نئے آرمی چیف کو فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا چیلنج درپیش ہے: امریکی میڈیا
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف کو دو فوری اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ پہلا ملک کی غیر مستحکم معاشی حالت اوردوسرا فوج پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
پاکستان میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر امریکی ذرائع ابلاغ کے سمیت دیگر ٹی وی چینلز اور نیوز ویب سائٹ میں خبریں اور معلومات کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عام طور امریکی میڈیا شاید ہی کبھی کسی دوسرے ملک میں فوج کے نئے سربراہ کی تقرری کی خبریں شائع کرتا ہے اور امریکا اپنے ملک کے اندر اس طرح کی تقرریوں کے حوالے سے بھی بہت کم دلچسپی رکھتا ہے۔
دی ٹائمز کے مطابق کئی لوگ آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان میں سویلین اور سیاسی منظر نامے کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے نصف سے زائد عرصے تک فوج کی حکمرانی رہی، صرف یہی نہیں بلکہ سویلین حکمران کے تحت بھی فوجی قیادت نے پاکستانی کی سیاست میں کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ رواں سال اپریل میں عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا جس کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ اس اقدام کے پیچھے پاکستانی فوج، امریکا اور ان کے سیاسی حریفوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ جس کے بعد رواں سال پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت اہم موضوع بنا۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی جانب سے فوج پر شدید تنقید کی وجہ سے ملک کے اندر ہی ادارے کی ساکھ کی شدید نقصان پہنچا۔ سیاسی انتشار فوج کے اندر اختلافات کی وجہ بھی بنا۔ کئی نچلے درجے کے افسران خاموشی سے پی ٹی آئی چیئرمین کی حمایت کررہے تھے جبکہ اعلیٰ افسران عمران خان کے فوج پر الزامات کو برداشت نہیں کرپائے۔
دی ٹائمز نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے آرمی چیف کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور فوج کے نئے سربراہ کو مستقبل میں اس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے کہا کہ صدر عارف علوی نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی منظوری اس لیے دی کیونکہ وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کو 4 اسٹار جنرل پر ترقی دی ہے اور اگر صدر عارف علوی فوج کے نئے سربراہ کی تقرری پر توثیق میں تاخیر کریں گے تب تھی جنرل عاصم منیر رواں ہفتے ریٹائر نہیں ہوں گے۔
بی بی سی نے بھی فوج کے سربراہ کی تعیناتی کی رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ نئے آرمی چیف کو مستقبل میں پاکستان کے حریف بھارت کے تعلقات سمیت افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات اور دیگر امور میں بھی اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ وائس آف امریکہ کا کہنا ہے کہ نئے فوجی سربراہ سیاسی معاملات میں مداخلت کی خبروں اور قیاس آرئیوں کے درمیان چارج سنبھالیں گے۔
پاکستان فوج کے سینئر ترین لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر 29 نومبر کو پاکستان فوج کے 11ویں سربراہ کے طور پر اعزازی چھڑی وصول کرکے آئندہ تین سال تک اس عہدے پر کام کریں گے۔ جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے مرحلے کے دوران خاصی قیاس آرائیاں زیادہ ہوتی رہیں تاہم و زیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو انہیں آرمی چیف مقرر کردیا۔ اور صدر نے بھی سمری پر دستخط کردیے۔
ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو بیشتر مبصرین کا یہ خیال ہے کہ نئے آرمی چیف کو فوج میں اس اعلیٰ ترین تقرری کے بعد بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا، خاص طور سے ملک کی معاشی اور سیاسی حالات کے تناظر میں۔ جنرل عاصم منیر کے لیے سرحدی صورتِ حال، ملک میں اندرونی سیاسی بحران، فوج کےغیرسیاسی ہونے کی پالیسی کو برقرار رکھنا، ففتھ جنریشن وار فیئر، فوج کی امیج بلڈنگ سمیت بہت سے معاملات ان کی توجہ کے محتاج ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام نہ ہونے سے ملکی معیشت مشکلات میں گھری ہوئی ہے اور عوام پر اس کا براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ نئے آرمی چیف کو درپیش چیلنجز سے متعلق پاکستان فوج کے سابق افسر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کہتے ہیں کہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام ہے اور سیاسی ہیجان کے باعث ملک شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ پاکستان کی خراب ہوتی اقتصادی حالت کا پاکستان فوج پر بھی برا اثر پڑسکتا ہے کیوں کہ قومی خزانے میں صرف آٹھ ارب ڈالر پڑے ہیں اور پیسہ نہ ہونا پاکستان فوج کے بجٹ پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ملک کی اقتصادی صورتِ حال ہے کیوں کہ معیشت درست نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو بہت سے مسائل درپیش ہیں جنہیں بہتر بنانے میں فوج اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر اس وقت بھارت کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ ہے جس پر غور کرنا ہوگا اور اس کے علاوہ افغانستان کی صورتِ حال اور غیر روایتی مسائل کو دیکھنا ہوگا۔
تجزیہ کار رسول بخش رئیس بھی سمجھتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج پاکستان فوج کے امیج کا ہے۔ ان کے بقول ففتھ جنریشن وارفئیر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان فوج کو بہت نقصان ہوا ہے اور اب جنرل عاصم منیر کو ایک بار پھر عوام کی نظروں میں پاکستان فوج کا وقار بحال کرنا ہوگا۔