نئے آرمی چیف سے وابستہ توقعات

  جنرل عاصم  منیر کے آرمی چیف مقرر ہونے  کے بعد  فوج کے نئے سربراہ کے حوالے سے پیدا ہونے والا ہیجان وقتی طور  پر تھم  گیا ہے۔  صدر عارف علوی نے  وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کردیے، جس کے بعد جنرل عاصم منیر  17 ویں آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بن گئے ہیں۔ اب  فوجی قیادت کے علاوہ سیاسی لیڈروں پرمنحصر ہوگا کہ وہ  ملک میں بے چینی ختم کرنے کے لئے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ 

ہفتہ کو تحریک انصاف راولپنڈی میں احتجاجی جلسہ کا اعلان کرچکی ہے۔ اس موقع پر عمران خان کی تقریر  سے مستقبل قریب میں   تحریک انصاف کی حکمت عملی  کے بارے میں  صورت حال واضح ہوسکے گی۔     نئے آرمی چیف کی تقرری کےبعد تحریک انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فوج کی نئی قیادت سے ہماری توقع ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی   اور جمہوریت کے استحکام  میں   کردار ادا کرے گی‘۔ اس بیان کو اگر    رسمی خیر سگالی بیان سمجھا جائے تو کسی خاص پریشانی کی ضرورت نہیں ہے تاہم اگر ایک روز بعد راولپنڈی   میں ہونے والے جلسہ میں عمران خان نے  فوج سے ایک بار پھر انتخابات کے انعقاد میں مدد کرنے کے  لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا تو ملکی سیاسی ماحول  میں  کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور نئی فوجی قیادت کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ اسی تناظر میں وزیر دفاع  خواجہ آصف نے صدر مملکت کی طرف سے  نئی تقرریوں کی سمری پر دستخط کرنے کے بعد ایک مختصر بیان میں  امید ظاہر کی  ہے کہ  ’صدر کے  اس فیصلے کے بعد ملک میں استحکام آئے گا، یہ اچھا شگون ہے‘۔وزیردفاع نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کے حوالے سے ملک میں  ہیجانی کیفیت تھی لیکن اب معاملہ حل ہوچکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سیاست دان اپنا رویہ آئین اور قانون کے تحت لائیں گے۔

بدقسمتی سے ملک میں آئین و قانون کی بات تو سب کرتے  لیکن  فریقین   اپنی اپنی تشریح کے ذریعے ایک دوسرے کو  قانون و آئین شکنی کا مرتکب بھی قرار دیتے   ہیں۔  تحریک انصاف موجودہ حکومت کو غیر آئینی سمجھتی ہے  جبکہ  حکومت کرنے والی اتحادی پارٹیاں عمران خان کی حکمت عملی کو غیر جمہوری اور عوام دشمنی پر  استور سمجھتی ہیں۔   آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے  حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان  شدید تصادم موجود رہا ہے۔ عمران خان نے شروع میں  نئے آرمی چیف کے چناؤ کے لئے شرائط رکھنے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ حکومت اس معاملہ پر ان کی رائے کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔  اس کے بعد تحریک انصاف نے  اعلان کیا تھا کہ  اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون آئیندہ آرمی چیف بنے گا تاہم  عمران خان اس کے باوجود  اس تقرری کے حوالے سے نواز شریف  کو تختہ مشق بناتے رہے ہیں اور یہ تاثر بھی  عام کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے مقرر کردہ آرمی چیف کی غیر جانبداری  مشکوک  رہے گی۔ 

نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان ہونے  سے ایک روز  قبل عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ جب سمری آجائے تو  ’میں اور صدر آئین و قانون کے مطابق کھیلیں گے‘۔ عمران خان کے اسی قسم کے بیانات کی وجہ سے یہ اندیشہ موجود تھا کہ  وزیر اعظم کے  فیصلہ کے بعد کہیں صدر عارف علوی ، عمران خان کی خوشنودی کے لئے نئے آرمی چیف کی سمری کو مؤخر  کرنے کے ہتھکنڈے اختیار نہ کریں۔  سمری ملنے کے بعد صدر مملکت کی لاہو آمد اور عمران خان سے طویل مشاورت نے بھی قیاس آرائیوں کو  ہوا دی تھی تاہم شام تک ایوان صدر  کی طرف سے فوجی تقرریوں کے حوالے سے سمری کی  صدارتی منظوری کا اعلان سامنے آگیا ۔ اس طرح ملک ایک نئے طویل  سیاسی ہیجان سے محفوظ رہا۔   آئینی طور سے   نیا آرمی چیف مقرر کرنا وزیر اعظم کا استحقاق ہے لیکن  صدر   دو ہفتے تک اس پر دستخط کرنے سے گریز کرسکتے ہیں۔ اور اگر وہ وزیر اعظم کی سمری پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کریں تو اسے کسی اعتراض کے ساتھ واپس بھی کیا جاسکتا ہے۔  اس صورت میں وزیر اعظم وہی سمری دوبارہ ایوان صدر بھیج سکتے ہیں اور  صدر اگربدستور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں تو وزیر اعظم کا حکم نافذالعمل ہوجاتا ہے۔

صدر عارف علوی اگر یہ ’آئینی استحقاق‘ استعمال کرنے کی کوشش کرتے تو  نئی تقرریوں کے حوالے سے تو کوئی پریشانی لاحق نہ ہوتی کیوں کہ دو تین ہفتے کی تاخیر سے بہر صورت وزیر اعظم  کا فیصلہ پر  ہی   عمل ہوتا لیکن اس اقدام سے  تحریک انصاف کی سیاسی پوزیشن کو نقصان پہنچتا اور  عمران خان  پر آئینی کام میں غیر ضروری رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد ہوتا۔ متعدد  آئینی ماہرین تو  سمری پر دستخط سے پہلے صدر کی عمران خان سے ملاقات کے بارے میں بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور اسے آئینی تقاضوں کے برعکس قرار دیاجارہا ہے۔ البتہ    عمران خان اور تحریک انصاف نے اس معاملہ کو مزید پیچیدگی سے بچاکر    ناخوشگوار  صورت حال  سے  گریز کیا ہے ۔ حکومت کی طرف سے بھی  تحریک انصاف کے رویہ کا خیر مقدم خوش آئیند ہے ۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ  خیر سگالی کا یہ   طرز عمل بدستور قائم رہے گا۔  اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ عمران خان ہفتہ کے  روز کتنے لوگ اسلام آباد میں جمع کرسکتے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے فوج کے   سینئر  ترین  لیفٹیننٹ جنرلز کو  بالترتیب آرمی چیف  اور   چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرکے سنیارٹی کے اصول کو پیش نظر رکھا ہے۔ یہ ایک خوش آئیند اقدام ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم  کو فوج کی طرف سے چھے سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کے نام بھجوائے گئے تھے اور وزیر اعظم  کسی بھی  لیفٹینٹ  جنرل کو آرمی چیف کے لئے منتخب کرسکتے تھے۔  اس اقدام سے البتہ   عمران خان کو  شکوک و شبہات پیدا کرنے کا موقع ملتا اور وہ سنیارٹی اور میرٹ کا سہارا لیتے ہوئے حکومت پر تنقید کرتے اور  نئے آرمی چیف کی حیثیت و اعتبار کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے۔ سینئر ترین جرنیلوں کو ترقی دے کر اہم عہدوں پر فائز کرنے سے  عمران خان کو فوری طور سے   کوئی بڑا اعتراض کرنے کا موقع نہیں ملا۔  ان کے لئے ان تقرریوں کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔    وزیر اعظم کے فیصلہ نے ایک ناخوشگوار سیاسی بحث کو ختم کیا ہے  تو اس کے ساتھ ہی ملکی تاریخ میں پہلی بار سنیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف مقرر کرنے کی روایت کا آغاز ہؤا ہے۔ ملکی سیاست دانوں کو اس روایت کو راسخ کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں   نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ہونے والی قیاس آرائیوں اور  افواہ سازی کا طریقہ ختم  ہوسکے۔ ممکن ہو تو  یہ معاملہ کسی قانون سازی کے ذریعے طے کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی  آرمی ایکٹ میں جنوری 2020 میں  کی جانے والی  اس ترمیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے  جس کے تحت  مسلح افواج کے سربراہان کو توسیع دینے کی  روایت کو قانونی حیثیت دی گئی تھی۔  یہ اصول طے ہونا چاہئے کہ کوئی بھی جنرل ایک خاص مدت کے لئے پاک فوج کا سربراہ بنے اور مدت پوری ہونے کے بعد  کمان سینئر ترین  جنرل  کے حوالے کرکے اپنے فرائض سے سبکدوش ہوجائے۔ اس اصول کو تسلیم کرنے سے  سیاست میں فوجی قیادت کی مداخلت کا راستہ مسدود ہوگااور فوجی لیڈروں کو بھی یہ پیغام  ملے گا کہ سیاسی لیڈر  محض اپنے  فائدے کے پیش نظر سینئر  جنرلز  کو نظر انداز نہیں کریں گے۔

آرمی چیف کی حالیہ تقرری سے پہلے اس معاملہ پر ملکی تاریخ کے   بدترین  مباحث اور قیاس آرائیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ملک کے  تمام  اہم تجزیہ نگار اور ماہرین حکومت کو مشورہ دے رہے تھے کہ  وہ آرمی چیف کی تقرری کے لئے سنیارٹی کے اصول کو پیش نظر رکھے  اور  اس معاملہ پر غیر ضروری ہیجان پیدا نہ کرے۔  سنگین ملکی حالات کے باوجود شہباز شریف کی حکومت نے اس معاملہ میں  مناسب وقت پر فیصلہ  کا اعلان نہیں کیا بلکہ نئی تقرریوں کے لئے آخری دنوں تک انتظار کیا گیا۔  حکومت کے اس طریقہ سے  بے یقینی کی صورت پیدا ہوئی جس کا ملکی معیشت اور عالمی  لین دین پر بھی اثر مرتب ہؤا۔  کسی مہذب  ملک میں ماہرین و محققین  اعداد و شمار کی بنیاد پر ٹھوس طور سے  بتا سکتے تھے کہ ایسی بے یقینی سے ملکی معیشت کو کتنا نقصان ہؤا ہوگا۔ تاہم پاکستان  جیسے ملک میں ایسے جائیزوں کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن  یہ اندازہ کرنے کے لئے معیشت و سیاست کا ماہر ہونا ضروری نہیں ہے کہ  سیلاب کی تباہ کاری، معاشی انحطاط کی صورت حال، سیاسی  انتشار کے سبب جب حکومت ایک  اہم  تعیناتی  کے حوالے سے بے یقینی برقرار رکھے گی تو منڈیوں اور لین دین پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیر اعظم کی طرف سے آج صبح نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد  صدر کی اجازت کے حوالے سے پیدا ہونے  والی  ہیجان خیز صورت حال بھی محض اسی لئے پیدا ہوئی کہ  شہباز شریف نے  جنرل قمر جاوید باجوہ  کی ریٹائرمنٹ سے محض پانچ روز پہلے  ان کے جانشین کا اعلان کیا۔ اس لئے اندیشہ تھا کہ اگر صدر نے سمری منظور کرنے سے انکار کیا تو غیر معمولی صورت حال پیدا ہوگی جس میں  فوجی قیادت کے حوالے سے ہنگامی نوعیت کے اقدامات  کرنا پڑتے۔  وزیر اعظم اگر سنیارٹی کی بنیاد پر تقرریاں کرنے کا فیصلہ کرہی چکے تھے تو وہ اس  بارے میں ایک ماہ پہلے بھی حکم  جاری کرسکتے تھے تاکہ اگر صدر  اس سمری کو روکنے کی کوشش کرتے تو بھی مقررہ وقت تک سارا معاملہ  روٹین کے مطابق واضح ہوجاتا۔   حکومت نے اس معاملہ میں غیر ذمہ داری اور ملکی معیشت کے حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جس سے سبق سیکھنے اور مستقبل کے لئے بہتر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

جنرل عاصم منیر ایک ایسے وقت میں فوج کی کمان سنبھال رہے ہیں جب سیاسی صورت حال کی وجہ سے فوج  شدید دباؤ میں ہے۔ فوج    اب سیاسی کردار سے اجتناب کا اعلان کررہی ہے اور  اس کا مؤقف ہے کہ سیاسی قوتوں کو باہم مل جل کر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز  کے خطاب میں اس سلسلہ میں صراحت سے بات کی ہے تاہم اب یہ نئے آرمی چیف پر منحصر ہوگا کہ وہ  اس بحران میں سے فوج کو کیسے باہر نکالتے ہیں۔ جنرل باجوہ چونکہ ہائیبرڈ نظام  کے تحت عمران خان کی حکومت لانے میں براہ راست ملوث رہے تھے ، اس لئے  ان کی موجودگی میں   شکوک و شبہات کی فضا کم ہونے کا امکان نہیں تھا۔ البتہ نئی قیادت  فوج کے  ’غیر سیاسی‘ کردار کو  واضح کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرسکتی ہے۔ سیاسی لیڈر وں کو  باور کرنا ہوگا کہ اب اسی طریقہ پر عمل سے فوج کا وقار بحال ہوگا اور ملکی سیاست میں توازن پیدا ہوسکے گا۔ 

اس کے باوجود اگر  کسی بھی سیاسی گروہ کی طرف سے فوج کو ملوث کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو  دیکھنا ہوگا کہ نئے آرمی چیف  اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔    موجودہ بحران  جزوی  طور  سےسیاست میں فوج کی طویل مداخلت   اور پھر اچانک  ’غیر سیاسی‘ ہونے کے اعلان سے پیدا  ہؤا ہے۔  حکومتی اور اپوزیشن سیاست دان یکساں طور سے یہ یقین کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ واقعی فوج   سیاسی لین دین اور  حکومت سازی کے معاملات میں مداخلت نہیں  کرے گی۔ بعض  لیڈروں کے رویہ سے تو محسوس کیا جاسکتا  ہے کہ وہ فوج کے ساتھ کے بغیر سیاست کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔  یہی رویہ نئے آرمی چیف کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ اس سے کامیابی سے نمٹنے کی  صورت میں ملک میں ایک نئی صحت مند جمہوری روایت کا آغاز ہوسکتا ہے۔