رواں مالی سال میں ترقیاتی اخراجات میں 45 فیصد کمی

  • ہفتہ 26 / نومبر / 2022

ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے درمیان حکومت کے مجموعی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال کے اوائل میں پاکستان کے ترقیاتی اخراجات تقریباً 45 فیصد سے کم ہوکر 99 ارب روپے سے بھی کم ہوگئے ہیں۔

 وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال 2022 کے پہلے چار ماہ (جولائی سے اکتوبر تک) میں کُل اخراجات 98 ارب 78 کروڑ روپے جبکہ گزشتہ سال 2021 میں یہ تعداد 178 ارب روپے تھی۔

پہلی سہ ماہی ( جولائی سے ستمبر تک) وفاقی بجٹ کے ترقیاتی فنڈزمیں 20 فیصد جاری کیے جاتے ہیں جس کے بعد دوسری سہ ماہی (اکتوبر سے دسمبر تک) اور تیسری سہ ماہی ( جنوری سے مارچ) 20 فیصد اور آخری سہہ ماہی (اپریل سے جون) میں بقیہ 20 فیصد جاری کیے جاتے ہیں۔

تاہم موجودہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارہ  کے ساتھ رابطے جاری رکھے۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ مالی سال (جولائی سے دسمبر تک) کی پہلی ششماہی میں ترقیاتی اخراجات میں 50 فیصد کے بجائے 20 فیصد سے بھی کم رکھا جائےگا۔ حکومت نے مجموعی اخراجات کا تخمینہ لگایا کہ گزشتہ بجٹ کو بڑھانے کےلیے تقریباً ایک کھرب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا جس میں 900 ارب روپے سےسود کی ادائیگی ہونا باقی ہے اور 100 ارب روپے سے کم آمدنی جسے آئندہ ماہ اضافی ٹیکس اقدامات کے ذریعے پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب سرکاری کوآپریشن توانائی کا شعبہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں 45 فیصد اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ترقیاتی اخراجات 98 ارب 78 کروڑ ارب تک پہنچ گئے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو گزشتہ برس پہلے چار ماہ میں 31 ارب روپے اخراجات کے مقابلے رواں سال کے پہلے چار ماہ میں 44 ارب 65 کروڑ روپے کےاخراجات تھے۔

توانائی شعبے کے منصوبوں میں 245 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ برس کے پہلے چار ماہ میں 7 ارب روپے سے بڑھ کر رواں سال 24 ارب 4 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جس کی وجہ سے سرکاری کوآپریشن کی جانب سے ترقیاتی فنڈ کے استعمال میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔