پاک فوج میں نئی تقرریاں اور آغاز صبح نو
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 26 / نومبر / 2022
پروفیسر وسیم سبحانی ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں۔ ہم نے ایک ہی وقت اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز کیا، وہ نجی تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی میں براجمان ہو گئے اور ہم سرکاری ملازمت کی طرف نکل گئے۔
سبحانی صاحب خوش مزاج، خوش خوراک اور کھلے ڈھلے، لیکن مشاق استاد ہیں۔ انہیں سبجیکٹ پر عبور بھی ہے اور وہ پڑھانا بھی جانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے سٹوڈنٹس میں معروف اور ہر دلعزیز بھی ہیں۔ معاشیات اور اس سے متعلق موضوعات پر ان کی معلومات بھرپور ہیں اور وہ ان معلومات کی بنیاد پر سیاسی موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں، بارسوخ اور فیصلہ ساز لوگوں کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات بھی ہیں اس لیے ان کے تجربے اور تبصرے خاصے معلومات افزا اور سچے ثابت ہوتے ہیں۔
پاک فوج کی دو اعلیٰ سطحی تقرریوں کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بڑے وثوق سے بتایا کہ صدرِ مملکت کو آپشن دیے گئے ہیں ”سائن یا ریزائن“ یعنی یا تو آئین کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے بھجوائی گئی سمری پر دستخط کر دو نہیں تو استعفیٰ دے کرگھر جاؤ۔اسی پس منظر میں انہوں نے زمان پارک لاہور کی راہ لی۔وزیراعظم کی طرف بھجوائی گئی سمری فائل لے کر وزیراعظم کے طیارے میں بیٹھ کر فوراً اپنی پارٹی کے قائد عمران خان کے پاس پہنچے انہیں فائل دکھائی اور پیغام بارے بریف کیا۔سمری منظوری میں تاخیر ہونے اور بحران سے نمٹنے کے لئے حکومتی تیاریوں کے بارے میں بتایا، پھر عمران خان نے انہیں سائن کے آپشن پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح ایک ہی دن میں معاملات طے ہو گئے۔صدر نے سمری پر دستخط کر دیے۔
پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر جس ہموار انداز میں ہوا وہ ناقابل ِ یقین واقع ہے۔ہماری قومی سیاست اپریل 2022 میں عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے عدم استحکام اور بے یقینی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ ویسے تو الیکشن2018سے پہلے ہی محمد نواز شریف کو سیاست سے مائنس کرنے کی منصوبہ سازی پر عمل درآمد کئے جانے کے باعث عدم اعتماد کا شکار ہونے لگی تھی، نواز شریف کے خلاف جس طرح مقتدر حلقے یکسو ہوئے تھے، اس سے سیاسی بداعتمادی میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ الیکشن2018 جس طرح منعقد ہوئے اور آر ٹی ایس بیٹھا یا بٹھایا گیا اس نے معاملات میں بگاڑ پیدا کیا ۔پھر عمران خان کے44ماہی دورِ حکمرانی نے انتقام اور دشنام کی سیاست کو فروغ دیا،قومی معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا۔عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے۔بین الاقوامی تعلقات اپنی پستی کی طرف چلے گئے، چین سی پیک کے مسئلے پر ہم سے ناراض ہوا۔
سعودی عرب، یو اے ای، قطر، ترکی کے ساتھ ہمارے معاملات خراب ہوئے۔عمران خان کی بے لگام زبان درازی اور طویل بیان بازی نے پاکستان کی سیاست کو آلودہ کر دیا تھا۔فوج جو عمران خان کی پشت پناہ ہی نہیں،بلکہ جائے پناہ بنی ہوئی تھی، کو بھی انہوں نے نہیں بخشا۔عمران خان کا دورِ حکمرانی مکمل طور پر تباہی اور بربادی کا پیامبر ثابت ہوا، پھر اپریل2022 میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور اقتدار سے رخصتی کے بعد گزرے آٹھ مہینوں کے دوران عمران خان نے ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی شعوری اور منظم کاوشیں کیں، لانگ مارچ، قاتلانہ حملہ، پھر شارٹ مارچ اور پھر 26نومبر کو راولپنڈی میں لانگ مارچ کی قیادت کا اعلان کر کے ملک میں عدم استحکام پیدا کیا۔فوج میں دو اعلیٰ سطحی تعیناتیوں کے حوالے سے حکومت پر دشنام طرازی جاری رکھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے آئینی اختیار پر سوال اٹھاتے رہے، دو بھائیوں کی لندن میں ملاقات کو بھی طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ نواز شریف، آصف علی زرداری پر لفظی گولہ باری جاری رکھی اور پھر جب تعیناتیوں کے دن قریب آئے تو یہ کہہ کر کہ ”صدر میرے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ میرے مشورے سے ہی سمری پر دستخط کریں گے“ عدم اعتماد کی پہلے سے قائم کردہ فضا کو مزید گہرا کر دیا۔
دوسری طرف شہباز شریف نے ان تعیناتیوں کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کا سربراہی اجلاس طلب کیا تو اس میں انتہائی خوش کن صورت حال سامنے آئی۔ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن سمیت چھوٹے بڑے صوبوں کی چھوٹی بڑی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر شہباز شریف کو تعیناتیوں کے حوالے سے آئینی اختیار استعمال کرنے کی اجازت دے کر سیاست میں ایک اور مثبت روایت قائم کی۔ شہباز شریف اجلاس بلا کر پہلے بھی مشاورت اور کی فضا قائم کرنے کی ابتدا کر چکے تھے، پھر اگلے دن شہباز شریف نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور سمری حتمی منظوری کے لئے صدر کو ارسال کر دی۔
اس سے پہلے بھی میڈیا میں قیاس آرائیاں بڑی یکسوئی سے کی جا رہی تھیں کہ دو اہم تعیناتیوں پر صدر سمری روک کر بحران پیدا کر سکتے ہیں۔ عمران خان کے بیان نے کہ ”اس مسئلے پر صدر ان سے مشورہ کریں گے“ معاملات میں پیچیدگی کے امکانات بڑھا دیےلیکن جب وزیراعظم نے اتحادیوں سے مینڈیٹ لے کر اور کابینہ کی منظوری کے بعد جنرل عاصم منیر اور جنرل ساحر شمشاد کے ناموں کی منظوری کی سمری ایوانِ صدر کو بھجوائی اور اس کے ساتھ ہی ”سائن اور ریزائن“ کی کمانڈ بھی ایوانِ صدر تک جا پہنچی تو صدر صاحب سمری سمیت زمان پارک میں بیٹھے عمران خان کے پاس جا پہنچے اور اسد عمر، فواد چودھری اور شاہ محمود قریشی صاحب کی موجودگی میں معاملات ان کے سامنے رکھے اور انہیں بتایا کہ اب ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ صرف اور صرف منظوری دے کر ہی ہم کسی بڑے سانحے اور حادثے سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح سمری پر دستخط ہوئے۔
جنرل باجوہ اس سے پہلے ہی فوج کے بطور ادارہ سیاست سے دور رہنے کے فیصلے کا اعلان کر چکے ہیں۔ شہباز شریف نے فوج کی طرف سے بھجوائی گئی لسٹ کے میرٹ کے مطابق پہلے اور دوسرے نمبر پر دیے گئے دو سینئر موسٹ لیفٹیننٹ جنرل کو فل جنرل کے طور پر پروموشن دے کر سیاست دانوں کی طرف سے میرٹ پر چلنے کا عملی اظہار کر دیا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ اب پاکستان تعمیر و ترقی کے نئے سفر کا آغاز کر سکے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فوج کی طرف سے اعلان کردہ فیصلے کو دِل و جان سے تسلیم کریں اور انہیں اپنی سیاست میں گھسیٹنے کی روش سے توبہ کریں اسی میں ہماری تعمیر و ترقی کا راز پنہاں ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)