انگلینڈ اور ویلز میں آبادی میں کمی اور مسلم آبادی میں اضافہ
تازہ ترین مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں نصف سے کچھ ہی کم لوگ خود کو مسیحی خیال کرتے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کے سرکاری مذہب کی پیروکار آبادی اقلیت بن گئی ہے۔
برطانیہ کے قومی شماریاتی دفتر کی جانب سے 2021 کی مردم شماری کے مطابق گزشتہ دس سال کے عرصے میں ملک میں مذہبی افراد اور سفید فاموں کی تعداد گھٹ گئی ہے ۔انگلینڈ اور ویلز کی لگ بھگ 46 اعشاریہ 2 فیصد آبادی نے 2021 کی مردم شماری میں اپنا اندراج مسیحی کے طور پر کرایا، جب کہ دس سال قبل یہ شرح 59 اعشاریہ 3 فیصد تھی۔
مسلم آبادی کا تناسب 4 اعشاریہ 9 فیصد سے بڑھ کر 6 اعشاریہ 5 فیصد ہو گیا ہے۔ آبادی کے ایک اعشاریہ 7 فیصد نے اپنی شناخت ہندو کے طور پر ظاہر کی۔ دس سال قبل یہ شرح ایک اعشاریہ 5 فیصد تھی۔ مردم شماری کے نتائج کے مطابق 37 فیصدنے کہا کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے جب کہ 2011 میں کسی بھی مذہب کا پیروکار ہونے سے انکار کرنے والوں کی شرح 25 فی صد تھی۔
برطانیہ کے دوسرے حصوں اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ نے اپنی اپنی مردم شماری کے نتائج الگ سے جاری کیے ہیں۔ سیکولر ازم کے علمبرداروں نے کہا ہے کہ برطانوی معاشرے میں اس تبدیلی کے بعد مذہب کے حوالے سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ کے اسکول سرکاری مالی اعانت سے چلتے ہیں۔ اینجلیکن بشپس پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں بیٹھتے ہیں، اور بادشاہ عقیدے کا محافظ اور چرچ کا سپریم گورنر ہے۔
برطانیہ کے ایک فلاحی ادارے ہومنسٹس یو کے کے چیف ایکزیکٹو اینڈریو کوپسن نے کہا ہے کہ غیر مذہبی لوگوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافے نے برطانیہ کو یقینی طور پر کرہ ارض کا تقریباً سب سے کم مذہبی ملک بنا دیا ہے۔ ان نتائج کا سب سےاہم پہلو یہ ہے کہ آبادی اپنی ریاست سے کس قدر مختلف ہے ۔ یورپ میں کسی اور ملک میں ایسا مذہبی نظام نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ہاں ایک غیر مذہبی آبادی رکھنے کے باوجود ،قانون اور عوامی پالیسی کے اعتبار سے موجود ہے ۔
چرچ آف انگلینڈ کے ایک سب سے سینئر پادری یارک کے آرچ بشپ اسٹیفن کوٹریل نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار کچھ زیادہ حیران کن نہیں ہیں لیکن مسیحیوں کے لئے اس حوالے سے ایک چیلنج ہیں کہ وہ اپنے عقیدے کے فروغ کے لیے مزید محنت کریں ۔ہم اس دور کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں جب بہت سے لوگوں کی شناخت تقریباً خود بخود مسیحی کے طور پر ہو جاتی تھی ، لیکن دوسرے سروے مسلسل یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح وہی لوگ ابھی تک روحانی سچائی اور حکمت اور زندگی گزارنے کے لیے اقدار کا ایک مجموعے کی تلاش میں ہیں ۔