پی ٹی آئی کو فیض آباد پر جلسے کی مشروط اجازت دے دی گئی

  • جمعہ 25 / نومبر / 2022

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کو فیض آباد انٹرسیکشن کے قریب جلسے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ انتظامیہ کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ریلی کے دوران بڑے مجمعے کے باعث سیکیورٹی خدشات ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ جلسے کی انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں سخت حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے 56 شرائط کے ساتھ ایک روز کے لئے پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی 27 نومبر کو آمد کے پیش نظر 26 کی رات جلسہ گاہ خالی کرنا ہوگی۔ تحریک انصاف کے صدر واثق قیوم عباسی کو ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ جلسے کا مقام کھلا ہے جس کی وجہ سے سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں جبکہ قریب کوئی ہیلی پیڈ کی سہولت بھی میسر نہیں۔ اس لیے عمران خان کو عوام کے درمیان سے گزر کر آنا ہوگا لہٰذا فول پروف سیکیورٹی انتظامات ممکن نہیں۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے 27 نومبر کو راولپنڈی پہنچ رہی ہے اس لیے اس اجتماع کے مقام کو 26 نومبر کی رات تک خالی کردیا جائے تاکہ انٹرنیشنل ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کی جاسکے۔ اس حوالے سے ہدایت کی گئی ہے کہ منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی انہیں راستوں سے جلسہ گاہ کی جانب آئیں جن کی تجویز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے دی ہے۔ متبادل راستے استعمال نہ کیے جائیں، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ جلسے کے شرکا ادھر ادھر گھومتے نظر نہ آئیں۔

انتظامیہ نے ہدایت کی عمران خان کو جلسے سے پہلے، درمیان اور اس کے بعد سن روف کی حامل گاڑی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہیں سیکیورٹی حصار میں اسٹیج تک لے جایا جائے گا اور عوام سے خطاب کے دوران بلٹ پروف کیبن استعمال کیا جائے گا۔ انتظامیہ یقینی بنائے کہ پروگرام کے بعد جلسے کے مقام کو مکمل طور پر خالی کردیا جائے اور اس کے بعد مزید کوئی عوامی اجتماع منعقد نہ کیا جائے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید واضح کیا کہ جلسے کے اسٹیج اور شرکا کے درمیان کم از کم 80 فٹ کا فاصلہ ہونا چاہیے اور اس مقام میں سیکیورٹی فورسز کے سوا کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے اسٹیج پر موجود افراد کے نام تحریر کرکے جلسے کے انعقاد سے 24 گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں۔

اس حوالے سے واضح ہدایات دی گئیں کہ ریلی کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ ڈرون کیمرہ بھی جلسہ گاہ میں لانے پر پابندی ہوگی۔ ڈی سی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مذہبی جذبات ابھارنے اور کسی گروہ کے خلاف بات نہیں ہوگی، لاؤڈ اسپیکر کا مخصوص وقت میں ہی استعمال ہوگا۔ عوام کی آمد و رفت کے دوران تلاشی ہوگی۔

 جلسے سے متعلق پورے ضلع میں کہیں بھی وال چاکنگ نہیں کی جائے گی۔ جلسے کے پنڈال، داخلی و خارجی راستوں اور ارد گرد روشنی کے مناسب انتظامات کیے جائیں، اس سلسلے میں بجلی فراہمی کے متبادل انتظامات بھی کیے جائیں۔ نوٹی فکیشن کی شرائط کے تحت جلسلے کی انتظامیہ کو کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کے لیے علیحدہ انتظام کرنے کا کہا گیا ہے۔ خواتین کے لیے بھی الگ انتظامات کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 2 ماہ کے لیے شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق اسلام آباد میں کسی بھی مذہبی جلسے جلوس یا اجتماع، سیاسی ریلی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسلام آباد کے ریڈ زون سمیت کسی بھی علاقے میں پانچ یا اس سے زائد افراد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزارت داخلہ نے عسکریت پسند گروپوں یا بنیاد پرستوں کی جانب سے ممکنہ دہشت گرد حملے کے خطرے کی وارننگ دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ اپنے عوامی اجتماعات ملتوی کر دے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کو لکھے گئے خط میں وزارت داخلہ نے کہا کہ ملک کی سیکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی قیادت کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے 26 نومبر کو راولپنڈی میں ہونے والے عوامی اجتماع کو ملتوی کرنے کے امکان پر غور کرے۔

اس دوران پاکستان تحریک انصاف نے راولپنڈی میں مارچ میں شریک لوگوں کی رہائش کے لیے عارضی خیمہ بستی بنائی ہے، جس کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف راولپنڈی کے اپنے اجتماع کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں کسانوں، تاجروں، طلبہ اور مذہبی جماعتوں کی نمائندگی کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ ایک ہفتے میں مختلف وفود سے ملاقاتیں کر کے اُنہیں راولپنڈی پہنچنے کی دعوت دی ہے۔

جمعرات کی شام جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام پاکستانی 26 نومبر کو راولپنڈی میں 'حقیقی آزادی مارچ' کا حصہ بنیں۔ مارچ میں شریک ہو کر قوم یہ پیغام دے کہ 'حقیقی آزادی' کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔