معافی مانگنے پر سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کردی
سپريم کورٹ آف پاکستان نے تحریکِ انصاف کے رہنما فيصل واوڈا کی غیر مشروط معافی کے بعد تاحيات نااہلی ختم کر دی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ فیصل واوڈا عدالت کے روبرو سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غلط بیانِ حلفی دینے پر شرمندہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ اچھی نیت سے خود استعفیٰ دیا ہے آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی تسلیم کرتا ہوں۔
چیف جسٹس نے فیصل واووڈا سے کہا کہ آپ نے 3 سال تک سب کو گمراہ کیا، عدالت کے سامنے پہلے معافی مانگیں اور پھر کہیں کہ استعفیٰ دیتے ہیں۔ اگر ایسا کرتے ہیں تو نا اہلی 5 سال کی ہو گی۔ اس موقع پر فیصل واوڈا نےعدالت کے روبرو غیر مشروط معافی مانگ لی۔
اس کیس کی سماعت دو سال سے زائد عرصہ تک الیکشن کمیشن میں جاری رہی تھی۔ اس دوران فیصل واوڈا کی طرف سے طویل التوا طلب کیا جاتا رہا۔
دسمبر 2021 میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا اور نو فروری 2022 کو اس کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں 27 صفحات پر مشتمل فیصلے میں 3 رکنی کمیشن نے متفقہ طور پر تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔