جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کے 17ویں سپہ سالار کے طور پر کمان سنبھال لی

  • منگل 29 / نومبر / 2022

جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کے 17 ویں سپہ سالار کے طور پر کمان سنبھال لی ہے۔ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان ان کے سپرد کی۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ پروقار تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل سید عاصم منیر نے یادگار شہدا پر حاضری دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 24 نومبر کو جنرل عاصم منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاک فوج کی کمان بدلنے کی تقریب کے آغاز میں یاد گار شہدا پر حاضری کے بعد پاک فوج کی مختلف رجمنٹس سے تعلق رکھنے والے دستوں نے پریڈ میں شرکت کی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر، مسلح افواج کے سابق و حاضر سربراہان ،اعلیٰ سول، فوجی حخام کے ساتھ ساتھ وفاقی وزرا، سفارت کاروں اور صحافیوں نے بھی شرکت کی۔

سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے تقریب کے شرکا سے خطاب کیا۔ تقریب سے بطور آرمی چیف اپنے آخری خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں عنقریب گم نامی میں چلا جاؤں گا لیکن میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج سے قائم رہے گا۔ پاک فوج کے ساتھ عمر بھر کی رفاقت پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ جس نے مجھے فوج میں خدمت کا موقع دیا اور بامقصد زندگی عطا کی۔

انہوں نے جنرل عاصم منیر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ان کی پروموشن ملک اور فوج کے لیے کامیابیوں کا باعث بنے گی۔ جنرل عاصم منیر سے میری رفاقت 24 سال پرانی ہے۔ جنرل عاصم منیر حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ  پیشہ ور، باصلاحیت اور اعلیٰ اصولوں کے کاربند افسر ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں فوج کامیابی کے منازل عبور کرے گی اور ان کی تعیناتی فوج اور ملک کے لیے مثبت ثابت ہو گی۔

آرمی چیف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں فوج ایک مایہ ناز اور قابل سپوت کے حوالے کر کے ریٹائر ہو رہا ہوں۔ آج سے 44سال قبل میرا فوجی سفر شروع ہوا تھا جو آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ناصرف اس بہادر اور عظیم فوج میں کام کرنے کا موقع دیا بلکہ اس مایہ ناز فوج کی کمان کا شرف بھی بخشا جو میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔

اس چھ سالہ دور میں لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی ہو یا ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، امن و امان کے چیلنجز ہوں یا قدرتی آفات کا مقابلہ، فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا اور جہاں میں نے ان سے پسینہ مانگا، انہوں نے مجھے خون دیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ انہی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان آج امن کا گہوارہ ہے۔ ہماری سپہ کی قربانیوں کا اعتراف ہمارے دوست اور دشمن دونوں کرتے ہیں۔ مجھے اپنی فوج پر فخر ہے جو اتنے کم وسائل سے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر تھر کے صحراؤں تک ملک کی جغرافیائی سرھدوں کی حفاظت کرتی ہے۔

 یہ فوج لسانیت، رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقت میں بھی یہ فوج جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت اور دفاع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر میں اپنی 16بلوچ رجمنٹ کا بھی نہایت مشکور ہوں کیونکہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں میرے یونٹ کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں بھی عنقریب گم نامی میں چلا جاؤں گا لیکن میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج سے قائم رہے گا۔ جب فوج کو کامیابی حاصل ہو گی تو مجھے خوشی ہو گی لیکن جب فوج پر مشکل وقت آئے گا تو یہ یقین رکھیے گا کہ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی۔

خطاب کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان کی چھڑی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سپرد کی۔ واضح رہے آرمی کمان کی یہ چھڑی انگریزوں کے دور سے فوجی روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔

کمانڈ اسٹک ون اسٹار یعنی بریگیڈیئر کے عہدے کے افسران کو سونپی جاتی ہے۔ یہ اسٹک افسران کو پرانے افسران کی جانب سے دی جاتی ہے، پرانے افسران آنے والے نئے افسر کو یہ چھڑی سونپ کر خود نئی چھڑی تھامے نئے عہدے پر ترقی کر جاتے ہیں اور یہ سلسلہ آرمی چیف پر جا کر ختم ہوتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ 6 سال آرمی چیف رہنے کے بعد آج اس عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس وقت سب سے سینئر ترین جنرل ہیں۔ انہیں ستمبر 2018 میں 3 اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے 2 ماہ بعد چارج سنبھالا تھا۔ جنرل سید عاصم منیر ایک بہترین افسر ہیں۔ وہ منگلا میں آفیسرز ٹریننگ اسکول پروگرام کے ذریعے سروس میں شامل ہوئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ اس وقت سے چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجودہ کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر 10 کور تھے۔

بعد ازاں انہیں 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر رہا کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے اصرار پر 8 ماہ کے اندر ہی ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر کردیا گیا تھا۔

جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جہاں اس عہدے پر وہ 2 سال تک فائز رہے تھے۔ پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو دو انٹیلی جنس ایجنسیوں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) کی قیادت کر چکے۔ اس کے علاوہ وہ پہلے کوارٹر ماسٹر جنرل ہیں جنہیں آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔