استحکام پاکستان میں اداروں کا کردار

اس وقت ہرپاکستانی وطن عزیز کے حالات کے بارے میں متفکرنظر آتا ہے۔ چہار سُو غیر یقینی کی فضا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ایک ہمہ جہت انحطاط کا شکار ہے۔ معاشی ، معاشرتی اور سیاسی انتشار و تفریق اس وقت ہمارا مقدر ہے۔ اور ملک پہ عدم استحکام کے مہیب سائے ہیں۔

ان حالات کے پیدا ہونے میں اور حل کے بارے میں ہر کسی کی اپنی اپنی رائے ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ان مشکلات کا حل کسی ایک جماعت، ادارے یا فرد کے بس کی بات نہیں اس کے لئے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ جس میں معاشرے کے تمام طبقات اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔ کسی بھی معاشرے کے لئے عدلیہ ، مققنہ میڈیا اور دفاعی ادارے ضروری ہوتے ہیں۔ معاشرے کا عمرانی معاہدہ ان سب کی حدود طے کرتا ہے۔ ہمارے ہاں 1973 کے آئین میں ان تمام اکائیوں کی حدود طے کر دی گئی ہیں۔

پاکستان کا محل وقوع ، علاقائی اور سیاسی صورت حال مضبوط دفاع کی متقاضی ہے۔ اصولی طور پہ تو علاقائی تنازعات حل کئے جانے چاہئیں تاکہ دفاع پہ خرچ کی جانے والی رقم عوامی بہبود پہ خرچ کی جائے۔ لیکن علاقائی تنازعات کے بے شمار پہلو ہوتے ہیں جو حل میں رکاوٹ بنتےہیں۔ اس لئے مضبوط دفاع پاکستان کی ضرورت ہے۔ علاقائی مسائل حل ہو جائیں تو شاید اس کی ضرورت نہ رہے لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، یہ ہماری مجبوری ہے۔ آئین پاکستان مضبوط افواج کو صرف سیکیورٹی کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ باقی تمام معاملات کے لئے سپریم ادارہ پاکستان کی پارلیمنٹ ہے۔

پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہے۔ خارجہ اور داخلی امور کی دیکھ بھال، معاشی اور دفاعی پالیسی بنانا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ پارلیمنٹ ملک کی اجتماعی دانش کی مظہر ہوتی ہے۔ اور ملک میں پالیسی سازی کا استحقا ق رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ واحد ادارہ ہے جو قانون سازی اور پالیسی سازی کے لئے عوام کے مینڈیٹ سے تشکیل پاتا ہے۔ آئین پاکستان نے اس کی حدود مقرر کی ہیں۔ اسی طرح عدلیہ ہے۔ جس کا کام قانون کی تشریح اور اس کی روشنی میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ لیکن اس کے لئے قانون سازی پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ عدلیہ کو قانون سازی کا اختیار نہیں۔ میڈیا کے کردار اور حدود کا تعین بھی پارلیمنٹ ہی کرتی ہے۔ اب ہمارے ہاں کیا ہوا ہے کہ یہ تمام ادارے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اور اس تجاوز کی وجہ سے سارا نظام ہی درہم برہم ہو چکا ہے۔ آپ خود ہی سوچئے کہ اگر جوتے ہاتھوں پہ پہن لئے جائیں یا دستانے پاؤں پہ پہن لیں تو کیا ہو گا؟

انسان وہی معقول سمجھا جائے گا۔ جو جوتے پاؤں اور دستانے ہاتھوں پہ پہنے یا اگر گُردے سینے میں پیوند کر دیے جائیں ۔اور پھیپھڑے پیٹ میں ۔ تو کیا ایسا انسان زندہ رہ سکے گا۔ انسانی معاشرہ بھی انسانی جسم کی مانند ہے۔ جس کا ہر ادارہ اُس کا ایک عُضو ہے۔ جسم کےصحت مند ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جو عضو جہاں ہے وہیں رہے۔ اسی طرح استحکام پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ آئین پاکستان نے جس ادارے کے لئے جو کردار اور جو حدود مقرر کی ہیں وہ ادارہ اس کے اندر رہ کے کام کرے۔ عوام کا یہ کام ہے کہ ہم اصولوں کو ترجیح دیں۔ شخصیات کو آئینی اصولوں پہ پرکھیں نہ کہ اصولوں کو شخصیات پہ۔ ترجیح آئین و قانون کی ہے۔ شخصیات کی نہیں۔ شخصیات کو آئین و قانون کے تابع لائیں۔ جو شخصیت آئین کی پاسداری نہیں کرتی، وہ قابل مذمت ہے۔ استحکام پاکستان آئین کی سر بلندی، قانون کی پاسداری ، پارلیمنٹ کی بالا دستی اور اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کرنے سے منسلک ہے۔ ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ ہی اپنی اپنی آئینی حدود سے تجاوز ہے۔ آپ کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو، آپ کسی بھی سیاسی لیڈر کو سپورٹ کرتے ہوں۔ آپ کا مطمح نظر یہی ہونا چاہئے کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے۔ آئین ملک کی بنیادی اور اہم ترین دستاویز ہے۔ جو ان کے خلاف چلے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کے اس کی مخالفت کریں۔

یہ استحکام پاکستان کے لئے بنیادی شرط ہے۔ ہم جو پاکستانی بیرون ملک رہتے ہیں ۔ ہم حقیقی جمہوریتوں میں رہتے ہیں۔ ہم جمہوریت کی ثمرات سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کے غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کی مخالفت کریں۔ سیاسی اختلاف کے باوجود باہمی احترام ، برداشت اور تحمل سے ایک دوسرے کا موقف سُنیں۔ اور جو معاشرتی، سیاسی اور مذہبی انتشار اس وقت وطن عزیز میں ہے، اس سے اجتناب کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔