عمران خان کا تمام اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان، لانگ مارچ اسلام آباد نہیں جائے گا
تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے کہا کہ ہے کہ ہم نے سب اسمبلیوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روالپنڈی میں ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے تحت منعقد ہونے والے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس کرپٹ سسٹم سے نکل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم بجائے اس کے کہ اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کریں اور تباہی پھیلائیں اس سے بہتر ہے کہ ہم اس کرپٹ نظام سے باہر نکلیں اور اس سسٹم کا حصہ نہ بنیں۔ جدھر یہ چور بیٹھ کر ہر روز اپنے اربوں روپے کے کیسز معاف کروا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعلیٰ سے بات کی ہے۔ پارلیمنٹری پارٹی سے بھی مشاروت کررہا ہوں۔ آنے والے دونوں میں اعلان کریں گے کہ جس دن ہم ساری اسمبلیوں سے باہر نکل رہے ہیں۔ جب لاکھوں لوگ اسلام آباد جائیں گے تو کوئی نہیں روک سکتا، فیصلہ کررہا ہوں کہ اسلام آباد نہیں جانا کیونکہ مجھے پتا ہے تباہی مچے گی۔
عمران خان نے کہا کہ میں آج یہاں اس لیے پریشر ڈالنے آیا تھا کہ آپ کے پاس الیکشن کروانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ملک اگر ڈیفالٹ کی طرف چلا گیا تو وہ حالات ہو جائیں گے کہ جب آپ کی معاشی سیکیورٹی گرتی ہے تو نیشنل سیکیورٹی گر جاتی ہے۔ جب سویت یونین کی معاشی سیکیورٹی گری تو سویت یونین ٹوٹ گیا۔ تو ہم تو آج اس طرف جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ادارے پرانی غلطیوں سے نہیں سیکھتے۔ ایک ملک اور انسان اور ادارہ اس وقت ترقی کرتا ہے، جب اپنی غلطیوں سے سیکھے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے اقتدار میں طاقت ور کو قانون کے دائرے میں نہیں لاسکا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) میرے نیچے نہیں تھا۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے نیچے تھا۔ نیب والے مجھے کہتے تھے کہ سارے کیسز تیار ہیں لیکن حکم نہیں آرہا، جن کے پاس کنٹرول تھا وہ حکم نہیں دے رہے تھے۔
راولپنڈی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ان چوروں کو جیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان سے ڈیلیں کررہے تھے۔ ہر اجلاس میں یہ بات کی کہ جب تک طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے، یہاں کرپشن ختم نہیں ہوگی۔ مجھے بار بار جواب آتا تھا کہ عمران صاحب، آپ معیشت پر توجہ دیں۔ احتساب کو بھول جائیں، مجھے کئی بار یہ کہا گیا کہ ان (اس وقت کی اپوزیشن) کو این آر او دے دیں، نیب کے قانون بدل دیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں ساڑھے تین سال میں ایک جگہ فیل ہوا ہوں، میں طاقت ور کو قانون کے نیچے نہیں لاسکا۔