لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کردیا گیا

  • جمعرات 24 / نومبر / 2022

وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف دی آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بابت سمری صدر پاکستان کو ارسال کردی گئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوائس صدر عارف علوی کے پاس چلی گئی ہے۔ اب عمران خان کا امتحان ہے کہ وہ دفاع وطن کے ادارے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یا متنازع۔ انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی کی بھی آزمائش ہے کہ وہ سیاسی ایڈوائس پہ عمل کریں گے یا آئینی وقانونی ایڈوائس پر۔ افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ادارے کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنا ان کا فرض ہے۔

دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سمری آنے کے بعد میں اور صدر پاکستان آئین و قانون کے مطابق کام کریں گے۔ گزشتہ روز چیئرمین عمران خان نے کہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی سے میرا رابطہ ہے اور آرمی چیف کی تعیناتی کے بارے میں سمری جاتی ہے تو وہ مجھ سے مشورہ کریں گے۔

ایک ٹی وی  انٹرویو میں عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری کے حوالے سے سوال پر کہا تھا کہ میں صدر سے رابطے میں ہوں اور وہ مجھ سے مشورہ کریں گے۔ صدر عارف علوی اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قانون کے اندر رہ کر کھیلیں گے۔

یاد رہے کہ سبکدوش ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دراصل 2019 میں ریٹائر ہونا تھا تاہم ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2019 میں ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی تھی۔

آرمی چیف کی تقرری کو موجودہ سیاسی منظرنامے میں انتہائی اہم تصور کیا جارہا ہے۔ رواں سال کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک مسلسل سیاسی بحران اور افواہوں کی زد میں ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت سب سے سینئر ترین جنرل ہیں۔ انہیں ستمبر 2018 میں 3 اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے 2 ماہ بعد چارج سنبھالا تھا جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ان کا چار سالہ دور 27 نومبر کو اس وقت ختم ہوجائے گا۔

نامزد کردہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ایک بہترین افسر ہیں۔ وہ منگلا میں آفیسرز ٹریننگ اسکول پروگرام کے ذریعے سروس میں شامل ہوئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ اس وقت سے موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر 10 کور تھے۔

بعد ازاں، انہیں 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے اصرار پر 8 ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر کردیا گیا تھا۔

جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ اس عہدے پر  2 سال تک فائز رہے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ساحر شمشاد اختر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف منتخب کر کے سمری صدر مملکت کو ارسال کردی ہے اور ان کی منظوری کے بعد انہیں یہ عہدہ تفویض کردیا جائے گا۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ایک انٹر سروسز فورم ہے جو تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی وزیراعظم کے فوجی مشیر اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا ایک ہی بیچ سے تعلق رکھنے والے 4 امیدواروں میں سب سے سینئر ہیں اور ان کا تعلق سندھ رجمنٹ سے ہے جو کہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا پیرنٹ یونٹ ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا فوج میں بہت متاثر کن کریئر رہا ہے اور گزشتہ 7 برسوں کے دوران انہوں نے اہم لیڈرشپ عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔

ان کو جنرل راحیل شریف کے آخری دو برسوں میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی حیثیت سے توجہ ملنا شروع ہوئی۔ اپنی اس حیثیت میں وہ جی ایچ کیو میں جنرل راحیل شریف کی اس کور ٹیم کا حصہ تھے جس نے شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کی نگرانی کی اور کواڈریلیٹرل کوآرڈینیشن گروپ میں بھی کام کرتے رہے۔

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا پر مشتمل اس گروپ نے ہی بین الافغان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، سرتاج عزیز کی زیر قیادت گلگت بلتستان میں اصلاحات کے لیے بننے والی کمیٹی کا بھی حصہ تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد انہیں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ فوج میں عملی طور پر چیف آف آرمی اسٹاف کے بعد دوسری طاقتور ترین شخصیت بن گئے تھے۔

اس حیثیت میں وہ خارجہ امور اور قومی سلامتی سے متعلق اہم فیصلہ سازی میں شامل رہے۔ 2021 میں چینی وزیر خارجہ وینگ ژی کے ساتھ ہونے والی اسٹریٹجک بات جیت میں بھی وہ سابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ تھے۔ اکتوبر 2021 میں انہیں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا تاکہ انہیں آپریشنل تجربہ حاصل ہوجائے جس کے ساتھ ہی وہ پاک فوج کے اہم ترین عہدوں کے لیے اہل ہوگئے تھے۔