لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید صاحب کا استعفیٰ
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- اتوار 27 / نومبر / 2022
یہ خبر پاکستانی میڈیا میں گردش کر رہی ہے کہ چیف آف جنرل سٹاف لفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور بہاولپور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنرل اظہر عباس صاحب کا نام تو ہم نے پہلی دفعہ سُنا تھا۔ لیکن جنرل فیض صاحب 2017 سے منظرِعام پہ تھے۔ جب تحریکِ لبیک نے فیض آباد میں دھرنا دیا تھا۔ پھر قاضی فائز عیسی' صاحب پہ کیس بنا۔ جسٹس شوکت صدیقی کو نکالا گیا۔ تو جنرل صاحب کا نامِ نامی لیا جاتا رہا۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد مرحوم حاصل بزنجو صاحب نے سرِعام جنرل فیض حمید صاحب کا نام لیا۔ گزشتہ برس افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد جنرل صاحب کابل تشریف لے گئے۔ اور کابل میں چائے پیتے ہوئے اُن کی وڈیو عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی۔ آپ نے اُس وقت فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک مشہور جُملہ ارشاد فرمایا:
"every thing will be alright"
ہمارے جیسے عام لوگوں کو بھی اس بات کی سمجھ آگئی. کہ یہ جُملہ جنرل صاحب کی ٹانگ کے ساتھ بندھا بڑا پتھر بن جائے گا۔ اور ان کے لئے مزید چلنے میں دُشواری کا باعث بنے گا۔ پھر اُس وقت کابل جانے اور یہ فقرہ بولنے کی ٹائمنگ نہایت غلط تھی۔ جنرل صاحب ایک نہایت ذہین، عالی دماغ اور معاملات پہ گہری نظر رکھنے والے آفیسر شُمار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کسی بھی ادارے کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ لیکن انسان کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی خطا کر ہی جاتا ہے۔ جنرل صاحب کا یہ اقدام ایسا تھا جسے اُٹھانے سے پہلے انہیں گہری سوچ و بچار کرنے کی ضرورت تھی۔ اس کے مضمرات پاکستان کے لئے اور خود اُن کے اپنے لئے خطرناک ہو سکتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے پہلے جنرل صاحب کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹایا گیا۔
ہمارے ہر دلعزیز عمران خان صاحب نے ان کے لئے سالارِاعلی' سے بھی لڑائی مول لے لی۔ جنرل صاحب کے چائے والے فقرے کے بعد خان صاحب بھی اُسی غلطی کے مُرتکب ہوئے۔ اور فرمایا کہ ’افغان عوام نے غُلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں‘۔ گویا خان صاحب اور جنرل صاحب داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پہ بھی ایک صفحے پہ تھے۔ اس بات پہ طاقت کے مراکز کا ماتھا ٹھنکا۔ پہلے جنرل صاحب کو اہم پوسٹ سے ہٹایا گیا۔ حالانکہ وہ اس وقت سالارِاعلی' بننے کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ اُس کے بعد خان صاحب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی۔ اور خان صاحب بھی فارغ کر دیے گئے۔
عمران خان کے حکومت سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے ملک میں جو تحریک چلائی، اس کا الزام بھی جنرل صاحب کو دِیا جاتا ہے۔ واللہ العَلَم یہ بات درست یے یا غلط لیکن اس کا چرچا بہر حال عام ہے۔ اس خیال کے حامی لوگ یہ دلیل دیتے ہیں. کہ کسی بھی سیاسی رہنما میں اتنی جُرات نہیں کہ وہ ملک کے آرمی چیف کو میر جعفر اور میر صادق کہے، جب تک اس کے پیچھے بھی کوئی مضبوط سہارا نہ ہو۔ پھر خان صاحب خود اقرار کر چُکے ہیں کہ اُنہیں فوج کے اندر سے خبریں ملتی ہیں۔ اِن معاملات میں کتنی حقیقت ہے۔ یہ تو یہ صاحبان جانتے ہیں یا اللہ تعالی' جانتا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ایک حقیقت جنرل صاحب اور عمران خان پہ اب آشکار ہو چُکی ہو کہ جھوٹے، جذباتی، سطحی اور غیر حقیقی بیانیے ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی قلعی ایک نہ ایک دِن اُتر جاتی ہے۔ اور پھر ناکامی انسان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ انسان یوٹرن لینے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی تو آپ کے پاس یوٹرن لینے کا موقع بھی نہیں ہوتا۔ اور آپ کھیل سے باہر ہو جاتے ہیں۔ دُنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اُڑان بھرنے سے پہلے اپنے پروں کی طاقت کا درست ادراک رکھتے ہوں۔ اور اُنہیں عِلم ہو کہ وہ کہاں تک اُڑ سکتے ہیں۔ جنرل صاحب سوچئے گا کہ آپ آرمی چیف بننے کے لیئے ہارٹ فیورٹ ہونے کے باوجود کھیل سے کیوں باہر ہوئے؟
خود کلامی اور خود احتسابی بہت اچھے اوصاف ہیں۔ آزما کے دیکھئے۔ اور ہو سکے تو اس بابت کوئی کتاب تحریر فرمائیے۔ تاکہ آنے والوں کی رہنمائی ہو سکے۔