فوجی سربراہ کی تعیناتی کے بعد بہتری کی امید
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعہ 25 / نومبر / 2022
لیفٹنٹ عاصم منیر کے جنرل کے عہدے پہ ترقی اور اس کے ساتھ ہی چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پہ تعیناتی کا عمل مکمل ہونے سے ملک میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال اور سیاسی کشمکش ختم ہو گئی ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدے پہ جنرل ساحر شمشماد کی تقرری ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت اور مسلم لیگ ن کے صدر وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد عاصم منیر کو فوج کا سربراہ اور ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدے پر فائزکرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ یہ اندیشہ ظاہر کی جارہا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ایما پہ وزیر اعظم کی طرف سے ارسال کردہ نئے آرمی چیف کی تقرر کی سمری پر دستخط کرنے میںتاخری حربے استعمال کر سکتے ہیں۔ صدر عارف علوی نے جمعرات کو لاہورجا کر عمران خان سے ملاقات کے بعد واپس اسلام آباد آتے ہی فوری طورپر سمری پر دستخط کر دیے۔ یوں عمران خان نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہی فیصلہ کیا کہ نئے فوجی سربراہ کی تقرری کی مخالفت کرنا ان کی کمزور سیاسی پوزیشن کے لئے مزید بڑے نقصانات کا سبب ہو سکتا ہے۔
جنرل عاصم منیر کے چیف آف دی آرمی سٹاف کے کلیدی عہدے پہ تقرری سے جہاں غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے وہاں ملک میں سیاست اور معیشت سمیت تمام امور میں بہتری کا عمل شروع ہونے کی توقع بھی پیدا ہو ئی ہے۔ ملکی تاریخ اور مخصوص صورتحال کے تناظر میں آرمی چیف کے عہدے کو سب سے طاقتور عہدیدار کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ملک کی ہر شعبے میں خرابی کی صورتحال میںجنرل عاصم منیر کو کئی بڑے چیلنجز کے علاوہ نہایت دشوار صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک طرف پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے متعلق شعبے اور امور ہیں اور دوسری طرف ملک میں دیرپا سیاسی استحکام کی تعمیر کے لئے فوج کی سیاسی امور سے مکمل علیحدگی کا عمل ہے ۔ فوج کو سیاست سے الگ کرنا ایک بڑا فیصلہ تو ہے ہی لیکن یہ فیصلہ کئی مراحل اور کئی شعبوں میں تدریجی عمل کا متقاضی بھی ہے۔ اس بارے میں وسیع پیمانے پہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ ملک کی اقصادی بدحالی کے خاتمے کے لئے سیاسی انتشار اور سیاسی شعبے کی کمزوری اور ماتحت حیثیت کا خاتمہ ناگزیر عمل ہے اور پارلیمنٹ کی حقیقی بالا دستی قائم کرنے کے علاوہ بہتری کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
فوج کی درپردہ حاکمیت کی طویل روایت سے ایسے سیاسی عناصر مضبوط ہوئے ہیں جو اسی طرح کے ماحول اور طریقہ کار کو اپنی مفاد پرست سیاست کے لئے موزوں تصور کرتے ہیں۔ یوں ملک میں بہتری کا عمل فوج کی سیاست سے علیحدگی کے ساتھ ساتھ سیاست کے شعبے میں بھی نظریہ ضرورت اور شخصیت پرستی کے بجائے اصولوں کی ترجیح اور ترویج بھی لازمی امر ہے۔ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ایک مسلمہ امر ہے ہی تاہم سیاسی استحکام کے تقاضوں کے پورا کئے جانے کا عمل شروع کیا جانا بھی ناگزیر ہے۔ اور اسی سے ملک میں حقیقی بہتری کی راہ اختیار کی جاسکتی ہے۔ سیاسی استحکام ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دفاعی ، خارجہ امور اور علاقائی امور میں بھی بہتری لا سکتا ہے اور اسی سے عوام کو ناقابل برداشت مہنگائی کے عفریت سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔
ان امور کے علاوہ یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ ملک کا نظام سنبھالنے اور چلانے والوں کے لئے شاندار اور پرتعیش مراعات کو بھی ختم کیا جائے۔ یہ ظالمانہ طریقہ کار عوام کو غلام ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات سمیت درپیش تمام سنگین مسائل کے حل کے لئے سیاسی طریقہ کار کو اختیار کیا جانا بھی ناگزیر اور ملک کے وسیع ترمفاد میں ہے۔ ایسے وقت جبکہ ملک کے کسی بھی شعبے سے کوئی بھی اچھی خبر نہیں تھی، ملک میں بہتری کی توقع اور امید کے پیدا ہونے کو آخری موقع کے طور پر دیکھنا چاہئے کیونکہ خرابیوں اور بربادی کی درپیش صورتحال میں بہتری اختیار کرنے کے موقع بار بار نہیں ملتے۔ ملک پہ مسلط ماورائے آئین حاکمیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی مفاداتی عناصر کا خاتمہ ملکی بقا اور استحکام کے لئے ناگزیر عمل کے طور پر درپیش معاملہ ہے۔
ان شعبوں میں بہتری کے علاوہ انتظامیہ اور عدلیہ کے شعبوں میں بھی حقیقی عوامی مفاد میں تبدیلی بھی لازمی امر ہے جو غاصبانہ حاکمیت اور مفاداتی سیاسی عناصر کی من مانیوں کی صورتحال میں عوام کے لئے نہایت تکلیف دہ اور ملک کے لئے تباہ کن نتائج میں ممود و معاون کے طور پر نمایاں ہیں۔ جنرل عاصم منیر ملک کے سب سے طاقتور عہدے پہ فائز ہو چکے ہیں، ملک میں بہتری کا عمل شروع کیا جانا ان کے فیصلوں اور اقدامات کا منتظر ہے۔ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو خا ص طور پر خوشامدی عناصر سے ہوشیار اور دور رہنے پہ توجہ دینی چاہئے جو اس طاقتور عہدے پہ فائر ہونے والی پر شخصیت کو مروجہ طور طریقوں اور اس نظام کو جاری رکھنے کے متمنی ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے عوام خراب اور ملک نامراد ہو چکا ہے۔