٹ ہوچکے ہیں۔ جب ریٹنگ اس قدر نیچے چلی جائے تو پھر پاکستان کے بانڈز بڑے ڈسکاؤنٹ کے بغیر کون خریدے گا؟
ایک اور تجزیہ کار سمیع اللہ طارق کا خیال ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں ۔ ان میں سب سے اہم ملک کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ دوسرا پاکستان کو قرضے کی نئی اقساط حاصل کرنے کے لیے اب تک معاملہ آئی ایم ایف کی جانب سے منظوری کے لیے اٹکا ہوا ہے۔ سمیع اللہ طارق کے خیال میں ملک میں جاری سیاسی بحران اور اس سے سیاسی اور معاشی بے یقینی کی فضا اس خطرے کے بڑھنے کی ایک اور وجہ ہے۔
اُن کے بقول یہ بھی سچ ہے کہ اس وقت عالمی معاشی سست روی اور عالمی حالات پاکستان کے لیے کافی سخت ہیں کیوں کہ پاکستان کو ایک جانب قرضوں کی ری شیڈولنگ کی شدید ضرورت ہے تو دوسری جانب جاری کھاتوں کے خساروں کو بھی کم کرنا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں حکومت کو فوری معاشی ایمرجنسی پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ڈالرز کے اِن فلوز کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے پاکستان کو جہاں جہاں سے ممکن ہوسکے ان ذرائع کو استعمال کرنا ہوگا۔
دوسرا پاکستان کو آئی ایم ایف کو قرض کی قسطیں جاری کرنے پر قائل کرنا ضروری ہے تاہم سب سے اہم ملک میں سیاسی افراتفری کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غیر یقینی حالات کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ کیوں کہ سیاسی افرا تفری کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہوکر رہ گیا ہے
ادھر وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور چین سے قرضے کی تجدید ہوگئی ہے جب کہ سیلاب کے بعد ریلیف کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ سیلاب کے بعد کی صورتِ حال اور ریلیف کے لیے آئی ایم ایف سے اعدادوشمار شیئر کیے گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلے نہیں ہوئے۔
عائشہ غوث پاشا کے بقول حکومت چین اور سعودی عرب سے جس قرضے کی تجدید چاہتی تھی وہ ہوگئی ہے اورسعودی عرب نے حال ہی میں تین ارب ڈالر ہمارے رول اوور کر دیے ہیں ۔ دوسری جانب چین نےہماری رول اوور کی ضروریات کو نہ صرف پورا کیا بلکہ اسے وسعت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان تمام چیزوں کا ایک پراسس ہوتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اعلان ہوا اور سب کام ہوجائیں اس میں ابھی کچھ وقت مزید بھی لگے گا۔