ایک سرکاری ملازم کی تعیناتی: ایشو کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 23 / نومبر / 2022
بچپن میں کہیں اس نوع کی روایات پڑھی تھیں کہ ایک زمانہ آئے گا جب لونڈی اپنے مالک یا آقا کو جنم دے گی تو کچھ حیرت سی ہوتی تھی۔ ایسی روایات کے مصدقہ یا غیر مصدقہ ہونے کی بحث اپنی جگہ اور اب جو کچھ اس حوالے سے سعودی عرب کے ہر دلعزیز کراؤن پرنس نے فرمایا ہے، اس کی اثابت سے بھی انکار نہیں۔
لیکن ہم لوگ ایسی باتوں کی کچھ نہ کچھ توجیہات تو بہرحال نکال ہی لیتے ہیں جو اس درویش نے نکالی ہے۔ وہ یہ ہے کہ بائیسویں گریڈ کی ایک اپوائنٹمنٹ گویا بائیس کروڑ اور ان کی منتخب قیادت پر بھی بھاری ہے گو کہ اس کا جنم یا تعیناتی آئینی طور پر ایک منتخب قائد کی مرہون منت ہے۔ لیکن پھروہ وقت آتا ہے کہ جب یہی طاقتور اپنے لانے والے کو اپنی لونڈی بنا لیتا ہے یہاں تک کہ قومی قائد دفاع اور خارجہ تعلقات جیسے حساس معاملات میں بھی کوئی بات کرنے یا اقدام اٹھانے سے پہلے بیس مرتبہ سوچتا ہے کہ کہیں یہ چیز اسے الٹی نہ پڑ جائے۔ جو بولڈ قیادت اس بیباکی میں ذرا سا آگے بڑھنے کی جسارت کرتی ہے، اپنی سات دہائیوں پر مبنی تاریخ میں ہم نے اسے جان کے لالے پڑتے دیکھا ہے۔
اصولی طور پر ہمارے ملک میں کوئی بھی جمہوری الذہن انسان اس بات سے قطعاً انکار نہیں کرے گا کہ بندوق اور ووٹ کی طاقت میں ٹکراؤ نہیں ہونا چاہیے۔ کھسیانے لوگ اس نوع کا استدلال کرتے بھی پائے جائیں گے کہ سول ملٹری تعلقات میں تناؤ نہیں آنا چاہیے، بعض سر پھرے تو یہاں تک بول جاتے ہیں کہ ان تعلقات میں ایک نوع کا توازن ہونا چاہیے۔ ان دنوں یہ لاحاصل بحث اس حد تک بڑھی ہے کہ ہر تین سال بعد پیدا ہونے والے خطرناک بحران سے بچنے کیلیے کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ جس طرح جوڈیشری میں موسٹ سینئر سسٹم کے تحت آٹو مٹیکلی چیف بن جاتا ہے کچھ اس نوع کا اہتمام ادھر بھی ہو جائے تاکہ نہ ایکسٹیشن کا ایشو کھڑا ہو اور نہ پسند ناپسند کی دوڑ میں اپنے اپنے پہلوان تیار کرتے ہوئے انہیں تھپکی دینے کی نوبت آئے۔
درویش کی نظروں میں یہ تمام مباحث یا تجاویز لاحاصل بے معنی اور خطرناک ہیں جن کا جذبہ محرکہ نہ صرف آئین و جمہوریت پر ایمان میں کمزوری و روگردانی بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے جنگلی قانون کی دھونس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانے کی اپروچ ہے۔ ہمارے میڈیا کو اس حوالے سے قطعی کلیر ہونا چاہیے کہ اگر ہم عوامی طاقت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں تو اس کا لازمی و بدیہی تقاضا ہے کہ لٹھ یا بوٹ کی طاقت وہاں دکھائی جائے جہاں اس کی ضرورت ہے۔ نہ یہ کہ آئین و قانون شکنی کی ذہنیت کے زیر اثر یہ مقدس بوٹ عوامی شعور پر داغے جائیں۔ بھلے مانسو! دنیا کی کس مسلمہ یا آئیڈیل جمہوریت میں ایسے ہوتا ہے کہ آئین تو کچھ اور کہتا ہے جبکہ ہماری عملی مجبوریاں کچھ اور ہیں۔ کیا آئین جس کے تحفظ کی تم سب قسم کھاتے ہو محض ثواب دارین کیلئے ہے؟
ریاست پاکستان کے لئے ہمالہ جتنا بھاری سوال یہ ہے کہ آپ لوگوں نے آئین کی مطابقت میں آگے بڑھنا ہے یا اسے رگیدتے ہوئے اپنی منفی چھپی خواہشات کی تکمیل کرنی ہے؟ یہ بات تمام اہل وطن پر بلاتمیز محکمہ یا ادارہ واضح ہو جانی چاہیے کہ اگر اقتدار کا سرچشمہ اس خطے کے کروڑوں عوام ہیں تو پھر بالادست و ساورن ادارہ صرف اور صرف ایک ہے جو عوامی امنگوں کا ترجمان منتخب نمائندہ ادارہ ہے یعنی پارلیمنٹ۔ جو اس محترم ادارے کا منتخب لیڈر ہو گا وہی اور صرف واحد وہی اس قوم کا باپ یا قائد کہلائے گا۔ بلاشبہ وہ آئین و قانون سے ماورا نہیں ہو گا لیکن جوابدہ منتخب پارلیمنٹ کو ہو گا۔ جس طرح کسی انسان کے دو باپ نہیں ہو سکتے اسی طرح کسی قوم کے بیک وقت دو قومی قائد نہیں ہو سکتے۔ اپنے ملک میں ہمیں جو سیاسی انتشار یا اودھم ہمہ وقت دکھتا ہے اس انارکی کی بنیاد اسی بنیادی جمہوری اصول سے انحراف یا پائمالی ہے۔ کئی مہینوں سے پورے ملک کی سیاست و صحافت کو ایک نوع کا بخار چڑھا ہوا ہے کہ کون بنے گا کروڑ پتی یا ارب پتی؟ اگرچہ اس کی تشخیص ہمارے صحافتی ڈاکٹر احمد نورانی وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں لیکن یہ ایک درد ناک الگ سٹوری ہے جس کی زیادہ ذمہ دار ہماری غیر ذمہ دار صحافت ہے جو سیاستدانوں پر تو الااللہ کرتے ہوئے یلغار فرماتی ہےلیکن معاملہ طاقتوروں کا آجائے تو گویا چونکہ چنانچہ جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ ہفتوں سے بحث چل رہی تھی کہ سمری کیا آ رہی ہے ؟ یا یہ کہ سمری کب آئے گی؟ اس مضحکہ خیز اور لایعنی نان ایشو کو بھڑکانے میں اس مرتبہ سب سے ز یادہ تیل چھڑکنے والا ہمارا ایک سابق شیخ چلی کرکٹر ہے جو جبری طور پر خود کو سیاستدان منوانے پرتلا بیٹھا ہے۔ جبکہ سیاسی دانش یا سوچ اس کے کہیں آس پاس سے ہو کر بھی نہیں گزری۔
درویش نے ربع صدی قبل جب موصوف کے متعلق یہ لکھا کہ ’کرکٹ کا کھلاڑی سیاست کا اناڑی‘ تو بہت طعنے سننے پڑے مگر وقت نے ا سے بالآخر وہی ثابت کر دکھایا ہے۔ اس شخص کو یہ معلوم ہی نہیں کہ سیاسی جدوجہد میں کہیں دو قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے۔ کہیں خاموشی بھی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ کبھی پچھلی میزوں پر بیٹھنا پڑتا ہے، پوری نظری ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی پڑتا ہے۔ تیس مار خاں صاحب جن بیساکھیوں کے سہارے آئے تھے، بضد ہیں کہ جعلی زخم لگوا کر انہی بیساکھیوں کے ذریعے پھر اسی طرح برسر اقتدار آ جائیں گے۔ شاید وہ نہیں جانتا کہ ’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘۔ وقت تیزی سے بدلتا ہے، ہرروز نئے صبح و شام پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کارن درویش نے مبینہ لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ان کالموں میں عرض کیا تھا کہ لانگ مارچ جی ٹی روڈ پر پنکچر ہو جائے گا جبکہ پنڈی پہنچتے پہنچتے بیانیہ بھی ڈوب جائے گا۔
حضور اب لگا تو تماشا چھبیس کو بھی، جن مہربانوں کی آس پر یہ سب کر رہے ہو وہ تمہاری الفت میں پہلے ہی اپنے چہرے پر جو دھبے لگوا چکے ہیں، وہ انہی پر اکتفا کر لیں تو بہتر ہو گا۔ رہ گیا قصر صدارت۔ وہ بھی پہلے سے اپنی لٹی پٹی عزت بحال کرا لے تو شاید تاریخ میں اتنا زیادہ برا نہ گردانا جائے۔ بہرحال جیسے تیسے سمری تشریف لا چکی ہے حاجی صاحب جا چکے ہیں، حافظ صاحب تشریف لا چکے ہیں۔ جاٹوں کا ’شکریہ‘ ہمارے بھائی احمد نورانی کو ضرور ادا کرنا چاہیے۔ جبکہ ہم توصدیوں سے ’سادات ‘ کے گن گاتے چلے آ رہے ہیں، اس لیے مبارکباد پیش کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ نیوٹرل کے آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے کسی اناڑی کے نئے معنوں کا دباؤ محسوس نہیں کریں گے۔ اور ہمارے جمہوری ملک میں بھی دیگر عالمی پارلیمانی جمہوریتوں کی طرح منتخب نمائندے کو ہی مائی باپ یاقومی قائد تسلیم کرتے ہوئے اگر مگر یاچون و چرا نہیں کی جائے گی۔
اس موقع پر ہمارے شکریے اور مبارکباد کا سب سے بڑھ کر وہ لیڈر حقدار ہے جو بظاہر کس قدر معصوم اورسادہ ہے مگر اس کاسینہ و حوصلہ چٹان جیسا مضبوط ہے۔ قطر میں آباد کھیلوں کی دنیا میں ہمارے برادر ملک کنگڈم آف سعودیہ کی ٹیم نے جس طرح انہونی کو ہونی کر دکھایا ہے اس پر کراؤن پرنس کو بھی شاباش اور مبارکباد دینا بنتا ہے تاکہ وہ اپنی قدامت پسند سوسائٹی کو جدت و روشن خیالی کی بلندیوں تک لے جائیں۔