فیصل واڈا غلطی تسلیم کرکے 63 ون سی کے تحت نااہل ہو جائیں: چیف جسٹس
فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی ختم کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ سابق وفاقی وزیر اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63 ون سی کے تحت نااہل ہو جائیں۔ بصورت دیگر عدالت 62 ون ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کرے گی۔
سابق وفاقی وزیر فیصل واڈا نے جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نااہلی کے خلاف درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق سینیٹر کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے لیے کافی مواد موجود ہے، فیصل واوڈا کو اپنی غلطی تحریری طور پر تسلیم کرنی ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل واوڈا، سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر کہیں کہ انہوں نے دہری شہریت کی تاریخ بدلی۔ فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن قانون کی عدالت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کسی کو تاحیات نااہل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے مواد ہے جس سے ثابت ہے کہ فیصل واوڈا نے غلط بیان حلفی دیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس تو تاحیات نااہلی کی ڈکلئیریشن کا اختیار ہے۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کیوں اپنے سامنے موجود شواہد سے تاحیات نااہل نہیں کر سکتی؟ فیصل واوڈا نے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی نوکری کے لیے نہیں انتخابات کے لیے جمع کرایا تھا۔ انتخابات لڑنے کے لیے صادق و امین ہونا شرط ہے، سیاست میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مستقبل کے قانون سازوں کو جھوٹے حلف نامے جمع کرانے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل واڈا نے ہر فورم پر غلط بیان حلفی کے معاملے کو تسلیم کرنے بجائے مقدمہ لڑنے کو فوقیت دی۔
عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے فیصل واوڈا کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے فیصل واڈا کو امریکا کی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ ساتھ لانے کا حکم دے دیا۔